صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب الصيد بالكلاب المعلمة:
باب: سدہائے ہوئے کتوں سے شکار کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1929 ترقیم شاملہ: -- 4979
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، وَكَانَ لَنَا جَارًا وَدَخِيلًا وَرَبِيطًا بِالنَّهْرَيْنِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُرْسِلُ كَلْبِي، فَأَجِدُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا قَدْ أَخَذَ، لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَ، قَالَ: " فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ ".
سعید بن مسروق نے کہا: شعبی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نہرین (کے قصبے) میں ہمارے ہمسائے اور ہمارے پاس آنے جانے والے قریبی ساتھی تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ میں شکار پر اپنا کتا چھوڑتا ہوں۔ پھر اپنے کتے کے ساتھ ایک اور کتا بھی دیکھتا ہوں کہ اس نے اس کو شکار کر لیا ہے۔ اور مجھے یہ نہیں پتہ کہ (اصل میں) ان دونوں میں سے کس نے شکار کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تم (اس کو) مت کھاؤ، کیونکہ تم نے اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے، دوسرے پر نہیں پڑھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4979]
امام شعبہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے—جو نہرین مقام پر ہمارے پڑوسی، جگری دوست اور ہم نشین تھے—سنا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، میں اپنا کتا شکار پر چھوڑتا ہوں اور اپنے کتے کے ساتھ ایک اور کتا پاتا ہوں، وہ شکار کر چکا ہے، میں نہیں جانتا کہ کس نے شکار کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نہ کھاؤ، کیونکہ تم نے اپنے کتے پر اللہ کا نام لیا ہے اور دوسرے پر اللہ کا نام نہیں لیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 4979]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1929
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4979 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4979
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
دَخِيل:
شریک کار،
جو انسان کے معاملات میں حصہ لے۔
(2)
رَبِيط:
ملازم،
ہر وقت ساتھ رہنے والا،
یا اپنے آپ کو دنیا سے کاٹ کر عبادت کے لیے وقف کرلیا ہو۔
(3)
نَهرَين:
جگہ کا نام ہے۔
فوائد ومسائل:
ان حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے،
اگر دوسرے کتے کے مالک نے بھی بسم اللہ پڑھ کر اپنا کتا چھوڑا ہو اور وہ بھی پہنچ جائے تو پھر وہ شکار کھانا جائز ہو گا۔
مفردات الحدیث:
(1)
دَخِيل:
شریک کار،
جو انسان کے معاملات میں حصہ لے۔
(2)
رَبِيط:
ملازم،
ہر وقت ساتھ رہنے والا،
یا اپنے آپ کو دنیا سے کاٹ کر عبادت کے لیے وقف کرلیا ہو۔
(3)
نَهرَين:
جگہ کا نام ہے۔
فوائد ومسائل:
ان حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے،
اگر دوسرے کتے کے مالک نے بھی بسم اللہ پڑھ کر اپنا کتا چھوڑا ہو اور وہ بھی پہنچ جائے تو پھر وہ شکار کھانا جائز ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4979]
Sahih Muslim Hadith 4979 in Urdu
عامر الشعبي ← عدي بن حاتم الطائي