🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب الوفاء بالعهد:
باب: اقرار کو پورا کرنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1787 ترقیم شاملہ: -- 4639
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ ، حَدَّثَنَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ ، قَالَ: " مَا مَنَعَنِي أَنْ أَشْهَدَ بَدْرًا إِلَّا أَنِّي خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِي حُسَيْلٌ، قَالَ: فَأَخَذَنَا كُفَّارُ قُرَيْشٍ، قَالُوا: إِنَّكُمْ تُرِيدُونَ مُحَمَّدًا، فَقُلْنَا: مَا نُرِيدُهُ مَا نُرِيدُ إِلَّا الْمَدِينَةَ، فَأَخَذُوا مِنَّا عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ، لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَى الْمَدِينَةِ وَلَا نُقَاتِلُ مَعَهُ، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ فَقَالَ: انْصَرِفَا نَفِي لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ وَنَسْتَعِينُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ ".
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ بدر میں میرے شامل نہ ہونے کی وجہ صرف یہ تھی کہ میں اور میرے والد حسیل رضی اللہ عنہ (جو یمان کے لقب سے معروف تھے) دونوں نکلے تو ہمیں کفار قریش نے پکڑ لیا اور کہا: تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانا چاہتے ہو؟ ہم نے کہا: ان کے پاس جانا نہیں چاہتے، ہم تو صرف مدینہ منورہ جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ہم سے اللہ کے نام پر یہ عہد اور میثاق لیا کہ ہم مدینہ جائیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جنگ نہیں کریں گے، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو یہ خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں لوٹ جاؤ، ہم ان سے کیا ہوا عہد پورا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4639]
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے جنگ بدر میں شرکت سے صرف اس چیز نے روکا کہ میں اور میرا باپ حسیل (یمان کا نام ہے) دونوں نکلے تو ہمیں کافر قریشیوں نے پکڑ لیا اور کہنے لگے، تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانا چاہتے ہو؟ تو ہم نے کہا، ہم اس کے پاس نہیں جانا چاہتے، ہم تو صرف مدینہ جانا چاہتے ہیں تو انہوں نے ہم سے اللہ کے نام پر عہد اور پیمان لیا کہ ہم مدینہ کی طرف لوٹ جائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جنگ میں حصہ نہیں لیں گے تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقت حال سے آگاہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واپس چلے جاؤ، ہم ان سے کیا ہوا عہد پورا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کریں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4639]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1787
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حذيفة بن اليمان العبسي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥عامر بن واثلة الليثي، أبو الطفيل
Newعامر بن واثلة الليثي ← حذيفة بن اليمان العبسي
له إدراك
👤←👥الوليد بن عبد الله الزهري
Newالوليد بن عبد الله الزهري ← عامر بن واثلة الليثي
صدوق حسن الحديث
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← الوليد بن عبد الله الزهري
ثقة ثبت
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4639 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4639
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتاہے کہ کفار سے کیا گیا عہدوپیمان پورا کیا جائے گا اور کافروں کو یہ طعنہ دینے کا موقعہ نہیں دیا جائے گا کہ مسلمان عہد توڑتے ہیں،
اگرچہ اس عہد کی پابندی ضروری نہیں ہے،
کیونکہ امام کے ساتھ مل کافروں سے جہاد کرنا دینی فریضہ ہے،
اس لیے امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کا نظریہ یہ ہے کہ اگر مسلمان قیدی کافروں سے عہد کرلے،
میں بھاگوں گا نہیں تو اس پر اس عہدکی پابندی ضروری نہیں ہے،
اسے اگر بھاگنے کا موقعہ ملے تو وہ بھاگ سکتا ہے،
لیکن امام مالک کے نزدیک حدیث کا ظاہری تقاضا یہی ہے کہ عہد کی پابندی ضروری ہے،
ہاں اگر وہ اس سے جبرا قسم لیں کہ وہ بھاگے گا نہیں تو جبر کی بنا پر اس قسم کا اعتبار نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4639]