علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
17. باب كيفية قسمة الغنيمة بين الحاضرين:
باب: غنیمت کا مال کیوں کر تقسیم ہو گا۔
ترقیم عبدالباقی: 1762 ترقیم شاملہ: -- 4587
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي النَّفَلِ.
عبداللہ بن نمیر نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی اور انہوں نے یہ نہیں کہا: غنیمت میں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4587]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں اور اس میں فى النفل [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4587]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1762
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان | ثقة ثبت | |
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام عبد الله بن نمير الهمداني ← عبيد الله بن عمر العدوي | ثقة صاحب حديث من أهل السنة | |
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن محمد بن نمير الهمداني ← عبد الله بن نمير الهمداني | ثقة حافظ |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4587 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4587
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ گھوڑے کو دو حصے ملیں گے اور آدمی کو ایک حصہ،
اس طرح،
گھڑ سوار کے تین حصے ہوں گے،
ایک اپنا اور دو گھوڑے کے اور جن حدیثوں میں یہ ہے کہ فارس (گھڑ سوار)
کو دو حصے ہیں اور پیدل کا ایک حصہ،
ان کا معنی یہ ہے کہ وہ ایک اپنا حصہ لے گا اور ایک گھوڑے کا حصہ لے گا اور گھوڑے کا حصہ دوگنا ہے،
اس طرح حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی دونوں حدیثوں میں تعارض نہیں ہے اور جمہور کا یہی موقف ہے،
جس میں ائمہ حجاز (مالک،
شافعی،
احمد)
صاحبین (ابو یوسف،
محمد)
داخل ہیں،
تفصیل کے لیے دیکھیے المغنی،
ج 13،
ص 85۔
مسئلہ نمبر 1643۔
اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک گھوڑ سوار کو دو حصے ملیں گے،
ایک اپنا اور ایک گھوڑے کا اور گھوڑے کو بھی ایک ہی حصہ ملے گا،
دو نہیں ملیں گے۔
غلام رسول سعیدی صاحب لکھتے ہیں،
حاصل بحث یہ ہے کہ اس مسئلہ میں ائمہ ثلاثہ اور امام ابو یوسف اور امام محمد کا نظریہ بہت قوی ہے،
کیونکہ انہوں نے جن احادیث سے استدلال کیا ہے ان کی اسانید بلاشبہ ان احادیث کی اسانید سے زیادہ قوی ہیں،
جن سے امام ابو حنیفہ نے استدلال کیا ہے،
شرح صحیح مسلم،
ج 5،
ص 465۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ گھوڑے کو دو حصے ملیں گے اور آدمی کو ایک حصہ،
اس طرح،
گھڑ سوار کے تین حصے ہوں گے،
ایک اپنا اور دو گھوڑے کے اور جن حدیثوں میں یہ ہے کہ فارس (گھڑ سوار)
کو دو حصے ہیں اور پیدل کا ایک حصہ،
ان کا معنی یہ ہے کہ وہ ایک اپنا حصہ لے گا اور ایک گھوڑے کا حصہ لے گا اور گھوڑے کا حصہ دوگنا ہے،
اس طرح حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی دونوں حدیثوں میں تعارض نہیں ہے اور جمہور کا یہی موقف ہے،
جس میں ائمہ حجاز (مالک،
شافعی،
احمد)
صاحبین (ابو یوسف،
محمد)
داخل ہیں،
تفصیل کے لیے دیکھیے المغنی،
ج 13،
ص 85۔
مسئلہ نمبر 1643۔
اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک گھوڑ سوار کو دو حصے ملیں گے،
ایک اپنا اور ایک گھوڑے کا اور گھوڑے کو بھی ایک ہی حصہ ملے گا،
دو نہیں ملیں گے۔
غلام رسول سعیدی صاحب لکھتے ہیں،
حاصل بحث یہ ہے کہ اس مسئلہ میں ائمہ ثلاثہ اور امام ابو یوسف اور امام محمد کا نظریہ بہت قوی ہے،
کیونکہ انہوں نے جن احادیث سے استدلال کیا ہے ان کی اسانید بلاشبہ ان احادیث کی اسانید سے زیادہ قوی ہیں،
جن سے امام ابو حنیفہ نے استدلال کیا ہے،
شرح صحیح مسلم،
ج 5،
ص 465۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4587]
Sahih Muslim Hadith 4587 in Urdu
عبد الله بن نمير الهمداني ← عبيد الله بن عمر العدوي