صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
84. باب ادنى اهل الجنة منزلة فيها:
باب: جنتوں میں سب سے کم تر درجہ والے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 195 ترقیم شاملہ: -- 482
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفِ بْنِ خَلِيفَةَ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبُو مَالِكٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَجْمَعُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى النَّاسَ، فَيَقُومُ الْمُؤْمِنُونَ، حَتَّى تُزْلَفَ لَهُمُ الْجَنَّةُ، فَيَأْتُونَ آدَمَ، فَيَقُولُونَ: يَا أَبَانَا، اسْتَفْتِحْ لَنَا الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: وَهَلْ أَخْرَجَكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ، إِلَّا خَطِيئَةُ أَبِيكُمْ آدَمَ، لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ، اذْهَبُوا إِلَى ابْنِي إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ اللَّهِ، قَالَ: فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ، إِنَّمَا كُنْتُ خَلِيلًا مِنْ وَرَاءَ، وَرَاءَ، اعْمِدُوا إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ، الَّذِي كَلَّمَهُ اللَّهُ تَكْلِيمًا، فَيَأْتُونَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ، اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى، كَلِمَةِ اللَّهِ وَرُوحِهِ، فَيَقُولُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ، فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُومُ فَيُؤْذَنُ لَهُ، وَتُرْسَلُ الأَمَانَةُ وَالرَّحِمُ، فَتَقُومَانِ جَنَبَتَيِ الصِّرَاطِ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَيَمُرُّ أَوَّلُكُمْ كَالْبَرْقِ، قَالَ: قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَيُّ شَيْءٍ كَمَرِّ الْبَرْقِ؟ قَالَ: أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْبَرْقِ كَيْفَ يَمُرُّ وَيَرْجِعُ فِي طَرْفَةِ عَيْنٍ، ثُمَّ كَمَرِّ الرِّيحِ، ثُمَّ كَمَرِّ الطَّيْرِ وَشَدِّ الرِّجَالِ تَجْرِي بِهِمْ أَعْمَالُهُمْ، وَنَبِيُّكُمْ قَائِمٌ عَلَى الصِّرَاطِ؟ يَقُولُ: رَبِّ سَلِّمْ، سَلِّمْ، حَتَّى تَعْجِزَ أَعْمَالُ الْعِبَادِ، حَتَّى يَجِيءَ الرَّجُلُ، فَلَا يَسْتَطِيعُ السَّيْرَ إِلَّا زَحْفًا، قَالَ: وَفِي حَافَتَيِ الصِّرَاطِ كَلَالِيبُ مُعَلَّقَةٌ مَأْمُورَةٌ بِأَخْذِ مَنْ أُمِرَتْ بِهِ، فَمَخْدُوشٌ نَاجٍ، وَمَكْدُوسٌ فِي النَّارِ "، وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ، إِنَّ قَعْرَ جَهَنَّمَ لَسَبْعُونَ خَرِيفًا.
محمد بن فضیل نے کہا: ہمیں ابومالک اشجعی نے حدیث سنائی، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز ابومالک نے ربعی بن حراش سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، ان دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تبارک وتعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا تو مومن کھڑے ہو جائیں گے یہاں تک کہ جنت ان کے قریب کر دی جائے گی اور وہ آدم علیہ السلام کے پاس آکر عرض کریں گے: ’اے والد بزرگ! ہمارے لیے جنت کا دروازہ کھلوائیے۔‘ وہ جواب دیں گے: ’کیا جنت سے تمہیں نکالنے کا سبب تمہارے باپ آدم کی خطا کے علاوہ کوئی اور چیز بنی تھی؟ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں۔ میرے بیٹے، اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔‘ آپ نے فرمایا: ”ابراہیم علیہ السلام کہیں گے: ’اس کام (کو کرنے) والا میں نہیں ہوں، میں خلیل تھا (مگر اولین شفاعت کے اس منصب سے) پیچھے پیچھے۔ تم موسیٰ علیہ السلام کا رخ کرو، جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا۔‘ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ جواب دیں گے: ’اس کام (کو کرنے) والا میں نہیں ہوں۔ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔‘ عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: ’میں اس کام (کو کرنے) والا نہیں ہوں۔‘ تو لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے۔ آپ اللہ کے سامنے قیام فرمائیں گے اور آپ کو (شفاعت کی) اجازت دی جائے گی۔ امانت اور قرابت داری کو بھیجا جائے گا، وہ پل صراط کی دونوں جانب دائیں اور بائیں کھڑی ہو جائیں گی۔ تم میں سے اولین شخص بجلی کی طرح گزر جائے گا۔“ میں نے پوچھا: ’میرے ماں باپ آپ پر قربان! بجلی کے گزرنے کی طرح کیا ہے؟‘ آپ نے فرمایا: ”تم نے کبھی بجلی کی طرف نہیں دیکھا، کس طرح پلک جھپکنے میں گزرتی اور لوٹتی ہے؟ پھر ہوا کے گزرنے کی طرح (تیزی سے)، پھر پرندہ گزرنے اور آدمی کے دوڑنے کی طرح، ان کے اعمال ان کو لے کر دوڑیں گے اور تمہارا نبی پل صراط پر کھڑا ہوا کہہ رہا ہو گا: ’اے میرے رب! بچا، بچا (میری امت کے ہر گزرنے والے کو سلامتی سے گزار دے۔)‘ حتیٰ کہ بندوں کے اعمال ان کو لے کر گزر نہ سکیں گے یہاں تک کہ ایسا آدمی آئے گا جس میں گھسٹ گھسٹ کر چلنے سے زیادہ کی استطاعت نہ ہو گی۔“ آپ نے فرمایا: ”(پل) صراط کے دونوں کناروں پر لوہے کے آنکڑے معلق ہوں گے، وہ اس بات پر مامور ہوں گے کہ جن لوگوں کے بارے میں حکم ہو ان کو پکڑ لیں، اس طرح بعض زخمی ہو کر نجات پا جائیں گے اور بعض آگ میں دھکیل دیے جائیں گے۔“ ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے! جہنم کی گہرائی ستر سال (کی مسافت) کے برابر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 482]
حضرت ابوہریرہ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا، تو مومن کھڑے ہوں گے حتیٰ کہ جنت ان کے قریب کر دی جائے گی اور وہ آدم علیہ السلام کے پاس آکر عرض کریں گے: اے ہمارے ابا جان! ہمارے لیے جنت کا دروازہ کھلوائیے! تو وہ جواب دیں گے: تمہیں جنت سے تمہارے باپ آدم کی خطا ہی نے تو نکالا ہے، یہ کام کرنے والا میں نہیں ہوں۔ میرے بیٹے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس جاؤ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابراہیم علیہ السلام بھی فرمائیں گے: یہ کام کرنے والا میں نہیں ہوں، میں تو پرے پرے (خلیل) رہا ہوں، موسیٰ علیہ السلام کا رخ کرو! جن سے اللہ تعالیٰ نے حقیقتاً گفتگو فرمائی۔ تو لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، تو وہ جواب دیں گے: یہ میرا منصب نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی روح اور اس کے کلمہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ! تو عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: یہ میرا مقام نہیں ہے، تو لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوں گے اور آپ کو (سفارش کی) اجازت مل جائے گی۔ امانت اور رشتہ داری کو بھیجا جائے گا، وہ پل کے دائیں اور بائیں کھڑے ہو جائیں گے۔ تم میں سے پہلا شخص بجلی کی تیزی سے گزر جائے گا۔“ تو میں نے پوچھا: آپ پر میرے ماں باپ قربان! بجلی کی تیزی سے گزرنے کی طرح کون سی شے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کبھی بجلی کی طرف نہیں دیکھا؟ کس طرح پلک جھپکنے کی طرح گزرتی اور لوٹتی ہے۔ پھر ہوا کے گزرنے کی طرح (تیزی سے)، پھر جس طرح پرندہ گزرتا ہے، اور آدمی دوڑتے ہیں۔ ان کے اعمال ان کو دوڑائیں گے (اپنے اپنے عملوں کے موافق تیزی سے گزریں گے) اور تمہارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پل صراط پر کھڑا ہو کر کہہ رہا ہو گا: «رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ» ”اے میرے رب! بچا! بچا!“ حتیٰ کہ بندوں کے اعمال عاجز آ جائیں گے، یہاں تک کہ ایک آدمی آئے گا، وہ گھسٹ کر ہی چل سکے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پل صراط کے دونوں کناروں پر لوہے کے آنکڑے لٹک رہے ہوں گے، جن کے بارے میں حکم ہو گا: وہ لوگوں کو پکڑیں گے، تو بعض زخمی ہو کر نجات پا جائیں گے اور بعض کو اوندھا کر کے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔“ اور اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے، جہنم کی گہرائی ستر سال کی مسافت کے برابر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 482]
ترقیم فوادعبدالباقی: 195
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (3311 و 13400)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 482 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 482
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
جس طرح سفارش کبریٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منصب ہے،
اسی طرح جنت کا دروازہ بھی آپ کی سفارش سے کھلے گا۔
(2)
ہر کام کاج اور بات چیت میں امانت ودیانت،
راست بازی اورصلہ رحمی،
یعنی رشتہ داروں کا خیال ولحاظ رکھنا دو ایسے اہم کام ہیں جن کا ہرمسلمان کو ہمیشہ اہتمام کرناچاہیے۔
(3)
جہنم کی گہرائی اتنی زیادہ ہے کہ اگر آدمی اوپرسےچھوڑ دیا جائے،
تو ستر برس گزرنے کے بعدنیچے پہنچے گا۔
(4)
آدمؑ نے جنت کا دروازہ کھلوانےسےمعذرت کےلیے ایک ایسی خطا کا تذکرہ کیا،
جس کی معافی انہیں جنت میں ہی مل گئی تھی،
اور جنت سے دنیا میں آدمؑ کی آمد خلافت ارضی کےلیے تھی،
جس کی خاطر ان کی تخلیق ہوئی تھی،
جیسا کہ قرآن مجیدمیں ارشاد ہے ﴿إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً﴾ (الْبَقَرَة: 30)
”میں زمین میں ایک خلیفہ مقررکرنےوالاہوں۔
“
فوائد ومسائل:
(1)
جس طرح سفارش کبریٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منصب ہے،
اسی طرح جنت کا دروازہ بھی آپ کی سفارش سے کھلے گا۔
(2)
ہر کام کاج اور بات چیت میں امانت ودیانت،
راست بازی اورصلہ رحمی،
یعنی رشتہ داروں کا خیال ولحاظ رکھنا دو ایسے اہم کام ہیں جن کا ہرمسلمان کو ہمیشہ اہتمام کرناچاہیے۔
(3)
جہنم کی گہرائی اتنی زیادہ ہے کہ اگر آدمی اوپرسےچھوڑ دیا جائے،
تو ستر برس گزرنے کے بعدنیچے پہنچے گا۔
(4)
آدمؑ نے جنت کا دروازہ کھلوانےسےمعذرت کےلیے ایک ایسی خطا کا تذکرہ کیا،
جس کی معافی انہیں جنت میں ہی مل گئی تھی،
اور جنت سے دنیا میں آدمؑ کی آمد خلافت ارضی کےلیے تھی،
جس کی خاطر ان کی تخلیق ہوئی تھی،
جیسا کہ قرآن مجیدمیں ارشاد ہے ﴿إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً﴾ (الْبَقَرَة: 30)
”میں زمین میں ایک خلیفہ مقررکرنےوالاہوں۔
“
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 482]
Sahih Muslim Hadith 482 in Urdu
ربعي بن حراش العبسي ← حذيفة بن اليمان العبسي