علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب حد الخمر:
باب: شراب کی حد کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1707 ترقیم شاملہ: -- 4459
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
عبدالرحمان نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4459]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے سفیان کی مذکورہ بالا سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4459]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1707
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | ثقة ثبت |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4459 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4459
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اوپر ہم بتا چکے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں کسی ایک متعینہ چیز سے نہیں مارا جاتا تھا،
اس لیے شمار میں بھی کمی و بیشی ہو جاتی تھی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد مبارک میں کوڑوں کی تعیین کر دی گئی اور تعداد بھی متعین کر دی گئی،
اس لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے شرابی کی حد میں شرابی مرنا نہیں چاہیے اگر وہ مر جائے گا تو میں اس کی دیت دوں گا،
ائمہ کا اتفاق ہے کہ اگر کوئی انسان حد لگنے سے مر جائے گا تو اس پر دیت نہیں پڑے گی،
لیکن شراب نوشی کی حد میں اختلاف ہے،
امام شافعی کا قول ہے اگر حد میں کوڑے استعمال نہ ہوئے تو دیت نہیں ہے،
کوڑوں کی حد چالیس سے زائد لگائی گئی تو دیت نہیں ہے،
کوڑوں کی حد چالیس سے زائد لگائی گئی تو دیت پڑے گی۔
فتح الباری،
ج 12،
ص 83،
احناف اور مالکیہ کے نزدیک شراب نوشی کی حد اَسّی (80)
کوڑے ہیں،
ایک قول امام احمد کا بھی یہی ہے،
جس کو اکثر حنابلہ نے قبول کیا ہے،
امام اوزاعی،
اسحاق،
شعبی،
حسن بصری اور امام شافعی کا ایک قول یہی ہے،
لیکن امام شافعی کا مشہور قول یہی ہے کہ شراب نوشی کی حد چالیس کوڑے ہیں اور امام احمد کا ایک قول بھی یہی ہے۔
(المغني،
ج 12،
ص 498،
499۔
عمدۃ القاري،
ج 11،
ص 125)
فوائد ومسائل:
اوپر ہم بتا چکے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں کسی ایک متعینہ چیز سے نہیں مارا جاتا تھا،
اس لیے شمار میں بھی کمی و بیشی ہو جاتی تھی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد مبارک میں کوڑوں کی تعیین کر دی گئی اور تعداد بھی متعین کر دی گئی،
اس لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے شرابی کی حد میں شرابی مرنا نہیں چاہیے اگر وہ مر جائے گا تو میں اس کی دیت دوں گا،
ائمہ کا اتفاق ہے کہ اگر کوئی انسان حد لگنے سے مر جائے گا تو اس پر دیت نہیں پڑے گی،
لیکن شراب نوشی کی حد میں اختلاف ہے،
امام شافعی کا قول ہے اگر حد میں کوڑے استعمال نہ ہوئے تو دیت نہیں ہے،
کوڑوں کی حد چالیس سے زائد لگائی گئی تو دیت نہیں ہے،
کوڑوں کی حد چالیس سے زائد لگائی گئی تو دیت پڑے گی۔
فتح الباری،
ج 12،
ص 83،
احناف اور مالکیہ کے نزدیک شراب نوشی کی حد اَسّی (80)
کوڑے ہیں،
ایک قول امام احمد کا بھی یہی ہے،
جس کو اکثر حنابلہ نے قبول کیا ہے،
امام اوزاعی،
اسحاق،
شعبی،
حسن بصری اور امام شافعی کا ایک قول یہی ہے،
لیکن امام شافعی کا مشہور قول یہی ہے کہ شراب نوشی کی حد چالیس کوڑے ہیں اور امام احمد کا ایک قول بھی یہی ہے۔
(المغني،
ج 12،
ص 498،
499۔
عمدۃ القاري،
ج 11،
ص 125)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4459]
Sahih Muslim Hadith 4459 in Urdu
عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري