یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
94. باب الدليل على دخول طوائف من المسلمين الجنة بغير حساب ولا عذاب:
باب: مسلمانوں کے ایک گروہ کا بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 218 ترقیم شاملہ: -- 524
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ، قَالُوا: وَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ، فَقَامَ عُكَّاشَةُ، فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: أَنْتَ مِنْهُمْ، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ.
محمد بن سیرین نے کہا کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث سنائی، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے ستر ہزار اشخاص حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔“ صحابہ کرام نے پوچھا: ’اے اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟‘ آپ نے فرمایا: ”وہ ایسے لوگ ہیں جو داغنے کے عمل سے علاج نہیں کراتے، نہ دم کراتے ہیں اور اپنے رب پر کامل بھروسہ کرتے ہیں۔“ حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ’اللہ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے بھی ان میں (شامل) کر دے۔‘ آپ نے فرمایا: ”تم ان میں سے ہو۔“ (حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ’اے اللہ کے نبی! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے (بھی) ان میں (شامل) کر دے۔‘ آپ نے فرمایا: ”اس میں عکاشہ تم سے سبقت لے گئے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 524]
حضرت عمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے ستر ہزار اشخاص بلا حساب جنت میں داخل ہوں گے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ نہیں لگاتے، نہ دم کرواتے ہیں اور اپنے رب پر اعتماد کرتے ہیں۔“ تو عکاشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے: اللہ سے دعا فرمائیے! کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان میں سے ہے۔“ تو ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعا کیجیے! کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے عکاشہ رضی اللہ عنہ تجھ سے سبقت لے گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 524]
ترقیم فوادعبدالباقی: 218
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (10841)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيد | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← عمران بن حصين الأزدي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله هشام بن حسان الأزدي ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة حافظ | |
👤←👥معتمر بن سليمان التيمي، أبو محمد معتمر بن سليمان التيمي ← هشام بن حسان الأزدي | ثقة | |
👤←👥يحيى بن خلف الجوباري، أبو سلمة يحيى بن خلف الجوباري ← معتمر بن سليمان التيمي | ثقة |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 524 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 524
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ظاہری طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ جنت میں بلا حساب داخل ہونے والے لوگ بیماری کی صورت میں دم جھاڑ نہیں کرواتے،
کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ صحت وعافیت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے،
اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر فائدہ نہیں پہنچاتے،
اس لیے ہم اس پر بھروسہ کرتے ہیں اور ان ظاہری اسباب کو نہیں اپناتے۔
لیکن یہ مفہوم حدیث کے اس ٹکڑے کے منافی ہے کہ ”وہ ہر کام میں اللہ تعالیٰ پر اعتماد وبھروسہ کرتے ہیں۔
“ تو اگر ظاہری اسباب کے ترک کا نام ہی توکل ہے،
تو پھر کھانے پینے اور کمانے کی کیا ضرورت ہے؟ سیر اور سیراب تو اللہ ہی کرتا ہے،
دشمن کے مقابلہ میں مسلح ہو کر نکلنے کی کیا ضرورت ہے،
دشمن پر فتح تو اللہ ہی دیتا ہے۔
دین کی نشر واشاعت اور تبلیغ ودعوت کی کیا ضرورت ہے،
دین کو تو اللہ ہی پھیلاتا اور غالب فرماتا ہے،
اسی طرح دعا کرانے کی کیا ضرورت ہے؟ درجہ تو اللہ ہی نے دینا ہے۔
اس لیے حدیث کا صحیح مفہوم یہ ہے،
کہ وہ غیر شرعی اسباب ووسائل اختیار نہیں کرتے،
جیسا کہ جاہلیت کے دور میں لوگ ہر قسم کا دم جھاڑ کرتے تھے،
یا بدشگونی پکڑتے تھے،
بلکہ وہ انہی اسباب ووسائل کو اختیار کرتے ہیں،
جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے یا اجازت دی ہے،
اور ان جائز اسباب کے اختیار کرنے کے باوجود ان کا اعتماد اور سہارا اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے کہ یہ ظاہری اسباب تبھی کارگر ہوں گے،
جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا۔
اسباب میں اثر وتاثیر اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے،
چاہے تو ان میں تاثیر پیدا کر دے اور ان سے نتیجہ برآمد ہوجائے،
چاہے تو ان سے تاثیر سلب کرلے اور یہ ناکام ہوجائیں۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ظاہری طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ جنت میں بلا حساب داخل ہونے والے لوگ بیماری کی صورت میں دم جھاڑ نہیں کرواتے،
کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ صحت وعافیت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے،
اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر فائدہ نہیں پہنچاتے،
اس لیے ہم اس پر بھروسہ کرتے ہیں اور ان ظاہری اسباب کو نہیں اپناتے۔
لیکن یہ مفہوم حدیث کے اس ٹکڑے کے منافی ہے کہ ”وہ ہر کام میں اللہ تعالیٰ پر اعتماد وبھروسہ کرتے ہیں۔
“ تو اگر ظاہری اسباب کے ترک کا نام ہی توکل ہے،
تو پھر کھانے پینے اور کمانے کی کیا ضرورت ہے؟ سیر اور سیراب تو اللہ ہی کرتا ہے،
دشمن کے مقابلہ میں مسلح ہو کر نکلنے کی کیا ضرورت ہے،
دشمن پر فتح تو اللہ ہی دیتا ہے۔
دین کی نشر واشاعت اور تبلیغ ودعوت کی کیا ضرورت ہے،
دین کو تو اللہ ہی پھیلاتا اور غالب فرماتا ہے،
اسی طرح دعا کرانے کی کیا ضرورت ہے؟ درجہ تو اللہ ہی نے دینا ہے۔
اس لیے حدیث کا صحیح مفہوم یہ ہے،
کہ وہ غیر شرعی اسباب ووسائل اختیار نہیں کرتے،
جیسا کہ جاہلیت کے دور میں لوگ ہر قسم کا دم جھاڑ کرتے تھے،
یا بدشگونی پکڑتے تھے،
بلکہ وہ انہی اسباب ووسائل کو اختیار کرتے ہیں،
جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے یا اجازت دی ہے،
اور ان جائز اسباب کے اختیار کرنے کے باوجود ان کا اعتماد اور سہارا اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے کہ یہ ظاہری اسباب تبھی کارگر ہوں گے،
جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا۔
اسباب میں اثر وتاثیر اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے،
چاہے تو ان میں تاثیر پیدا کر دے اور ان سے نتیجہ برآمد ہوجائے،
چاہے تو ان سے تاثیر سلب کرلے اور یہ ناکام ہوجائیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 524]
Sahih Muslim Hadith 524 in Urdu
محمد بن سيرين الأنصاري ← عمران بن حصين الأزدي