🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب إباحة النبيذ الذي لم يشتد ولم يصر مسكرا:
باب: جس نبیذ میں تیزی نہ آئی ہو اور نہ اس میں نشہ ہو وہ حلال ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2006 ترقیم شاملہ: -- 5235
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي أَبَا غَسَّانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ: فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الطَّعَامِ أَمَاثَتْهُ فَسَقَتْهُ تَخُصُّهُ بِذَلِكَ.
محمد ابوغسان نے کہا: مجھے ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث روایت کی اور کہا: (اس نے) پتھر کے ایک بڑے پیالے میں (نبیذ بنائی)، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو اس (ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ کی دلہن) نے اس (پھل کو جو پانی کے ساتھ برتن میں ڈالا ہوا تھا) پانی میں گھلایا اور آپ کو پلایا، آپ کو خصوصی طور پر (پلایا)۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5235]
امام صاحب ایک اور استاد سے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، اس میں «تَوْرٍ» کے بعد «مِنْ حِجَارَةٍ» پتھر کا کے الفاظ کا اضافہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5235]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2006
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سهل بن سعد الساعدي، أبو العباس، أبو يحيىصحابي
👤←👥سلمة بن دينار الأعرج، أبو حازم
Newسلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي
ثقة
👤←👥محمد بن مطرف الليثي، أبو غسان
Newمحمد بن مطرف الليثي ← سلمة بن دينار الأعرج
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي مريم الجمحي، أبو محمد
Newسعيد بن أبي مريم الجمحي ← محمد بن مطرف الليثي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن سهل التميمي، أبو بكر
Newمحمد بن سهل التميمي ← سعيد بن أبي مريم الجمحي
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5235 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5235
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر مہمانوں میں کوئی ممتاز شخصیت ہو جس کے علم،
تقویٰ،
نیکی اور شرف و منزلت کے سب معترف ہوں اور اس کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہوں،
اس کی خصوصی آؤ بھگت سے انہیں شکوہ و شکایت پیدا نہ ہو،
وہ اس کو برا محسوس نہ کریں،
تو پھر اس کو خصوصی کھانے یا مشروب پیش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5235]

Sahih Muslim Hadith 5235 in Urdu