صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب معرفة العفاص والوكاء وحكم ضالة الغنم والإبل
باب: گمشدہ چیز کا اعلان کرنا اور بھٹکی ہوئی بکری اور اونٹ کے حکم کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1722 ترقیم شاملہ: -- 4501
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ , يَقُولُ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " فَاحْمَارَّ وَجْهُهُ وَجَبِينُهُ وَغَضِبَ " وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ: " ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ لَمْ يَجِئْ صَاحِبُهَا كَانَتْ وَدِيعَةً عِنْدَكَ ".
سلیمان بن بلال نے مجھے ربیعہ بن ابی عبدالرحمان رحمہ اللہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے منبعث رضی اللہ عنہ کے مولیٰ یزید سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔۔ اس کے بعد اسماعیل بن جعفر کی حدیث کی طرح بیان کیا، مگر انہوں نے کہا: ”تو آپ کا چہرہ اور پیشانی سرخ ہو گئے اور آپ غصہ ہوئے۔“ اور انہوں نے اس قول ”پھر ایک سال اس کی تشہیر کرو۔“ کے بعد۔۔ یہ اضافہ کیا: ”اگر اس کا مالک نہ آیا تو وہ تمہارے پاس امانت ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللقطة/حدیث: 4501]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد کی سند سے حدیث نمبر 4499 کی طرح بیان کرتے ہیں، مگر اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اور پیشانی سرخ ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور اس قول کے بعد کہ ”پھر ایک سال تک تشہیر کر،“ یہ اضافہ ہے: ”اگر اس کا مالک نہ آئے تو وہ تیرے پاس امانت ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللقطة/حدیث: 4501]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1722
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4501 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4501
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے اگر اٹھانے والا اس کو استعمال نہیں کرتا تو وہ اس کے پاس امانت کے طور پر ہو گی،
اگر اس کی کوتاہی اور غفلت کے بغیر ضائع ہو گئی تو وہ ذمہ دار نہیں ہو گا،
اگر کوتاہی کی تو ضامن ہو گا،
یعنی تاوان پڑے گا یا یہ معنی ہو گا تو اس کو امانت سمجھ کہ میں نے اسے ادا کرنا ہے،
خرچ کر دے گا تو ادائیگی نیت سے کرو گے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے اگر اٹھانے والا اس کو استعمال نہیں کرتا تو وہ اس کے پاس امانت کے طور پر ہو گی،
اگر اس کی کوتاہی اور غفلت کے بغیر ضائع ہو گئی تو وہ ذمہ دار نہیں ہو گا،
اگر کوتاہی کی تو ضامن ہو گا،
یعنی تاوان پڑے گا یا یہ معنی ہو گا تو اس کو امانت سمجھ کہ میں نے اسے ادا کرنا ہے،
خرچ کر دے گا تو ادائیگی نیت سے کرو گے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4501]
Sahih Muslim Hadith 4501 in Urdu
يزيد مولى المنبعث ← زيد بن خالد الجهني