صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
84. باب ادنى اهل الجنة منزلة فيها:
باب: جنتوں میں سب سے کم تر درجہ والے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 188 ترقیم شاملہ: -- 464
حَدّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً، رَجُلٌ صَرَفَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنَ النَّارِ قِبَلَ الْجَنَّةِ، وَمَثَّلَ لَهُ شَجَرَةً ذَاتَ ظِلٍّ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، قَدِّمْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ، أَكُونُ فِي ظِلِّهَا "، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ، فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، مَا يَصْرِينِي مِنْكَ، إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ وَزَادَ فِيهِ، وَيُذَكِّرُهُ اللَّهُ: سَلْ كَذَا وَكَذَا، فَإِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الأَمَانِيُّ، قَالَ اللَّهُ: هُوَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ، قَالَ: ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتَهُ، فَتَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، فَتَقُولَانِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَاكَ لَنَا وَأَحْيَانَا لَكَ، قَالَ: فَيَقُولُ: مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُعْطِيتُ.
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جنت میں سب سے کم درجے پر وہ آدمی ہو گا جس کے چہرے کو اللہ تعالیٰ دوزخ کی طرف سے ہٹا کر جنت کی طرف کر دے گا اور اس کو ایک سایہ دار درخت کی صورت دکھائی جائے گی، وہ کہے گا: ’اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے میں ہو جاؤں‘ .....“ آگے انہوں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرح روایت بیان کی لیکن یہ الفاظ ذکر نہیں کیے: ”اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’اے آدم کے بیٹے! کیا چیز ہے جو تجھے راضی کر کے ہمارے درمیان سوالات کا سلسلہ ختم کر دے.....‘“ البتہ انہوں نے اس میں یہ اضافہ کیا: ”اور اللہ تعالیٰ اسے یاد دلاتا جائے گا: ’فلاں چیز مانگ، فلاں چیز طلب کر۔‘ اور جب اس کی آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’یہ سب کچھ تمہارا ہے اور اس سے دس گنا اور بھی۔‘“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہو گا اور خوبصورت آنکھوں والی حوروں میں اس کی دو بیویاں اس کے پاس آئیں گی اور کہیں گی: ’اللہ کی حمد جس نے تمہیں ہمارے لیے زندہ کیا اور ہمیں تمہارے لیے زندگی دی۔‘“ آپ نے فرمایا: ”تو وہ کہے گا: ’جو کچھ مجھے عنایت کیا گیا ہے ایسا کسی کو نہیں دیا گیا۔‘“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 464]
حضرت سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اہل جنت میں سے سب سے کم مرتبہ وہ آدمی ہوگا، کہ اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو دوزخ سے جنت کی طرف پھیر دے گا، اور اس کو ایک سایہ دار درخت کی صورت نظر آئے گی، تو وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے میں، اس کے سایہ میں رہوں گا۔“ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرح حدیث بیان کی اور یہ الفاظ بیان نہیں کیے: ”کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! تجھے مجھ سے مانگنے سے کون سی چیز روک سکتی ہے...۔“ آخر تک، اور اس میں اتنا اضافہ ہے ”اور اللہ تعالیٰ اسے یاد دلائے گا، فلاں فلاں چیز کا سوال کر! اور جب اس کی آرزوئیں ختم ہو جائیں گی، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ سب کچھ تجھے ملے گا اور اس سے دس گنا زائد۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوگا، اور حور العین سے اس کی دونوں بیویاں اس کے پاس آئیں گی اور کہیں گی: شکر کے لائق وہ اللہ ہے جس نے تجھے ہمارے لیے زندہ کیا، اور ہمیں تیرے لیے زندگی دی۔ آپ نے فرمایا: تو وہ کہے گا: جو کچھ مجھے عنایت کیا گیا ہے، وہ کسی ایک کو نہیں دیا گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 464]
ترقیم فوادعبدالباقی: 188
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (4392)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 464 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 464
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
(1)
مَثَّلَ لَهُ:
اس کے لیے شکل و صورت بنائے گا۔
(2)
أَمَانِيّ:
أُمْنِيَةٌ کی جمع ہے،
آرزو،
خواہش،
تمنا۔
فوائد ومسائل:
جنت ایک ایسی جگہ ہے،
جہاں ہرانسان اپنےاپنےمقام ومرتبہ پرمطمئن ہوگا،
اورسمجھےگا اللہ تعالیٰ کی سب سےزیادہ عنایات اورنعمتیں مجھےہی حاصل ہیں،
کوئی ایک ان میں میرے برابرنہیں ہے۔
جبکہ دنیامیں هل من مزيد کی تمنا اورآرزوکبھی ختم نہیں ہوتی۔
إلا ماشاءالله!
مفردات الحدیث:
:
(1)
مَثَّلَ لَهُ:
اس کے لیے شکل و صورت بنائے گا۔
(2)
أَمَانِيّ:
أُمْنِيَةٌ کی جمع ہے،
آرزو،
خواہش،
تمنا۔
فوائد ومسائل:
جنت ایک ایسی جگہ ہے،
جہاں ہرانسان اپنےاپنےمقام ومرتبہ پرمطمئن ہوگا،
اورسمجھےگا اللہ تعالیٰ کی سب سےزیادہ عنایات اورنعمتیں مجھےہی حاصل ہیں،
کوئی ایک ان میں میرے برابرنہیں ہے۔
جبکہ دنیامیں هل من مزيد کی تمنا اورآرزوکبھی ختم نہیں ہوتی۔
إلا ماشاءالله!
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 464]
النعمان بن أبي عياش الزرقي ← أبو سعيد الخدري