یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
24. باب رد المهاجرين إلى الانصار منائحهم من الشجر والثمر حين استغنوا عنها بالفتوح:
باب: انصار نے جو مہاجرین کو دیا تھا وہ ان کو واپس ہونا جب اللہ تعالیٰ نے غنی کر دیا مہاجرین کو۔
ترقیم عبدالباقی: 1771 ترقیم شاملہ: -- 4604
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْقَيْسِيُّ كُلُّهُمْ، عَنْ الْمُعْتَمِرِ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَجُلًا، وَقَالَ حَامِدٌ، وَابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى " أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخْلاتِ مِنْ أَرْضِهِ، حَتَّى فُتِحَتْ عَلَيْهِ قُرَيْظَةُ، وَالنَّضِيرِ، فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ يَرُدُّ عَلَيِهِ مَا كَانَ أُعْطَاهُ، قَالَ أَنَسٌ: وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْأَلَهُ مَا كَانَ أَهْلُهُ أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ؟، وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَانِيهِنَّ فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتِ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي، وَقَالَتْ: وَاللَّهِ لَا نُعْطِيكَاهُنَّ وَقَدْ أَعْطَانِيهِنَّ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُمَّ أَيْمَنَ: اتْرُكِيهِ وَلَكِ كَذَا وَكَذَا، وَتَقُولُ: كَلَّا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَجَعَلَ يَقُولُ: كَذَا، حَتَّى أَعْطَاهَا عَشْرَةَ أَمْثَالِهِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ عَشْرَةِ أَمْثَالِهِ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ، حامد بن عمر بکراوی اور محمد بن عبدالاعلیٰ قیسی، سب نے معتمر سے حدیث بیان کی۔۔ الفاظ ابن ابی شیبہ کے ہیں۔ ہمیں معتمر بن سلیمان تیمی نے اپنے والد کے واسطے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ کوئی آدمی۔۔ جبکہ حامد اور عبدالاعلیٰ نے کہا: کوئی مخصوص آدمی۔۔ اپنی زمین سے کھجوروں کے کچھ درخت (فقرائے مہاجرین کی خبر گیری کے لیے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص کر دیتا تھا، حتی کہ قریظہ اور بنونضیر آپ کے لیے فتح ہو گئے تو اس کے بعد جو کسی نے آپ کو دیا تھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کرنا شروع کر دیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے گھر والوں نے مجھ سے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں اور آپ سے وہ سب یا اس کا کچھ حصہ مانگوں، جو ان کے گھر والوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کو دے دیا تھا۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے وہ سب کا سب مجھے دے دیا، اس پر ام ایمن رضی اللہ عنہا آئیں، میرے گلے میں کپڑا ڈالا اور کہنے لگیں: اللہ کی قسم! ہم وہ (درخت) تمہیں نہیں دیں گے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ ہمیں دے چکے ہیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام ایمن! اسے چھوڑ دو، اتنا اتنا تمہارا ہوا۔“ وہ کہتی تھیں: ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! اور آپ اسی طرح فرماتے رہے حتی کہ آپ نے اسے دس گنا یا تقریباً دس گنا عطا فرما دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4604]
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ کوئی آدمی اپنی زمین سے کچھ کھجوروں کے درخت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کر دیتا حتی کہ بنو قریظہ اور بنو نضیر کے علاقے فتح کر لیے گئے تو اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی کو جو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا، اس کو واپس کرنے لگے، حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں، میرے گھر والوں نے مجھے کہا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کروں کہ میرے گھر والوں نے آپ کو جو درخت دئیے تھے، وہ سب یا ان میں سے بعض واپس کر دیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ ام ایمن رضی اللہ تعالی عنہا کو دے چکے تھے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ درخت مجھے دے دئیے تو حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالی عنہا نے آ کر میرے گلے میں کپڑا ڈال لیا اور کہا، اللہ کی قسم! آپ وہ درخت تمہیں نہیں دے سکتے، جبکہ وہ مجھے دے چکے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام ایمن! اسے چھوڑ دے، میں تمہیں اتنے اتنے درخت دیتا ہوں۔“ اور وہ کہتی رہی ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے، اتنے لے لو حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس سے دس گنا یا اس سے دس گنا کے قریب درخت دئیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4604]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1771
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4030
| الرجل يجعل للنبي النخلات حتى افتتح قريظة والنضير فكان بعد ذلك يرد عليهم |
صحيح البخاري |
4120
| لك كذا وتقول كلا والله حتى أعطاها حسبت أنه قال عشرة أمثاله أو كما قال |
صحيح البخاري |
3128
| الرجل يجعل للنبي النخلات حتى افتتح قريظة والنضير فكان بعد ذلك يرد عليهم |
صحيح مسلم |
4604
| اتركيه ولك كذا وكذا وتقول كلا والذي لا إله إلا هو فجعل يقول كذا حتى أعطاها عشرة أمثاله أو قريبا من عشرة أمثاله |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4604 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4604
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
مہاجرین،
جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے،
تو ان کے مکانات اور جائیدادیں مکہ مکرمہ میں رہ گئیں تھی،
اس لیے انصار نے انہیں مکانات فراہم کیے اور انہیں اپنی زمینوں میں شریک کرنے کی پیش کش کی،
جس کو مہاجرین نے مزارعت بٹائی یا مساقات (باغبانی)
کی صورت میں قبول کیا،
لیکن کچھ لوگوں کو کھجوروں کے درختوں کا پھل ان کی ضرورت کے تحت منیحہ کی صورت میں دیا گیا اور جب بنو قریظہ کے علاقے فتح ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی جائیدادیں اور باغات مہاجرین میں تقسیم کر دئیے،
حضرت ام یمن نے یہ خیال کیا کہ مجھے تو درخت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عنایت فرمائے ہیں،
اس لیے یہ میرے ہیں،
حالانکہ ان کو پھلوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے دئیے گئے تھے،
چونکہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے بچپن میں آپ کی پرورش و پرداخت کی تھی،
اس لیے آپ نے اس کا لحاظ رکھتے ہوئے ان کا ناز برداشت کیا اور ان کو راضی کر کے،
درخت واپس دلوائے۔
فوائد ومسائل:
مہاجرین،
جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے،
تو ان کے مکانات اور جائیدادیں مکہ مکرمہ میں رہ گئیں تھی،
اس لیے انصار نے انہیں مکانات فراہم کیے اور انہیں اپنی زمینوں میں شریک کرنے کی پیش کش کی،
جس کو مہاجرین نے مزارعت بٹائی یا مساقات (باغبانی)
کی صورت میں قبول کیا،
لیکن کچھ لوگوں کو کھجوروں کے درختوں کا پھل ان کی ضرورت کے تحت منیحہ کی صورت میں دیا گیا اور جب بنو قریظہ کے علاقے فتح ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی جائیدادیں اور باغات مہاجرین میں تقسیم کر دئیے،
حضرت ام یمن نے یہ خیال کیا کہ مجھے تو درخت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عنایت فرمائے ہیں،
اس لیے یہ میرے ہیں،
حالانکہ ان کو پھلوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے دئیے گئے تھے،
چونکہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے بچپن میں آپ کی پرورش و پرداخت کی تھی،
اس لیے آپ نے اس کا لحاظ رکھتے ہوئے ان کا ناز برداشت کیا اور ان کو راضی کر کے،
درخت واپس دلوائے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4604]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3128
3128. حضرت انس بن مالک ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ انصاری کے آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھجوروں کے درخت مختص کردیتے تھے۔ جب بنو قریظہ اور بنونضیر کے علاقے فتح ہوگئے تو اس کے بعد آپ نے ان کے درخت ان کو واپس کردیے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3128]
حدیث حاشیہ:
جب مہاجرین اول اول مدینہ میں آئے تو اکثر نادار اور محتاج تھے‘ انصار نے اپنے باغات میں ان کو شریک کرلیا تھا‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کئی درخت گزرائے گئے تھے۔
جب بنی قریظہ اور نبی نضیر کے باغات بن لڑے بھڑے آنحضرت کے قبضے میں آئے تو وہ آپ کا مال تھے‘ مگر آپ نے ان سے کئی باغ مہاجرین میں تقسیم کردئے اور ان کو یہ حکم دیا کہ اب انصارکے باغ اور درخت جو انہوں نے تم کو ديے تھے‘ وہ ان کو واپس کردو‘ اور کئی باغ آپ نے خاص اپنے لئے رکھے۔
اس میں سے جہاد کا سامان کیا جاتا اور دوسری ضروریات مثلاً آپ کی بیویوں کا خرچہ وغیرہ پورے کئے جاتے‘ حضرت امام بخاری ؒنے یہ حدیث ذکر کرکے اسی پورے خرچ کی طرف اشارہ کیا ہے جس سے باب کا مطلب بخوبی نکلتاہے۔
(وحیدی)
جب مہاجرین اول اول مدینہ میں آئے تو اکثر نادار اور محتاج تھے‘ انصار نے اپنے باغات میں ان کو شریک کرلیا تھا‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کئی درخت گزرائے گئے تھے۔
جب بنی قریظہ اور نبی نضیر کے باغات بن لڑے بھڑے آنحضرت کے قبضے میں آئے تو وہ آپ کا مال تھے‘ مگر آپ نے ان سے کئی باغ مہاجرین میں تقسیم کردئے اور ان کو یہ حکم دیا کہ اب انصارکے باغ اور درخت جو انہوں نے تم کو ديے تھے‘ وہ ان کو واپس کردو‘ اور کئی باغ آپ نے خاص اپنے لئے رکھے۔
اس میں سے جہاد کا سامان کیا جاتا اور دوسری ضروریات مثلاً آپ کی بیویوں کا خرچہ وغیرہ پورے کئے جاتے‘ حضرت امام بخاری ؒنے یہ حدیث ذکر کرکے اسی پورے خرچ کی طرف اشارہ کیا ہے جس سے باب کا مطلب بخوبی نکلتاہے۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3128]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3128
3128. حضرت انس بن مالک ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ انصاری کے آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھجوروں کے درخت مختص کردیتے تھے۔ جب بنو قریظہ اور بنونضیر کے علاقے فتح ہوگئے تو اس کے بعد آپ نے ان کے درخت ان کو واپس کردیے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3128]
حدیث حاشیہ:
1۔
امام بخاری ؒنے یہ روایت انتہائی اختصار سے بیان کی ہے۔
قبل ازیں مفصل روایت ان الفاظ میں بیان ہوچکی ہے:
جب مہاجرین مکہ سے مدینہ آئے تو ان کے ساتھ کوئی سامان نہ تھا۔
چونکہ انصار زمینوں والے اور صاحب جائیدادتھے، اس لیے انھوں نے مہاجرین سے یہ معاملہ طے کرلیا کہ وہ باغات میں سے انھیں ہر سال پھل دیا کریں گے اور مہاجرین اس کے عوض ان کے باغات میں کام کریں گے۔
حضرت ام سلیم ؓنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجوروں کا ایک باغ ہدیہ دیا اور آپ نے وہ باغ حضرت ام ایمن ؓ کو دے دیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر سے فارغ ہوئے اورمدینہ طیبہ تشریف لائے تو مہاجرین نے ان کے تحائف واپس کردیے جوانھوں نے پھلوں کی صورت میں دے رکھے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس ؓ کی والدہ ام سلیم ؓ کا باغ بھی واپس کردیا اور حضرت ام ایمن ؓ کو اس کے عوض اپنے باغ سے کچھ درخت عنایت کردیے۔
(صحیح البخاري، الھبة و فضلھا والتحریض علیھا حدیث: 2630)
2۔
بہرحال ان روایات کا خلاصہ یہ ہے بنونضیر کی زمینیں فے کا مال تھیں جو خالص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھیں جنھیں آپ نے مہاجرین میں تقسیم کردیا اورانھیں حکم دیا کہ انصار نے جو باغات بطور ہمدردی انھیں دیے تھے وہ واپس کر دیں اور انصار کو اس مال فے سے کچھ نہ دیا۔
اس طرح دونوں فریق ایک دوسرے سے بے نیاز ہوگئے، پھر جب بنوقریظہ نے عہد شکنی کی تو ان کا محاصرہ ہوا۔
بالآخر وہ حضرت سعد بن معاذ ؓکے فیصلے پر راضی ہوئے تو ان کی جائیداد کو تمام صحابہ ؓ میں تقسیم کردیا اور اپنے حصے سے اپنی ضروریات مثلاً:
اہل وعیال کا نفقہ اور دیگرضروریات میں خرچ کرتے۔
1۔
امام بخاری ؒنے یہ روایت انتہائی اختصار سے بیان کی ہے۔
قبل ازیں مفصل روایت ان الفاظ میں بیان ہوچکی ہے:
جب مہاجرین مکہ سے مدینہ آئے تو ان کے ساتھ کوئی سامان نہ تھا۔
چونکہ انصار زمینوں والے اور صاحب جائیدادتھے، اس لیے انھوں نے مہاجرین سے یہ معاملہ طے کرلیا کہ وہ باغات میں سے انھیں ہر سال پھل دیا کریں گے اور مہاجرین اس کے عوض ان کے باغات میں کام کریں گے۔
حضرت ام سلیم ؓنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجوروں کا ایک باغ ہدیہ دیا اور آپ نے وہ باغ حضرت ام ایمن ؓ کو دے دیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر سے فارغ ہوئے اورمدینہ طیبہ تشریف لائے تو مہاجرین نے ان کے تحائف واپس کردیے جوانھوں نے پھلوں کی صورت میں دے رکھے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس ؓ کی والدہ ام سلیم ؓ کا باغ بھی واپس کردیا اور حضرت ام ایمن ؓ کو اس کے عوض اپنے باغ سے کچھ درخت عنایت کردیے۔
(صحیح البخاري، الھبة و فضلھا والتحریض علیھا حدیث: 2630)
2۔
بہرحال ان روایات کا خلاصہ یہ ہے بنونضیر کی زمینیں فے کا مال تھیں جو خالص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھیں جنھیں آپ نے مہاجرین میں تقسیم کردیا اورانھیں حکم دیا کہ انصار نے جو باغات بطور ہمدردی انھیں دیے تھے وہ واپس کر دیں اور انصار کو اس مال فے سے کچھ نہ دیا۔
اس طرح دونوں فریق ایک دوسرے سے بے نیاز ہوگئے، پھر جب بنوقریظہ نے عہد شکنی کی تو ان کا محاصرہ ہوا۔
بالآخر وہ حضرت سعد بن معاذ ؓکے فیصلے پر راضی ہوئے تو ان کی جائیداد کو تمام صحابہ ؓ میں تقسیم کردیا اور اپنے حصے سے اپنی ضروریات مثلاً:
اہل وعیال کا نفقہ اور دیگرضروریات میں خرچ کرتے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3128]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4030
4030. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ انصار کے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کچھ کھجوریں بطور تحفہ دے دیتے تھے، حتی کہ جب بنو قریظہ اور بنو نضیر کو آپ نے فتح کیا تو اس کے بعد آپ وہ کھجوریں واپس کر دیتے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4030]
حدیث حاشیہ:
1۔
حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ میرے اہلخانہ نے مجھے بھیجا تاکہ ہماری کھجوریں ہمیں واپس مل جائیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھجوریں ام ایمن ؓ کو دے دی تھیں۔
اتنے میں وہ بھی آگئیں اور میری گردن میں کپڑا ڈال کر کہنے لگیں:
اللہ کی قسم!یہ پھل تمھیں نہیں ملیں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عنایت کررکھے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دس گنا دینے کے وعدے پر وہ درخت ان سے واگزار فرمائے۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4120۔
)
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کی جلاوطنی کے بعد انصار سے فرمایا:
”اگر تم چاہوتو میں تمھیں اس مال فے سے حصہ دوں لیکن اس صورت میں مہاجرین تمہاری جائیدادوں پر قابض رہیں گے اور اگر تم چاہوتو مال فے سے انھیں حصہ دو، اس صورت میں وہ تمہارے مکانات اور باغات واپس کردیں گے۔
“ توا نھوں نے دوسری صورت کو اختیار کیا۔
(فتح الباري: 416/7)
1۔
حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ میرے اہلخانہ نے مجھے بھیجا تاکہ ہماری کھجوریں ہمیں واپس مل جائیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھجوریں ام ایمن ؓ کو دے دی تھیں۔
اتنے میں وہ بھی آگئیں اور میری گردن میں کپڑا ڈال کر کہنے لگیں:
اللہ کی قسم!یہ پھل تمھیں نہیں ملیں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عنایت کررکھے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دس گنا دینے کے وعدے پر وہ درخت ان سے واگزار فرمائے۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4120۔
)
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کی جلاوطنی کے بعد انصار سے فرمایا:
”اگر تم چاہوتو میں تمھیں اس مال فے سے حصہ دوں لیکن اس صورت میں مہاجرین تمہاری جائیدادوں پر قابض رہیں گے اور اگر تم چاہوتو مال فے سے انھیں حصہ دو، اس صورت میں وہ تمہارے مکانات اور باغات واپس کردیں گے۔
“ توا نھوں نے دوسری صورت کو اختیار کیا۔
(فتح الباري: 416/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4030]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4120
4120. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: صحابہ کرام ؓ اپنے باغات میں سے کچھ درخت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مقرر کر دیتے تھے یہاں تک کہ جب بنو قریظہ اور بنو نضیر کو فتح کیا تو میرے اہل خانہ نے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تاکہ میں آپ سے تمام یا کچھ کھجوروں کی واپسی کا مطالبہ کروں جو انہوں نے آپ کو دے رکھی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری کچھ کھجوریں حضرت ام ایمن ؓ کو دے رکھی تھیں۔ اس دوران میں وہ بھی تشریف لے آئیں تو انہوں نے میری گردن میں کپڑا ڈال کر کہا: قطعا نہیں، مجھے اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں! جو کھجوریں آپ نے مجھے عطا کی ہیں وہ تمہیں ہرگز واپس نہیں ملیں گی یا اس طرح کے کوئی اور کلمات کہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (ان سے یہ) فرماتے تھے: ”تمہیں ان کے عوض اتنے درخت دے دیتے ہیں۔“ لیکن وہ کہتیں: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! یہ کھجوریں تمہیں واپس نہیں کروں گی۔ (راوی حدیث معتمر کے والد گرامی سلیمان نے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:4120]
حدیث حاشیہ:
1۔
ہجرت کے بعد انصار مدینہ نے مہاجرین سے مواسات اور ہمدردی کرتے ہوئے اپنے کھجوروں کے باغات سے کچھ درخت وقتی طور پر نفع اٹھانے کے لیے انھیں دے دیے تھے۔
حضرت ام سلیم ؓ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چند درخت استعمال کے لیے دیے تھے۔
آپ نے ان میں سے کچھ درخت حضرت ام ایمن ؓ کو عطا فرمادیے۔
جب بنوقریظہ اور بنو نضیر کے باغات فتح ہوئے تو مہاجرین ان کے مالک بن گئے، اس لیے انصاری کی طرف سے وقتی طور پر عطا کر دہ درخت انھیں واپس کردیے گئے، لیکن حضرت ام ایمن ؓ نے یہ خیال کیا کہ وہ ان درختوں کی مالک ہیں، اس لیے انھوں نے وہ درخت واپس کرنے سے انکارکردیا۔
چونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش کرنے والی اورخدمت گزارتھیں۔
اس لیے حق حضانت کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بہت احترام کرتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وعدہ فرمایا کہ ان کھجوروں کے عوض تمھیں دس گنا کھجوریں دی جائیں گی تو انھوں نے وہ درخت واپس کردیے۔
2۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی چیز کا نفع ہبہ کرنا جائز ہے اگر چہ اصل چیز مالک اپنے پاس ہی رکھے۔
(فتح ا لباري: 513/7)
1۔
ہجرت کے بعد انصار مدینہ نے مہاجرین سے مواسات اور ہمدردی کرتے ہوئے اپنے کھجوروں کے باغات سے کچھ درخت وقتی طور پر نفع اٹھانے کے لیے انھیں دے دیے تھے۔
حضرت ام سلیم ؓ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چند درخت استعمال کے لیے دیے تھے۔
آپ نے ان میں سے کچھ درخت حضرت ام ایمن ؓ کو عطا فرمادیے۔
جب بنوقریظہ اور بنو نضیر کے باغات فتح ہوئے تو مہاجرین ان کے مالک بن گئے، اس لیے انصاری کی طرف سے وقتی طور پر عطا کر دہ درخت انھیں واپس کردیے گئے، لیکن حضرت ام ایمن ؓ نے یہ خیال کیا کہ وہ ان درختوں کی مالک ہیں، اس لیے انھوں نے وہ درخت واپس کرنے سے انکارکردیا۔
چونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش کرنے والی اورخدمت گزارتھیں۔
اس لیے حق حضانت کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بہت احترام کرتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وعدہ فرمایا کہ ان کھجوروں کے عوض تمھیں دس گنا کھجوریں دی جائیں گی تو انھوں نے وہ درخت واپس کردیے۔
2۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی چیز کا نفع ہبہ کرنا جائز ہے اگر چہ اصل چیز مالک اپنے پاس ہی رکھے۔
(فتح ا لباري: 513/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4120]
Sahih Muslim Hadith 4604 in Urdu
سليمان بن طرخان التيمي ← أنس بن مالك الأنصاري