صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب فضيلة الإمام العادل وعقوبة الجائر والحث على الرفق بالرعية والنهي عن إدخال المشقة عليهم:
باب: حاکم عادل کی فضیلت اور حاکم ظالم کی برائی۔
ترقیم عبدالباقی: 1828 ترقیم شاملہ: -- 4723
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
جریر بن حازم نے حرملہ مصری سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن شماسہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4723]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4723]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1828
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4723 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4723
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
کسی عداوت ودشمنی کی بنا پر یا نامناسب مسلوں سے اشتعال میں آ کر کسی کے فضل و کمال یا خوبی کے اعتراف سے بخل سے کام نہیں لینا چاہیے،
حضرت محمد بن ابی بکر کو قتل کر دیا گیا تھا اور کس طرح قتل کیا گیا،
اس میں اختلاف ہے،
ایک قول ہے،
میدان جنگ میں قتل کیے گئے،
دوسرا قول ہے،
وہ حضرت عمرو بن عاص کے پاس لایا گیا،
انہوں نے قتل کروایا،
کیونکہ وہ قاتلین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے،
تفصیل کے لیے الاستيعاب علی هامش الاصابة ج (3)
ص (349)
۔
(348)
مطبعہ دارالفکر بیروت دیکھئے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
کسی عداوت ودشمنی کی بنا پر یا نامناسب مسلوں سے اشتعال میں آ کر کسی کے فضل و کمال یا خوبی کے اعتراف سے بخل سے کام نہیں لینا چاہیے،
حضرت محمد بن ابی بکر کو قتل کر دیا گیا تھا اور کس طرح قتل کیا گیا،
اس میں اختلاف ہے،
ایک قول ہے،
میدان جنگ میں قتل کیے گئے،
دوسرا قول ہے،
وہ حضرت عمرو بن عاص کے پاس لایا گیا،
انہوں نے قتل کروایا،
کیونکہ وہ قاتلین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے،
تفصیل کے لیے الاستيعاب علی هامش الاصابة ج (3)
ص (349)
۔
(348)
مطبعہ دارالفکر بیروت دیکھئے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4723]
عبد الرحمن بن شماسة المهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق