صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب استحباب مبايعة الإمام الجيش عند إرادة القتال وبيان بيعة الرضوان تحت الشجرة:
باب: لڑائی کے وقت مجاہدین سے بیعت لینا مستحب ہے اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 1859 ترقیم شاملہ: -- 4821
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " لَقَدْ رَأَيْتُ الشَّجَرَةَ ثُمَّ أَتَيْتُهَا بَعْدُ فَلَمْ أَعْرِفْهَا ".
قتادہ نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: میں نے وہ درخت دیکھا تھا، پھر میں اس کے بعد وہاں گیا تو میں اس درخت کو نہ پہچان سکا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4821]
حضرت سعید بن المسیب اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، میں نے اس درخت کو دیکھا، پھر بعد میں اس کے پاس آیا تو اسے پہچان نہ سکا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4821]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1859
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥المسيب بن حزن القرشي، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← المسيب بن حزن القرشي | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← سعيد بن المسيب القرشي | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥شبابة بن سوار الفزاري، أبو عمرو شبابة بن سوار الفزاري ← شعبة بن الحجاج العتكي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن رافع القشيري، أبو عبد الله محمد بن رافع القشيري ← شبابة بن سوار الفزاري | ثقة | |
👤←👥الحجاج بن الشاعر، أبو محمد الحجاج بن الشاعر ← محمد بن رافع القشيري | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4163
| إن أصحاب محمد لم يعلموها وعلمتموها أنتم فأنتم أعلم |
صحيح مسلم |
4819
| انطلقنا في قابل حاجين فخفي علينا مكانها فإن كانت تبينت لكم فأنتم أعلم |
صحيح مسلم |
4820
| كانوا عند رسول الله عام الشجرة قال فنسوها من العام المقبل |
صحيح مسلم |
4821
| لقد رأيت الشجرة ثم أتيتها بعد فلم أعرفها |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4821 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4821
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
علماء نے لکھا ہے چونکہ اس درخت کے نیچے بیعت رضوان ہوئی تھی اور خیر و برکت اور سکینہ کا نزول ہوا تھا،
اگر یہ درخت متعین اور معلوم رہتا تو یہ خدشہ تھا کہ لوگ آہستہ آہستہ اس کی تعظیم و تکریم میں غلو کرتے کرتے اس کی عبادت کرنے لگ جاتے پھر اس کو نافع اور ضار خیال کرتے ہوئے میلہ گاہ بنا لیتے جیسا کہ بخاری شریف کی اس روایت سے اس کی تصدیق ہوتی ہے،
طارق بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں،
میں حج کے لیے گیا اور کچھ لوگوں کو ایک جگہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا،
میں نے پوچھا،
یہ کون سی مسجد ہے؟ انہوں نے کہا،
یہ وہ درخت ہے،
جس کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت رضوان کی تھی،
اس پر حضرت سعید بن المسیب نے بتایا،
میرا باپ اس بیعت میں شریک تھا،
اس کو تو اگلے سال ہی اس درخت کا پتہ نہ چل سکا،
تو ان لوگوں کو کیسے پتہ چل گیا،
گویا لوگوں نے ایک درخت کو وہ درخت سمجھ کر مسجد بنا لیا،
اس طرح خطرہ پیدا ہو گیا،
تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس درخت کو کٹوا دیا،
تاکہ اس سے شرک و بدعت کا دروازہ نہ کھل جائے۔
فوائد ومسائل:
علماء نے لکھا ہے چونکہ اس درخت کے نیچے بیعت رضوان ہوئی تھی اور خیر و برکت اور سکینہ کا نزول ہوا تھا،
اگر یہ درخت متعین اور معلوم رہتا تو یہ خدشہ تھا کہ لوگ آہستہ آہستہ اس کی تعظیم و تکریم میں غلو کرتے کرتے اس کی عبادت کرنے لگ جاتے پھر اس کو نافع اور ضار خیال کرتے ہوئے میلہ گاہ بنا لیتے جیسا کہ بخاری شریف کی اس روایت سے اس کی تصدیق ہوتی ہے،
طارق بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں،
میں حج کے لیے گیا اور کچھ لوگوں کو ایک جگہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا،
میں نے پوچھا،
یہ کون سی مسجد ہے؟ انہوں نے کہا،
یہ وہ درخت ہے،
جس کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت رضوان کی تھی،
اس پر حضرت سعید بن المسیب نے بتایا،
میرا باپ اس بیعت میں شریک تھا،
اس کو تو اگلے سال ہی اس درخت کا پتہ نہ چل سکا،
تو ان لوگوں کو کیسے پتہ چل گیا،
گویا لوگوں نے ایک درخت کو وہ درخت سمجھ کر مسجد بنا لیا،
اس طرح خطرہ پیدا ہو گیا،
تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس درخت کو کٹوا دیا،
تاکہ اس سے شرک و بدعت کا دروازہ نہ کھل جائے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4821]
سعيد بن المسيب القرشي ← المسيب بن حزن القرشي