صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب إباحة الضب:
باب: گوہ کا گوشت حلال ہے (یعنی سوسمار کا)۔
ترقیم عبدالباقی: 1947 ترقیم شاملہ: -- 5039
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ ابْنُ نَافِعٍ: أَخْبَرَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: أَهْدَتْ خَالَتِي أَمُّ حُفَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا، " فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ وَالْأَقِطِ وَتَرَكَ الضَّبَّ تَقَذُّرًا وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا، مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
سعید بن جبیر نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میری خالہ ام حفید رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی پنیر اور سانڈے ہدیہ کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تناول فرمایا اور سانڈے کو کراہت محسوس کرتے ہوئے چھوڑ دیا۔ یہ (سانڈا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر کھایا گیا۔ اگر یہ حرام ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر نہ کھایا جاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5039]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، میری خالہ ام حفید رضی اللہ تعالی عنھا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، پنیر اور ضب پیش کیں، آپ نے گھی اور پنیر کھالیا اور ضب کو کراہت کی بنا پر چھوڑ دیا اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر کھایا گیا، اگر وہ حرام ہوتی تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر نہ کھایا جاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5039]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1947
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي