🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب القسامة:
باب: قسامت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1669 ترقیم شاملہ: -- 4348
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْهُمُ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ، فَتَفَرَّقُوا فِيهَا، فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلًا وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْ يُبْطِلَ دَمَهُ فَوَدَاهُ مِائَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ ".
سعید بن عبید نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں بشیر بن یسار انصاری نے سہل بن ابی حثمہ انصاری سے حدیث بیان کی، انہوں نے ان کو بتایا کہ ان (کے خاندان) میں سے چند لوگ خیبر کی طرف نکلے اور وہاں الگ الگ ہو گئے، بعد ازاں انہوں نے اپنے ایک آدمی کو قتل کیا ہوا پایا۔۔ اور انہوں نے (پوری) حدیث بیان کی اور اس میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند کیا کہ اس کے خون کو رائیگاں قرار دیں، چنانچہ آپ نے صدقے کے اونٹوں سے سو اونٹ اس کی دیت ادا فرما دی۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4348]
حضرت سہل بن ابی حثمہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان میں سے چند افراد خیبر کی طرف گئے اور وہاں بٹ گئے، تو انہوں نے اپنے میں سے ایک کو مقتول پایا، آگے مذکورہ بالا حدیث ہے، اور اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دینا پسند نہ فرمایا، تو اس کی دیت میں صدقہ کے سو اونٹ دئیے۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4348]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1669
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سهل بن أبي حثمة الأنصاري، أبو محمد، أبو يحيى، أبو عبد الرحمنصحابي صغير
👤←👥بشير بن يسار الحارثي، أبو كيسان
Newبشير بن يسار الحارثي ← سهل بن أبي حثمة الأنصاري
ثقة
👤←👥سعيد بن عبيد الطائي، أبو الهذيل
Newسعيد بن عبيد الطائي ← بشير بن يسار الحارثي
ثقة
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← سعيد بن عبيد الطائي
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة حافظ
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4348 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4348
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اولیائے مقتول نے،
بینہ پیش کرنے یا قسمیں اٹھانے یا یہود کی قسمیں قبول کرنے سے انکار کر دیا،
لیکن یہودیوں کو اس کا علم ہوا کہ ہم سے قسمیں لی جا سکتی ہیں،
تو وہ قسمیں اٹھانے کے لیے تیار ہو گئے،
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع بھیجی کہ ہم قسمیں دینے کے لیے تیار ہیں،
چونکہ وہ قسموں کے دینے پر آمادہ تھے،
اس لیے بعض روایات میں آیا ہے کہ انہوں نے قسمیں اٹھائیں،
لیکن چونکہ انصار ان کی قسموں کو قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوئے،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے قسمیں نہیں لیں،
اس لیے بعض روایات میں آیا ہے،
یہود نے قسمیں نہیں اٹھائیں۔
اس طرح دیت کا مسئلہ ہے،
جب یہود سے قسم قبول نہیں کی گئی تو ان سے دیت لینے کا مسئلہ بھی پس منظر میں چلا گیا،
لیکن یہود کو چونکہ خطرہ تھا کہ مقتول ہمارے علاقہ میں پایا گیا،
اس لیے انہوں نے اپنے طور پر کچھ اونٹ بھیج دئیے،
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قبول کر لیے اور دیت کی تکمیل اپنی طرف سے کی،
اور چونکہ مدعی علیہم قسم قبول نہیں کی گئی تھی،
اس لیے امام احمد کے قول کے مطابق ایسی صورت میں مقتول کی دیت،
بیت المال پر پڑتی ہے،
اس لیے اس کو بیت المال سے ادا کر دیا گیا،
چونکہ ادائیگی آپ کے حکم سے ہوئی تھی،
اس لیے یہ کہہ دیا گیا،
کہ آپ نے اپنی طرف سے دئیے،
اور چونکہ وہ اونٹ بیت المال سے ادا کیے گئے تھے،
اس لیے ان کو صدقہ کے اونٹ قرار دیا گیا،
اور بقول بعض وہ اونٹ صدقہ کے تھے،
لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیمت اپنی طرف سے ادا کی تھی،
یا صدقہ کے اونٹوں سے ادائیگی کے عوض ادھار لیے تھے،
کہ مال فے سے ادا کر دیں گے،
لیکن بظاہر امام احمد کا موقف ہی صحیح معلوم ہوتا ہے،
کہ مصالحت کے لیے بیت المال سے ادائیگی ہو سکتی ہے،
چاہے وہ اونٹ زکاۃ وغیرہ کے ہی کیوں نہ ہو۔
(فتح الباري،
ج 12،
ص 292)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4348]

Sahih Muslim Hadith 4348 in Urdu