صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
88. باب بيان ان من مات على الكفر فهو في النار ولا تناله شفاعة ولا تنفعه قرابة المقربين:
باب: جو شخص کفر پر مرے وہ جہنم میں جائے گا اور اس کی شفاعت نہ ہو گی اور بزرگوں کی بزرگی اس کے کچھ کام نہ آئے گی۔
ترقیم عبدالباقی: 203 ترقیم شاملہ: -- 500
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ أَبِي؟ قَالَ: فِي النَّارِ، فَلَمَّا قَفَّى، دَعَاهُ، فَقَالَ: " إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! میرا باپ کہاں ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”آگ میں۔“ پھر جب وہ پلٹ گیا تو آپ نے اسے بلا کر فرمایا: ”بلاشبہ میرا باپ اور تمہارا باپ آگ میں ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 500]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میرا باپ کہاں ہے؟ آپ نے فرمایا: ”آگ میں“ جب وہ پشت پھیر کر چلا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا: ”میرا باپ اور تیرا باپ دونوں آگ میں ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 500]
ترقیم فوادعبدالباقی: 203
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابوداؤد في ((سننه)) باب: في ذراري المشركين برقم (4718) انظر ((التحفة)) برقم (327)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان عفان بن مسلم الباهلي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← عفان بن مسلم الباهلي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
500
| أبي وأباك في النار |
سنن أبي داود |
4718
| أبي وأباك في النار |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 500 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 500
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
یہ حدیث اس مسئلہ میں بالکل صریح ہے،
کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کفر کی حالت پرفوت ہوئے۔
اس کی موجودگی میں ایسی آیات اور احادیث سے استدلال کرنا جن کے معنی وتفسیرکے بارےمیں مختلف اقوال ہیں،
اور سب کا احتمال موجود ہے،
درست نہیں ہے،
کیونکہ مسلم ضابطہ ہے "إِذَا جَاءَ الْاِحْتمَالُ بَطَلَ الْاسْتَدْلَالُ" کئی معانی کے احتمال کی صورت میں استدلال کرنا (ایک مسئلہ کےبارےمیں)
درست نہیں ہے۔
اور "أبٌ" کامعنی ”چچا“ کرنامجازی معنی ہے،
اورمجازی معنی کے لیے قرینہ اوردلیل کی ضرورت ہے،
جویہاں موجودنہیں ہے۔
لیکن اس مسئلہ میں زیادہ بحث وکریدمیں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے،
اس لیے اس کوخواہ مخواہ موضوع بحث نہیں بناناچاہیے۔
اس حدیث کا اصل مقصد یہ ہے،
کہ کفر اتنا گھناؤنا جرم ہے کہ کسی عظیم سےعظیم ہستی کی سفارش سےبھی کافر دوزخ سےنہیں نکل سکتا۔
فوائد ومسائل:
یہ حدیث اس مسئلہ میں بالکل صریح ہے،
کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کفر کی حالت پرفوت ہوئے۔
اس کی موجودگی میں ایسی آیات اور احادیث سے استدلال کرنا جن کے معنی وتفسیرکے بارےمیں مختلف اقوال ہیں،
اور سب کا احتمال موجود ہے،
درست نہیں ہے،
کیونکہ مسلم ضابطہ ہے "إِذَا جَاءَ الْاِحْتمَالُ بَطَلَ الْاسْتَدْلَالُ" کئی معانی کے احتمال کی صورت میں استدلال کرنا (ایک مسئلہ کےبارےمیں)
درست نہیں ہے۔
اور "أبٌ" کامعنی ”چچا“ کرنامجازی معنی ہے،
اورمجازی معنی کے لیے قرینہ اوردلیل کی ضرورت ہے،
جویہاں موجودنہیں ہے۔
لیکن اس مسئلہ میں زیادہ بحث وکریدمیں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے،
اس لیے اس کوخواہ مخواہ موضوع بحث نہیں بناناچاہیے۔
اس حدیث کا اصل مقصد یہ ہے،
کہ کفر اتنا گھناؤنا جرم ہے کہ کسی عظیم سےعظیم ہستی کی سفارش سےبھی کافر دوزخ سےنہیں نکل سکتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 500]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4718
کفار اور مشرکین کی اولاد کے انجام کا بیان۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے والد جہنم میں ہیں“ جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے والد اور تیرے والد دونوں جہنم میں ہیں“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4718]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے والد جہنم میں ہیں“ جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے والد اور تیرے والد دونوں جہنم میں ہیں“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4718]
فوائد ومسائل:
1۔
ایمان وعمل کے بغیر محض نسب اور قرابت داری کسی کے باعث نجات نہیں۔
2: ایسی تمام روایات جن میں رسول ؐ کے والدین کو دوبارہ زندہ کیے جانے اور ان کے اسلام کرنے کا ذکر ہے، ضعیف اور ناقاقبل حجت ہیں۔
3:اس بارے میں بحث وگفتگو کی بجائے سکوت (خاموشی) بہتر ہے۔
1۔
ایمان وعمل کے بغیر محض نسب اور قرابت داری کسی کے باعث نجات نہیں۔
2: ایسی تمام روایات جن میں رسول ؐ کے والدین کو دوبارہ زندہ کیے جانے اور ان کے اسلام کرنے کا ذکر ہے، ضعیف اور ناقاقبل حجت ہیں۔
3:اس بارے میں بحث وگفتگو کی بجائے سکوت (خاموشی) بہتر ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4718]
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري