صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
83. باب آخر اهل النار خروجا:
باب: جہنم سے جو آخری شخص نکلے گا۔
ترقیم عبدالباقی: 187 ترقیم شاملہ: -- 463
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" آخِرُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ، فَهْوَ يَمْشِي مَرَّةً، وَيَكْبُو مَرَّةً، وَتَسْفَعُهُ النَّارُ مَرَّةً، فَإِذَا مَا جَاوَزَهَا الْتَفَتَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: تَبَارَكَ الَّذِي نَجَّانِي مِنْكِ، لَقَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ، فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، فَلِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ، لَعَلِّي إِنَّ أَعْطَيْتُكَهَا سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ، وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا، وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ، لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الأُولَى، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ لِأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، وَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: لَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُكَ مِنْهَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا، فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا، وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ، لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْه، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الأُولَيَيْنِ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ لِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ، لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهَا، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَإِذَا أَدْنَاهُ مِنْهَا فَيَسْمَعُ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِيهَا؟ فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، مَا يَصْرِينِي مِنْكَ، أَيُرْضِيكَ أَنْ أُعْطِيَكَ الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا؟ قَالَ: يَا رَبِّ، أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟"، فَضَحِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّ أَضْحَكُ؟ فَقَالُوا: مِمَّ تَضْحَكُ؟ قَالَ: هَكَذَا ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: مِمَّ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: مِنْ ضِحْكِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، حِينَ قَالَ: أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟، فَيَقُولُ: إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ مِنْكَ، وَلَكِنِّي عَلَى مَا أَشَاءُ قَادِرٌ.
انس رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں سب سے آخر میں وہ آدمی داخل ہو گا جو کبھی چلے گا، کبھی چہرے کے بل گرے گا اور کبھی آگ سے جھلسا دے گی۔ جب وہ آگ سے نکل آئے گا تو پلٹ کر اس کو دیکھے گا اور کہے گا: بڑی برکت والی ہے وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے نجات دے دی۔ اللہ نے مجھے ایسی چیز عطا فرما دی جو اس نے اگلوں پچھلوں میں سے کسی کو عطا نہیں فرمائی۔ اسے بلندی پر ایک درخت کے قریب کر دیا جائے گا تاکہ میں اس کے سائے میں دھوپ سے نجات حاصل کروں اور اس کے پانی سے پیاس بجھاؤں۔ اس پر اللہ عزوجل فرمائے گا: اے ابن آدم! ہو سکتا ہے کہ میں تمہیں یہ درخت دے دوں تو تم مجھ سے اس کے سوا کچھ اور مانگو۔ وہ کہے گا: نہیں، اے میرے رب! اور اللہ کے ساتھ عہد کرے گا کہ وہ اس سے اور کچھ نہ مانگے گا۔ اس کا پروردگار اس کے عذر قبول کر لے گا کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہو گا جس پر وہ صبر کر ہی نہیں سکتا۔ تو اللہ تعالیٰ اسے اس (درخت) کے قریب کر دے گا اور وہ اس کے سائے میں دھوپ سے محفوظ ہو جائے گا اور اس کا پانی پیے گا، پھر اسے اوپر ایک اور درخت دکھایا جائے گا جو پہلے درخت سے زیادہ خوبصورت ہو گا تو وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے پانی سے سیراب ہوں اور اس کے سائے میں آرام کروں، میں تجھ سے اس کے سوا کچھ نہیں مانگوں گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! کیا تم نے مجھ سے وعدہ نہ کیا تھا کہ تم مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے؟ اور فرمائے گا: مجھے لگتا ہے اگر میں تمہیں اس کے قریب کر دوں تو تم مجھ سے کچھ اور بھی مانگو گے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرے گا کہ وہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگے گا، اس کا رب تعالیٰ اس کا عذر قبول کر لے گا، کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہو گا جس کے سامنے اس سے صبر نہیں ہو سکتا۔ اس پر اللہ اسے اس درخت کے قریب کر دے گا۔ وہ اس کے سائے کے نیچے آ جائے گا اور اس کے پانی سے پیاس بجھائے گا۔ اور پھر ایک درخت جنت کے دروازے کے پاس دکھایا جائے گا جو پہلے دونوں درختوں سے زیادہ خوبصورت ہو گا تو وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے سے فائدہ اٹھاؤں اور اس کے پانی سے پیاس بجھاؤں، میں تم سے اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! کیا تم نے میرے ساتھ وعدہ نہیں کیا تھا کہ اور کچھ نہیں مانگو گے؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں میرے رب! (وعدہ کیا تھا) بس یہی، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ اس کا رب اس کا عذر قبول کر لے گا کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہو گا جس پر وہ صبر کر ہی نہیں سکتا۔ تو وہ اس شخص کو اس (درخت) کے قریب کر دے گا تو وہ اہل جنت کی آوازیں سنے گا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس میں داخل کر دے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! وہ کیا چیز ہے جو تجھے راضی کر کے ہمارے درمیان سوالات کا سلسلہ ختم کر دے؟ کیا تم اس سے راضی ہو جاؤ گے کہ میں تمہیں ساری دنیا اور اس کے برابر اور دے دوں؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! کیا تو میری ہنسی اڑاتا ہے جبکہ تو سارے جہانوں کا رب ہے۔“ اس پر ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہنس پڑے اور کہا: کیا تم مجھ سے یہ نہیں پوچھو گے کہ میں کیوں ہنسا؟ سامعین نے پوچھا: آپ کیوں ہنسے؟ کہا: اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا تھا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”رب العالمین کے ہنس پڑنے پر، جب اس نے کہا کہ تو سارے جہانوں کا رب ہے، میری ہنسی اڑاتا ہے؟ اللہ فرمائے گا: میں تیری ہنسی نہیں اڑاتا بلکہ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 463]
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا آدمی، تو وہ کبھی چلے گا، کبھی چہرے کے بل گرے گا اور کبھی اسے آگ جھلسے گی، جب وہ آگ سے نکل جائے گا، پلٹ کر اس کو دیکھے گا، اور کہے گا: بڑی برکت والی ہے وہ ذات، جس نے مجھے تجھ سے نجات دی۔ اللہ نے مجھے ایسی نعمت عطا فرمائی ہے، جو پہلوں اور پچھلوں میں سے کسی ایک کو عطا نہیں کی۔ تو اسے ایک درخت دکھائی دے گا، تو وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے، تاکہ میں اس کے سایہ سے سایہ حاصل کروں، اور اس کے (پھلوں کا) پانی پیوں۔ تو اللہ عز و جل فرمائے گا: اے ابن آدم! ہو سکتا ہے اگر میں تیری درخواست پوری کر دوں، تو تو اور درخواست پیش کر دے۔ تو وہ کہے گا: نہیں، اے میرے رب! اور وہ اللہ سے اور سوال نہ کرنے کا معاہدہ کرے گا، اور اس کا رب اس کو معذور سمجھے گا، کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہوگا، جس پر صبر کرنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔ تو وہ اسے اس (درخت) کے قریب کر دے گا۔ تو وہ اس کے سایہ سے فائدہ اٹھائے گا اور اس کے پانی کو پیے گا۔ پھر اس کے سامنے ایک اور درخت ظاہر کیا جائے گا، جو پہلے سے زیادہ حسین ہوگا، تو وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس کے قریب کر دے، تاکہ میں اس کے سایہ سے آرام حاصل کر سکوں، اور اس کا پانی پیوں، میں تجھ سے کوئی اور سوال نہیں کروں گا۔ تو اللہ فرمائے گا: کیا تو نے مجھ سے معاہدہ نہیں کیا تھا، کہ میں اور سوال نہیں کروں گا اور فرمائے گا، ممکن ہے اگر میں تجھے اس کے قریب کردوں، تو تو اور سوال کردے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ سے عہد کرے گا، کہ وہ اس کے سوا سوال نہیں کرے گا، اور اس کا رب اس کا عذر قبول کر لے گا، کیونکہ وہ ایسی (چیز) نعمت دیکھ رہا ہے، جس کی (خواہش کیے) بغیر صبر نہیں ہو سکتا، تو وہ اسے اس کے قریب کر دے گا۔ وہ اس کے سایہ سے راحت حاصل کرے گا اور اس کا پانی پیے گا۔ پھر اس کو جنت کے دروازے کے پاس ایک درخت دکھائی دے گا، جو پہلے دونوں درختوں سے زیادہ خوبصورت ہوگا، تو وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے اس کے قریب کر دے، تاکہ میں اس کے سایہ سے آرام حاصل کروں، اور اس کا پانی پیوں، میں اور سوال نہیں کروں گا۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! کیا تو نے میرے ساتھ معاہدہ نہیں کیا تھا، کہ اور سوال نہیں کروں گا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں (معاہدہ کیا تھا) یہی سوال ہے اور سوال نہیں کروں گا۔ اس کا رب اس کو معذور سمجھے گا، کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہے، جس کے سوال کیے بغیر صبر نہیں ہو سکتا، تو وہ اسے اس کے قریب کر دے گا۔ تو جب وہ اسے اس کے قریب کر دے گا، تو وہ جنتیوں کی آوازیں سنے گا، تو کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس میں داخل کر دے، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! کون سی چیز تجھے مجھ سے سوال کرنے سے روک سکتی ہے؟ کیا تجھے یہ چیز راضی کر دے گی، کہ میں تجھے دنیا اور اس کے برابر دے دوں؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! تو رب العالمین ہو کر میرا مذاق اڑاتا ہے۔ اس پر ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہنس پڑے اور کہا: کیا تم مجھ سے یہ نہیں پوچھو گے، کہ میں کیوں ہنسا؟ تو سامعین نے پوچھا: آپ کیوں ہنسے؟ کہا اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنستے تھے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی بات پر رب العالمین کے ہنسنے کی بنا پر، کیا تو رب العالمین ہو کر میرے ساتھ مذاق کرتا ہے؟ تو اللہ فرمائے گا: میں مذاق نہیں کرتا، میں جو چاہوں کر سکتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 463]
ترقیم فوادعبدالباقی: 187
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (9188)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر أنس بن مالك الأنصاري ← عبد الله بن مسعود | صحابي | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان عفان بن مسلم الباهلي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← عفان بن مسلم الباهلي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 463 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 463
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
(1)
يَكْبُو مَرَّةً:
وہ اوندھے منہ گرے گا۔
(2)
تَسْفَعُ:
جھلس دے گی،
اس پر اثر انداز ہو گی۔
(3)
يَعْذِرُ:
ي پر زبر اور پیش دونوں آ سکتے ہیں،
معزور قرار دینا،
عذر قبول کرنا۔
(4)
يَصْرِينِي:
صری سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے،
کاٹنا یعنی:
کونسی چیز تیرے سوال کو روکے گی،
تجھے راضی کرے گی۔
فوائد ومسائل:
اس شخص کامکمل واقعہ تینوں حدیثوں کےمجموعہ سےسامنےآتاہے۔
مفردات الحدیث:
:
(1)
يَكْبُو مَرَّةً:
وہ اوندھے منہ گرے گا۔
(2)
تَسْفَعُ:
جھلس دے گی،
اس پر اثر انداز ہو گی۔
(3)
يَعْذِرُ:
ي پر زبر اور پیش دونوں آ سکتے ہیں،
معزور قرار دینا،
عذر قبول کرنا۔
(4)
يَصْرِينِي:
صری سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے،
کاٹنا یعنی:
کونسی چیز تیرے سوال کو روکے گی،
تجھے راضی کرے گی۔
فوائد ومسائل:
اس شخص کامکمل واقعہ تینوں حدیثوں کےمجموعہ سےسامنےآتاہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 463]
أنس بن مالك الأنصاري ← عبد الله بن مسعود