صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
38. باب فضل إعانة الغازي في سبيل الله بمركوب وغيره وخلافته في اهله بخير:
باب: غازی کی مدد کرنے کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 1896 ترقیم شاملہ: -- 4907
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى بَنِي لَحْيَانَ لِيَخْرُجْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ، ثُمَّ قَالَ: " لِلْقَاعِدِ أَيُّكُمْ خَلَفَ الْخَارِجَ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ بِخَيْرٍ كَانَ لَهُ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ ".
مہری کے آزاد کردہ غلام یزید بن ابی سعید نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ نے بنو لحیان کی طرف ایک لشکر روانہ کیا اور فرمایا: ”ہر دو آدمیوں میں سے ایک آدمی (جہاد کے لیے نکلے)“ اور فرمایا: ”تم میں سے جو شخص بھی (جہاد کے لیے) نکلنے والے کے اہل و عیال اور مال و متاع کی اچھی طرح دیکھ بھال کے لیے پیچھے رہے گا، نکلنے والے کے اجر میں سے آدھا اسے ملے گا۔“ (یعنی جہاد کرنے والے اور پیچھے خیال رکھنے والے دونوں کے لیے ثواب ہے۔ پیچھے رہ کر خیال رکھنے والے کو بھی گھر میں رہتے ہوئے آدھا ثواب مل جائے گا۔) [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4907]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کی طرف ایک دستہ یہ کہہ کر روانہ فرمایا: ”ہر گھر میں سے ایک مرد نکلے۔“ پھر گھر بیٹھنے والے سے فرمایا: ”تم میں سے جس نے روانہ ہونے والے کے اہل اور اس کے مال میں بہترین نیابت کی، اس کو نکلنے والے کے آدھے اجر کے برابر ثواب ملے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4907]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1896
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
4907
| أيكم خلف الخارج في أهله وماله بخير كان له مثل نصف أجر الخارج |
سنن أبي داود |
2510
| أيكم خلف الخارج في أهله وماله بخير كان له مثل نصف أجر الخارج |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4907 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4907
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جو انسان جہاد میں بالفعل حصہ لیتا ہے،
اس کو دو ثواب ملتے ہیں،
اجر اصل اور اجر فضل (اضافہ وزیادتی)
تو اس کی نیابت بالخیر کرنے والے کو اصل اجر کا نصف کے برابر ملتا ہے اور اضافہ یا تضعیف تو صرف بالفعل حصہ لینے والے کے لیے ہے۔
فوائد ومسائل:
جو انسان جہاد میں بالفعل حصہ لیتا ہے،
اس کو دو ثواب ملتے ہیں،
اجر اصل اور اجر فضل (اضافہ وزیادتی)
تو اس کی نیابت بالخیر کرنے والے کو اصل اجر کا نصف کے برابر ملتا ہے اور اضافہ یا تضعیف تو صرف بالفعل حصہ لینے والے کے لیے ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4907]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2510
جہاد کے بدلے میں کون سی چیز کافی ہے؟
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کی طرف ایک لشکر بھیجا اور فرمایا: ”ہر دو آدمی میں سے ایک آدمی نکل کھڑا ہو“، اور پھر خانہ نشینوں سے فرمایا: ”تم میں جو کوئی مجاہد کے اہل و عیال اور مال کی اچھی طرح خبرگیری کرے گا تو اسے جہاد کے لیے نکلنے والے کا نصف ثواب ملے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2510]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کی طرف ایک لشکر بھیجا اور فرمایا: ”ہر دو آدمی میں سے ایک آدمی نکل کھڑا ہو“، اور پھر خانہ نشینوں سے فرمایا: ”تم میں جو کوئی مجاہد کے اہل و عیال اور مال کی اچھی طرح خبرگیری کرے گا تو اسے جہاد کے لیے نکلنے والے کا نصف ثواب ملے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2510]
فوائد ومسائل:
مذکورہ بالا حدیث سے یہ سمجھا گیا ہے کہ جو شخص مجاہد کے اہل خانہ کی عمدہ طور سے خبر گیری کرے تو ا س کو بھی مجاہد کی طرح پورا ثواب ملتا ہے۔
اور اس دوسری حدیث میں آدھے ثواب کا ذکر آیا ہے۔
تو ان میں تطبیق اس طرح ہے۔
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں۔
اگر ان دونوں افراد کے مجموعی ثواب کو آدھا آدھا کیا جائے تو دونوں کےلئے برابر ہوجاتا ہے۔
اور اس طرح تعارض نہیں رہتا۔
مگر راقم مترجم کا خیال ہے۔
کہ اگر پیچھے رہنے والے نے اس رکنے کے عمل کو ترجیح دی ہو تو اسے آدھا ثواب ملے گا۔
لیکن اگر یہ دونوں ہی قتال میں شریک ہونے کے شائق ہوں اورامیر کسی ایک کو قتال کے لئے منتخب کرے۔
اور دوسرے کو اس کے اہل خانہ کی خدمت کا پابند کرے۔
تو اس طرح یہ دونوں ہی ثواب میں برابر ہوں گے۔
واللہ اعلم
مذکورہ بالا حدیث سے یہ سمجھا گیا ہے کہ جو شخص مجاہد کے اہل خانہ کی عمدہ طور سے خبر گیری کرے تو ا س کو بھی مجاہد کی طرح پورا ثواب ملتا ہے۔
اور اس دوسری حدیث میں آدھے ثواب کا ذکر آیا ہے۔
تو ان میں تطبیق اس طرح ہے۔
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں۔
اگر ان دونوں افراد کے مجموعی ثواب کو آدھا آدھا کیا جائے تو دونوں کےلئے برابر ہوجاتا ہے۔
اور اس طرح تعارض نہیں رہتا۔
مگر راقم مترجم کا خیال ہے۔
کہ اگر پیچھے رہنے والے نے اس رکنے کے عمل کو ترجیح دی ہو تو اسے آدھا ثواب ملے گا۔
لیکن اگر یہ دونوں ہی قتال میں شریک ہونے کے شائق ہوں اورامیر کسی ایک کو قتال کے لئے منتخب کرے۔
اور دوسرے کو اس کے اہل خانہ کی خدمت کا پابند کرے۔
تو اس طرح یہ دونوں ہی ثواب میں برابر ہوں گے۔
واللہ اعلم
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2510]
Sahih Muslim Hadith 4907 in Urdu
أبو سعيد المهري ← أبو سعيد الخدري