🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب إباحة النبيذ الذي لم يشتد ولم يصر مسكرا:
باب: جس نبیذ میں تیزی نہ آئی ہو اور نہ اس میں نشہ ہو وہ حلال ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2005 ترقیم شاملہ: -- 5232
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ يُوكَى أَعْلَاهُ، وَلَهُ عَزْلَاءُ نَنْبِذُهُ غُدْوَةً، فَيَشْرَبُهُ عِشَاءً وَنَنْبِذُهُ عِشَاءً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً ".
حسن کی والدہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک مشک میں نبیذ بناتے، اس کا اوپر کا حصہ باندھ دیا جاتا تھا، اس میں نچلی طرف کا سوراخ بھی تھا۔ ہم صبح کو (کھجور یا کشمش) ڈالتے تو آپ اسے رات کو نوش فرماتے اور رات کے وقت ڈالتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو نوش فرماتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5232]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک مشکیزہ میں نبیذ بناتے تھے، جس کے اوپر والے حصے کا منہ باندھ دیا جاتا تھا، اس کے نیچے سوراخ تھا، ہم اس میں صبح نبیذ بناتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم شام تک پیتے اور رات کو بناتے تو صبح تک پیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5232]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2005
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥خيرة مولاة أم سلمة، أم الحسن
Newخيرة مولاة أم سلمة ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
صدوق حسن الحديث
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← خيرة مولاة أم سلمة
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥يونس بن عبيد العبدي، أبو عبد الله، أبو عبيد
Newيونس بن عبيد العبدي ← الحسن البصري
ثقة ثبت فاضل ورع
👤←👥عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي، أبو محمد
Newعبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي ← يونس بن عبيد العبدي
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
5232
ننبذ لرسول الله في سقاء يوكى أعلاه وله عزلاء ننبذه غدوة فيشربه عشاء وننبذه عشاء فيشربه غدوة
صحيح مسلم
5231
أنبذ له في سقاء من الليل وأوكيه وأعلقه فإذا أصبح شرب منه
جامع الترمذي
1871
ننبذ لرسول الله في سقاء توكأ في أعلاه له عزلاء ننبذه غدوة ويشربه عشاء وننبذه عشاء ويشربه غدوة
سنن أبي داود
3712
تنبذ للنبي غدوة فإذا كان من العشي فتعشى شرب على عشائه وإن فضل شيء صببته أو فرغته ثم تنبذ له بالليل إذا أصبح تغدى فشرب على غدائه قالت نغسل السقاء غدوة وعشية
سنن أبي داود
3711
ينبذ لرسول الله في سقاء يوكأ أعلاه وله عزلاء ينبذ غدوة فيشربه عشاء وينبذ عشاء فيشربه غدوة
سنن أبي داود
3708
كنت آخذ قبضة من تمر وقبضة من زبيب فألقيه في إناء فأمرسه ثم أسقيه النبي
سنن أبي داود
3707
ينبذ له زبيب فيلقي فيه تمرا وتمر فيلقي فيه الزبيب
سنن ابن ماجه
3398
ننبذ لرسول الله في سقاء فنأخذ قبضة من تمر أو قبضة من زبيب فنطرحها فيه ثم نصب عليه الماء فننبذه غدوة فيشربه عشية وننبذه عشية فيشربه غدوة
سنن ابن ماجه
3412
كنت أصنع لرسول الله ثلاثة آنية من الليل مخمرة إناء لطهوره وإناء لسواكه وإناء لشرابه
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5232 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5232
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اگر کھجور یا منقہ کو ہاتھ کے ساتھ اچھی طرح مل کر پانی میں ڈالا جائے،
تو جلد نبیذ تیار ہو جاتا ہے اور اس میں جلد نشہ کا احتمال پیدا ہو جاتا ہے،
اگر کھجوروں اور منقہ اسی طرح ڈال دیا جائے،
تو پھر جلد سکر پیدا نہیں ہوتا،
گرمی اور سردی کے موسم کا بھی فرق ہوتا ہے،
گرمیوں میں تیزی اور شدت جلد پیدا ہوتی ہے اور سردیوں میں تاخیر سے،
اس لیے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کا تعلق سردی سے ہو گا اور حضرت عائشہ کی حدیث موسم گرما کے بارے میں ہو گی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5232]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3398
نبیذ بنانے اور پینے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک مشک میں نبیذ تیار کرتے اس کے لیے ہم ایک مٹھی کھجور یا ایک مٹھی انگور لے لیتے، پھر اسے مشک میں ڈال دیتے، اس کے بعد اس میں پانی ڈال دیتے، اگر ہم اسے صبح میں بھگوتے تو آپ اسے شام میں پیتے، اور اگر ہم شام میں بھگوتے تو آپ اسے صبح میں پیتے۔ ابومعاویہ اپنی روایت میں یوں کہتے ہیں: دن میں بھگوتے تو رات میں پیتے اور رات میں بھگوتے تو دن میں پیتے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3398]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
صبح سےشام تک یا شام سے صبح تک بھگونے سے پانی میں مٹھاس اچھی طرح آ جاتی ہے لیکن نشہ پیدا نہیں ہوتا اس لئے یہ مشروب بلاشبہ جائز ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3398]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1871
مشک میں نبیذ بنانے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشک میں نبیذ بناتے تھے، اس کے اوپر کا منہ بند کر دیا جاتا تھا، اس کے نیچے ایک سوراخ ہوتا تھا، ہم صبح میں نبیذ کو بھگوتے تھے تو آپ شام کو پیتے تھے اور شام کو بھگوتے تھے تو آپ صبح کو پیتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1871]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎:
غرضیکہ نبیذ کو اس کے برتن میں زیادہ وقت نہیں دیا جاتا تھا مبادا اس میں کہیں نشہ نہ پیداہوجائے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1871]

Sahih Muslim Hadith 5232 in Urdu