صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
15. باب حكم الفيء:
باب: جو مال کافروں کا بغیر لڑائی کے ہاتھ آئے اس کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1756 ترقیم شاملہ: -- 4574
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا قَرْيَةٍ أَتَيْتُمُوهَا وَأَقَمْتُمْ فِيهَا، فَسَهْمُكُمْ فِيهَا وَأَيُّمَا قَرْيَةٍ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَإِنَّ خُمُسَهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ثُمَّ هِيَ لَكُمْ ".
ہمام بن منبہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، پھر انہوں نے چند احادیث ذکر کیں، ان میں سے یہ بھی تھی: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ جس بستی میں آؤ اور اس میں قیام کرو (بغیر جنگ کے تمہاری تحویل میں آ جائے) تو اس میں تمہارے لیے (دوسرے مسلمانوں کی طرح ایک) حصہ ہے اور جس بستی نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی (اور تم نے لڑ کر اسے حاصل کیا) تو اس کا خمس اللہ اور اس کے رسول کا حصہ ہے، پھر وہ (باقی سب) تمہارا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4574]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بستی میں جاؤ اور اس میں اقامت اختیار کرو تو اس میں تمہارا حصہ ہو گا اور جس بستی نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تو اس کا پانچواں حصہ، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، پھر وہ باقی مال تمہارا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4574]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1756
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
4574
| أيما قرية أتيتموها وأقمتم فيها فسهمكم فيها أيما قرية عصت الله ورسوله فإن خمسها لله ولرسوله ثم هي لكم |
سنن أبي داود |
3036
| أيما قرية أتيتموها وأقمتم فيها فسهمكم فيها أيما قرية عصت الله ورسوله فإن خمسها لله وللرسول ثم هي لكم |
صحيفة همام بن منبه |
139
| أيما قرية أتيتموها وأقمتم فيها فهي لكم أيما قرية عصت الله ورسوله فإن خمسها لله ورسوله ثم هي لكم |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4574 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4574
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
فئي:
واپس آنے اور لوٹنے کو کہتے ہیں،
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
(مَااَفَاءَ اللهُ عَليٰ رَسُولِه)
:
جو اموال اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پلٹا دیے اور اصطلاح کی رو سے اس مال کو کہتے ہیں،
جو کافروں سے جنگ کیے بغیر حاصل ہو جائے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
جس بستی پر مسلمان چڑھائی کیے بغیر کافروں پر غالب آ جائیں اور وہ صلح و صفائی سے مال حوالہ کر دیں تو وہ مال فئی ہو گا،
جو سارے کا سارا بیت المال میں جائے گا اور مسلمانوں کے مفادات میں استعمال ہو گا،
اس کو غنیمت کی طرح مجاہدوں میں تقسیم نہیں کیا جائے گا،
لیکن جس بستی کے لوگ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ برسرپیکار ہوں گے اور مسلمان ان پر بزور نازو،
جنگ کے ذریعہ غالب آئیں گے اور ان سے مال حاصل ہو گا تو وہ غنیمت کا مال شمار ہو گا،
اس سے پانچواں حصہ نکال کر باقی چار حصے مجاہدین میں تقسیم کر دئیے جائیں گے۔
مفردات الحدیث:
فئي:
واپس آنے اور لوٹنے کو کہتے ہیں،
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
(مَااَفَاءَ اللهُ عَليٰ رَسُولِه)
:
جو اموال اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پلٹا دیے اور اصطلاح کی رو سے اس مال کو کہتے ہیں،
جو کافروں سے جنگ کیے بغیر حاصل ہو جائے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
جس بستی پر مسلمان چڑھائی کیے بغیر کافروں پر غالب آ جائیں اور وہ صلح و صفائی سے مال حوالہ کر دیں تو وہ مال فئی ہو گا،
جو سارے کا سارا بیت المال میں جائے گا اور مسلمانوں کے مفادات میں استعمال ہو گا،
اس کو غنیمت کی طرح مجاہدوں میں تقسیم نہیں کیا جائے گا،
لیکن جس بستی کے لوگ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ برسرپیکار ہوں گے اور مسلمان ان پر بزور نازو،
جنگ کے ذریعہ غالب آئیں گے اور ان سے مال حاصل ہو گا تو وہ غنیمت کا مال شمار ہو گا،
اس سے پانچواں حصہ نکال کر باقی چار حصے مجاہدین میں تقسیم کر دئیے جائیں گے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4574]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3036
کافروں سے جنگ میں ہاتھ آ نے والی نیز سواد نامی علاقے کی زمینوں کو مصالح عامہ کے لیے روک رکھنے اور اسے غنیمت میں تقسیم نہ کرنے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بستی میں تم آؤ اور وہاں رہو تو جو تمہارا حصہ ہے وہی تم کو ملے گا ۱؎ اور جس بستی کے لوگوں نے اللہ و رسول کی نافرمانی کی (اور اسے تم نے زور و طاقت سے زیر کیا) تو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ و رسول کا نکال کر باقی تمہیں مل جائے گا (یعنی بطور غنیمت مجاہدین میں تقسیم ہو جائے گا)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3036]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بستی میں تم آؤ اور وہاں رہو تو جو تمہارا حصہ ہے وہی تم کو ملے گا ۱؎ اور جس بستی کے لوگوں نے اللہ و رسول کی نافرمانی کی (اور اسے تم نے زور و طاقت سے زیر کیا) تو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ و رسول کا نکال کر باقی تمہیں مل جائے گا (یعنی بطور غنیمت مجاہدین میں تقسیم ہو جائے گا)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3036]
فوائد ومسائل:
اس روایت سے بظاہر یہ مفہوم سمجھ میں آتا ہے۔
کہ قتال کے نتیجے میں حاصل ہونے والی اراضی خمس نکالنے کے بعد بطورغنیمت مجاہدین میں تقسیم کی جایئں۔
اور اوپر امام ابو دائود اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا موقف اس کے برعکس بیان ہوا ہے۔
اس میں جمع وتطبیق یہی ہے، جیسے کہ امام مالک کا قول ہے۔
کہ ایسی زمینوں کے بارے میں ان سب مسلمانوں کے اتفاق کے بعد جن میں یہ اراضی تقسیم ہونی ہیں، امام المسلمین تصرف کرسکتا ہے۔
اس روایت سے بظاہر یہ مفہوم سمجھ میں آتا ہے۔
کہ قتال کے نتیجے میں حاصل ہونے والی اراضی خمس نکالنے کے بعد بطورغنیمت مجاہدین میں تقسیم کی جایئں۔
اور اوپر امام ابو دائود اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا موقف اس کے برعکس بیان ہوا ہے۔
اس میں جمع وتطبیق یہی ہے، جیسے کہ امام مالک کا قول ہے۔
کہ ایسی زمینوں کے بارے میں ان سب مسلمانوں کے اتفاق کے بعد جن میں یہ اراضی تقسیم ہونی ہیں، امام المسلمین تصرف کرسکتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3036]
Sahih Muslim Hadith 4574 in Urdu
همام بن منبه اليماني ← أبو هريرة الدوسي