🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب فضيلة الإمام العادل وعقوبة الجائر والحث على الرفق بالرعية والنهي عن إدخال المشقة عليهم:
باب: حاکم عادل کی فضیلت اور حاکم ظالم کی برائی۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1828 ترقیم شاملہ: -- 4723
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
جریر بن حازم نے حرملہ مصری سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن شماسہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4723]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4723]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1828
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن شماسة المهري، أبو عبد الله، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن شماسة المهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥حرملة بن عمران التجيبي، أبو حفص
Newحرملة بن عمران التجيبي ← عبد الرحمن بن شماسة المهري
ثقة
👤←👥جرير بن حازم الأزدي، أبو النضر
Newجرير بن حازم الأزدي ← حرملة بن عمران التجيبي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← جرير بن حازم الأزدي
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥محمد بن حاتم السمين، أبو عبد الله
Newمحمد بن حاتم السمين ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
صدوق ربما وهم وكان فاضلا
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4723 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4723
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
کسی عداوت ودشمنی کی بنا پر یا نامناسب مسلوں سے اشتعال میں آ کر کسی کے فضل و کمال یا خوبی کے اعتراف سے بخل سے کام نہیں لینا چاہیے،
حضرت محمد بن ابی بکر کو قتل کر دیا گیا تھا اور کس طرح قتل کیا گیا،
اس میں اختلاف ہے،
ایک قول ہے،
میدان جنگ میں قتل کیے گئے،
دوسرا قول ہے،
وہ حضرت عمرو بن عاص کے پاس لایا گیا،
انہوں نے قتل کروایا،
کیونکہ وہ قاتلین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے،
تفصیل کے لیے الاستيعاب علی هامش الاصابة ج (3)
ص (349)
۔
(348)
مطبعہ دارالفکر بیروت دیکھئے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4723]