🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب إباحة النبيذ الذي لم يشتد ولم يصر مسكرا:
باب: جس نبیذ میں تیزی نہ آئی ہو اور نہ اس میں نشہ ہو وہ حلال ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2007 ترقیم شاملہ: -- 5236
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَخْبَرَنَا، وقَالَ ابْنُ سَهْلٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنَ الْعَرَبِ، فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ أَنْ يُرْسِلَ إِلَيْهَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَدِمَتْ فَنَزَلَتْ فِي أُجُمِ بَنِي سَاعِدَةَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَاءَهَا، فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَإِذَا امْرَأَةٌ مُنَكِّسَةٌ رَأْسَهَا، فَلَمَّا كَلَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، قَالَ: " قَدْ أَعَذْتُكِ مِنِّي "، فَقَالُوا لَهَا: أَتَدْرِينَ مَنْ هَذَا؟، فَقَالَتْ: لَا، فَقَالُوا: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَكِ لِيَخْطُبَكِ، قَالَتْ: أَنَا كُنْتُ أَشْقَى مِنْ ذَلِكَ، قَالَ سَهْلٌ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ حَتَّى جَلَسَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ، ثُمَّ قَالَ: " اسْقِنَا لِسَهْلٍ "، قَالَ: فَأَخْرَجْتُ لَهُمْ هَذَا الْقَدَحَ فَأَسْقَيْتُهُمْ فِيهِ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ: فَأَخْرَجَ لَنَا سَهْلٌ ذَلِكَ الْقَدَحَ، فَشَرِبْنَا فِيهِ، قَالَ: ثُمَّ اسْتَوْهَبَهُ بَعْدَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَوَهَبَهُ لَهُ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحاَقَ، قَالَ: اسْقِنَا يَا سَهْلُ.
محمد بن سہل تیمی اور ابوبکر بن اسحاق نے کہا: ہمیں ابن ابی مریم نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابوغسان محمد بن مطرف نے بتایا کہ مجھے ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عرب کی ایک عورت کا ذکر کیا گیا۔ (اس کے والد نعمان بن ابی الجون کندی نے پیش کش کی) آپ نے ابواسید رضی اللہ عنہ سے کہا: کہ اس (عورت کو لانے کے لیے اس) کی طرف سواری وغیرہ بھیجیں۔ تو انہوں (حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ) نے بھیج دی، وہ عورت آئی بنو ساعدہ کے قلعہ نما مکانات میں ٹھہری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے روانہ ہو کر اس کے پاس تشریف لے گئے، جب آپ اس کے پاس گئے تو وہ عورت سر جھکائے ہوئے تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس سے بات کی تو وہ کہنے لگی: میں آپ سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں خود سے پناہ دے دی۔ لوگوں نے اس سے کہا: کیا تم جانتی ہو یہ کون ہیں؟ اس نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور تمہیں نکاح کا پیغام دینے تمہارے پاس آئے تھے۔ اس نے کہا: میں اس سے کم تر نصیب والی تھی۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ خود اور آپ کے ساتھ بنو ساعدہ کے چھت والے چبوترے پر تشریف فرما ہوئے، پھر سہل نے کہا: پانی پلاؤ، کہا: میں نے ان کے لیے وہی پیالہ (نما برتن) نکالا اور اس میں آپ کو پلایا۔ ابوحازم نے کہا: سہل رضی اللہ عنہ نے ہمارے لیے بھی وہی پیالہ نکالا اور ہم نے بھی اس میں سے پیا، پھر عمر بن عبدالعزیز نے حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے وہ پیالہ بطور ہبہ مانگ لیا۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے وہ پیالہ ان کو ہبہ کر دیا۔ ابوبکر بن اسحاق کی روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سہل! ہمیں (کچھ) پلاؤ۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5236]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عرب عورت کا ذکر کیا گیا، (کہ آپ اس سے شادی کر لیں) تو آپ نے ابواسید کو حکم دیا، اس کو پیغام بھیجیں، تو انہوں نے اسے پیغام بھیجا، وہ آ گئی اور بنوساعدہ کی گڑھی میں ٹھہری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر اس کے پاس پہنچ گئے، تو وہ ایک عورت تھی جو سر جھکائے ہوئے بیٹھی تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے گفتگو کا آغاز فرمایا، وہ کہنے لگی: میں آپ سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے اپنے سے پناہ دی۔ لوگوں نے پوچھا، تجھے معلوم ہے یہ کون ہیں؟ اس نے کہا: نہیں، لوگوں نے بتایا، یہ اللہ کے رسول ہیں، تجھے منگنی کا پیغام دینا چاہتے ہیں، اس نے کہا: میں یہ مقام حاصل کرنے میں انتہائی بدبخت رہی۔ حضرت سہل کہتے ہیں: اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ بنوساعدہ کے سقیفہ (چھت) میں بیٹھ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہل سے فرمایا: ہمیں پانی پلاؤ۔ حضرت سہل رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں تو میں نے ان کے لیے یہ پیالہ نکالا اور انہیں اس میں پانی پلایا، ابو حازم بیان کرتے ہیں: حضرت سہل وہ پیالہ ہمارے پاس لائے اور ہم نے اس میں پانی پیا، پھر اس کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ان سے کہا: یہ پیالہ مجھے ہبہ کر دو، تو انہوں نے اسے انہیں ہبہ کر دیا۔ ابوبکر بن اسحاق کی روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیں پلائیے، اے سہل! [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5236]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2007
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سهل بن سعد الساعدي، أبو العباس، أبو يحيىصحابي
👤←👥سلمة بن دينار الأعرج، أبو حازم
Newسلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي
ثقة
👤←👥محمد بن مطرف الليثي، أبو غسان
Newمحمد بن مطرف الليثي ← سلمة بن دينار الأعرج
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي مريم الجمحي، أبو محمد
Newسعيد بن أبي مريم الجمحي ← محمد بن مطرف الليثي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن إسحاق الصاغاني، أبو بكر
Newمحمد بن إسحاق الصاغاني ← سعيد بن أبي مريم الجمحي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن سهل التميمي، أبو بكر
Newمحمد بن سهل التميمي ← محمد بن إسحاق الصاغاني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5637
أعذتك مني فقالوا لها أتدرين من هذا قالت لا قالوا هذا رسول الله جاء ليخطبك قالت كنت أنا أشقى من ذلك
صحيح مسلم
5236
أعذتك مني فقالوا لها أتدرين من هذا فقالت لا فقالوا هذا رسول الله جاءك ليخطبك قالت أنا كنت أشقى من ذلك
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5236 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5236
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
یہ عورت امیمہ بنت نعمان بن شراحیل تھی،
جو انتہائی خوبرو تھی اور اپنے چچا زاد خاوند کی موت دیکھ چکی تھی،
اس کے باپ نعمان بن شراحیل نے خود پیشکش کی تھی کہ آپ میری بیٹی سے جو أجمل أيم فی العرب" عرب کی سب سے زیادہ خوبصورت بیوہ ہے،
شادی کر لیں،
کیونکہ وہ خود بھی اس کی خواہشمند ہے،
آپ نے اس کی پیشکش قبول کر لی اور اس کے کہنے پر حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ کو اس کے لانے کا انتظام کرنے کا حکم دیا،
وہ خود ہی اس کے لیے تیار ہوگئے اور اسے لے آئے،
چونکہ وہ انتہائی خوبصورت تھی،
اس لیے ناز و نخرے کی بنا پر اس کا دماغ بہت اونچا تھا۔
بخاری شریف کی روایت کے مطابق جب آپ نے اسے اپنے پاس آنے کے لیے کہا تو اس نے اپنی بددماغی سے کہا،
کیا کبھی رانی بھی عام آدمی کے پاس آئی ہے تو آپ نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ فرماتے ہوئے اس کو تسلی و تشفی دینے کے لیے،
اس پر شفقت کا ہاتھ رکھنا چاہا تو اس نے یہ کلمات کہہ ڈالے اور اس حدیث میں جو یہ الفاظ ہیں،
وہ آپ کو منگنی کا پیغام دینے آئے تھے تو اس کا مقصد یہ ہے کہ اس کا باپ آپ سے شادی کی خواہش کا اظہار کر چکا تھا،
وہی اسے بتانا چاہتے تھے،
کیونکہ دوسری روایات سے ثابت ہوتا ہے،
آپ اس کے باپ کے کہنے پر اس سے شادی کر چکے تھے،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے خلوت کی اور اس پر شفقت کا ہاتھ رکھنا چاہا،
لیکن جب اس نے آپ سے اللہ کی پناہ چاہی تو آپ نے اسے طلاق دے دی اور حضرت اسید رضی اللہ عنہ کو فرمایا:
اسے رازقی کپڑوں کو جوڑا دے کر اس کے گھر والوں کے پاس پہنچا دو۔
اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی استعمال شدہ اشیاء سے تبرک حاصل کیا جا سکتا ہے،
جس چیز کو آپ نے چھوا ہو،
جس کپڑے کو آپ نے پہنا ہو،
جس برتن سے آپ نے پانی پیا ہو،
اس پر اجماع ہے،
لیکن اس پر دوسرے حقیقی یا فرضی اولیاء اور صلحاء کو قیاس کرنا درست نہیں ہے،
اگر ایسا ہوتا تو صحابہ کرام کم از کم شیخین کی متروکہ اشیاء سے تبرک حاصل کرتے یا تابعین صحابہ کرام کے آثار سے تبرک حاصل کرتے،
اس قیاس نے شرک و بدعت کا دروازہ کھولا ہے اور لوگ اشیاء کے مزارات پر طرح طرح کے شرکیہ اور بدعی کام کرتے نظر آتے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5236]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5637
5637. حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عرب خاتون کا ذکر کیا گیا تو آپ نے حضرت ابو اسید ساعدی ؓ کو حکم دیا کہ اس کی طرف یہاں آنےکا پیغام بھیجیں۔ انہوں نے اس کی طرف پیغام بھیجا تو وہ حاضر ہوئی اور بنو ساعدہ کے مکانات میں ٹھہری۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے اور اس کے پاس گئے۔ آپ نے دیکھا کہ وہ عورت سر جھکائےبیٹھی تھی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے گفتگو کی تو اس نے کہا: میں آپ سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے پناہ دی۔ لوگوں نے اس سے کہا: کیا تجھے معلوم ہے کہ یہ کون تھے؟ اس نے کہا: نہیں۔ انہون نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور تم سے نکاح کرنے کے لیے تشریف لائے تھے۔ اس نے کہا: پھر میں تو انتہائی بد نصیب رہی۔ اس روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سقیفہ بنو ساعدہ میں اپنے صحابہ کرام‬ ؓ ک‬ے ساتھ بیٹھے پھر فرمایا: اے سہل! پانی پلاؤ۔ سہل کہتے ہیں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:5637]
حدیث حاشیہ:
خود روایت سے ظاہر ہے کہ اس عورت نے لا علمی میں یہ لفظ کہے جن کو سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے۔
بعد میں جب اسے علم ہوا تو اس نے اپنى بد بختی پر اظہار افسوس کیا۔
حضرت سہل بن سعد کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پیالہ جس سے آپ پیا کرتے تھے محفوظ تھا جملہ ''فأخرج لنا سھل'' میں قائل حضرت ابو حازم راوی ہیں جیسا کہ مسلم میں صراحت موجود ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ اس زمانہ میں والی مدینہ تھے۔
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے وہ پیالہ آپ کے حوالہ کر دیا تھا۔
یہ تاریخی آثار ہیں جن کے متعلق کہا گیا ہے۔
تلك آثارنا تدل علینا فانظر وا بعدنا إلی الآثار
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5637]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5637
5637. حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عرب خاتون کا ذکر کیا گیا تو آپ نے حضرت ابو اسید ساعدی ؓ کو حکم دیا کہ اس کی طرف یہاں آنےکا پیغام بھیجیں۔ انہوں نے اس کی طرف پیغام بھیجا تو وہ حاضر ہوئی اور بنو ساعدہ کے مکانات میں ٹھہری۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے اور اس کے پاس گئے۔ آپ نے دیکھا کہ وہ عورت سر جھکائےبیٹھی تھی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے گفتگو کی تو اس نے کہا: میں آپ سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے پناہ دی۔ لوگوں نے اس سے کہا: کیا تجھے معلوم ہے کہ یہ کون تھے؟ اس نے کہا: نہیں۔ انہون نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور تم سے نکاح کرنے کے لیے تشریف لائے تھے۔ اس نے کہا: پھر میں تو انتہائی بد نصیب رہی۔ اس روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سقیفہ بنو ساعدہ میں اپنے صحابہ کرام‬ ؓ ک‬ے ساتھ بیٹھے پھر فرمایا: اے سہل! پانی پلاؤ۔ سہل کہتے ہیں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:5637]
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ان دنوں مدینہ طیبہ کے گورنر تھے۔
(2)
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بطور تبرک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیالے میں پیتے تھے، چنانچہ بعض صحابہ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تبرکات تھے جیسا کہ حضرت انس، حضرت سہل اور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہم کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیالے تھے۔
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ مبارک تھا۔
ان حضرات نے ان تبرکات کو بطور برکت اپنے پاس رکھا تھا، اصل برکت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
(فتح الباري: 123/10)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5637]

Sahih Muslim Hadith 5236 in Urdu