صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب فضيلة الإمام العادل وعقوبة الجائر والحث على الرفق بالرعية والنهي عن إدخال المشقة عليهم:
باب: حاکم عادل کی فضیلت اور حاکم ظالم کی برائی۔
ترقیم عبدالباقی: 1827 ترقیم شاملہ: -- 4721
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو بَكْرٍ: يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ اللَّهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا ".
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب اور ابن نمیر تینوں نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمرو بن اوس سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، ابن نمیر اور ابوبکر نے کہا: انہوں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، زہیر کی حدیث میں ہے (عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عدل کرنے والے اللہ کے ہاں رحمٰن عزوجل کی دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے اور اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں، یہ وہی لوگ ہوں گے جو اپنے فیصلوں، اپنے اہل و عیال اور جن کے یہ ذمہ دار ہیں ان کے معاملے میں عدل کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4721]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عدل و انصاف کرنے والے حکمران اللہ کے ہاں، رحمٰن عزوجل کے دائیں طرف، نور کے منبروں پر ہوں گے اور اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے فیصلوں میں، اپنے اہل و عیال اور اپنی رعایا کے ساتھ عدل کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4721]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1827
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4721 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4721
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جو لوگ اپنے اہل وعیال اور دوسری رعایا کے سلسلہ میں عدل و انصاف سے کام لیتے ہیں،
انہیں قیامت کے دن یہ اعزاز حاصل ہوگا،
کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی دائیں طرف اور اس کے دونوں ہاتھ،
ہی خیرو برکت والے ہیں،
کیونکہ اس کی شان ومقام کے مناسب ہیں،
نور کے ممبر ملیں گے،
جن پر وہ تشریف فرما ہوں گے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جو لوگ اپنے اہل وعیال اور دوسری رعایا کے سلسلہ میں عدل و انصاف سے کام لیتے ہیں،
انہیں قیامت کے دن یہ اعزاز حاصل ہوگا،
کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی دائیں طرف اور اس کے دونوں ہاتھ،
ہی خیرو برکت والے ہیں،
کیونکہ اس کی شان ومقام کے مناسب ہیں،
نور کے ممبر ملیں گے،
جن پر وہ تشریف فرما ہوں گے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4721]
Sahih Muslim Hadith 4721 in Urdu
عمرو بن أوس الطائي ← عبد الله بن عمرو السهمي