صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب جواز الذبح بكل ما انهر الدم إلا السن والظفر وسائر العظام:
باب: ذبح ہر چیز سے درست ہے جو خون بہائے سوائے دانت اور ناخن اور ہڈی کے۔
ترقیم عبدالباقی: 1968 ترقیم شاملہ: -- 5094
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبَايَةَ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعٍ ، ثُمَّ حَدَّثَنِيهِ عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى فَنُذَكِّي بِاللِّيطِ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ، وَقَالَ: فَنَدَّ عَلَيْنَا بَعِيرٌ مِنْهَا فَرَمَيْنَاهُ بِالنَّبْلِ حَتَّى وَهَصْنَاهُ.
اسماعیل بن مسلم اور عمر بن سعید نے سعید بن مسروق سے، انہوں نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج سے، انہوں نے اپنے دادا حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم نے عرض کی، اللہ کے رسول اللہ! کل ہم دشمن کا سامنا کریں گے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، کیا ہم بانس کے چھلکے (یا تیز دھار کھپچی) سے ذبح کر سکتے ہیں؟ اور سارے واقعے سمیت حدیث بیان کی اور کہا: ایک اونٹ ہم سے بدک کر بھاگ نکلا تو ہم نے اس پر تیر چلائے یہاں تک کہ اس کو گرا لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5094]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! ہمارا کل دشمن سے مقابلہ ہونے والا ہے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، کیا ہم بانس کی پھانک سے ذبح کر سکتے ہیں، آگے مذکورہ بالا حدیث ہے، اس میں ہے، ہم سے ایک اونٹ بھاگ گیا، تو ہم اس کو تیر مارا حتیٰ کہ ہم نے اس کو زمین پر گرا لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5094]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1968
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5094 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5094
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
فيط:
ہر چیز کے چھلکے کوکہتے ہیں اور قصب بانس کو کہتے ہیں۔
(2)
هصناه:
ہم اس پر زور دار تیر اندازی کی،
یا اس کو زمین پر گرا لیا۔
مفردات الحدیث:
(1)
فيط:
ہر چیز کے چھلکے کوکہتے ہیں اور قصب بانس کو کہتے ہیں۔
(2)
هصناه:
ہم اس پر زور دار تیر اندازی کی،
یا اس کو زمین پر گرا لیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5094]
عباية بن رفاعة الزرقي ← رافع بن خديج الأنصاري