صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
94. باب الدليل على دخول طوائف من المسلمين الجنة بغير حساب ولا عذاب:
باب: مسلمانوں کے ایک گروہ کا بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 218 ترقیم شاملہ: -- 525
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ أَبُو خُشَيْنَةَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الأَعْرَجِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ، قَالُوا: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: هُمُ الَّذِينَ، لَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَلَا يَكْتَوُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ".
حکم بن اعرج نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے ستر ہزار لوگ حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔“ صحابہ کرام نے پوچھا: ’اے اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟‘ آپ نے فرمایا: ”وہ ایسے لوگ ہیں جو دم نہیں کرواتے، شگون نہیں لیتے، داغنے کے ذریعے سے علاج نہیں کرواتے اور اپنے رب پر پورا بھروسہ کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 525]
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے ستر ہزار افراد بلا حساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ جو دم نہیں کرواتے، نہ بدشگونی پکڑتے ہیں اور نہ داغ لگواتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 525]
ترقیم فوادعبدالباقی: 218
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (10819)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 525 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 525
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
(1)
لَا يَسْتَرْقُون:
رقية (دم جھاڑ اور منتر)
سے ماخوذ ہے،
تعویذ گنڈا تلاش کرنا،
یا جادو اور منتر کرنے کو کہنا۔
(2)
وَلَا يَتَطَيَّرُونَ:
بدفالی اور برا شگون نہیں لیتے،
جیسا کہ جاہلیت کے دور کے لوگ لیتے تھے۔
(3)
وَلَا يَكْتَوُونَ:
اپنے آپ کو داغ دینا،
لوہا گرم کر کے جسم کو داغنا۔
مفردات الحدیث:
:
(1)
لَا يَسْتَرْقُون:
رقية (دم جھاڑ اور منتر)
سے ماخوذ ہے،
تعویذ گنڈا تلاش کرنا،
یا جادو اور منتر کرنے کو کہنا۔
(2)
وَلَا يَتَطَيَّرُونَ:
بدفالی اور برا شگون نہیں لیتے،
جیسا کہ جاہلیت کے دور کے لوگ لیتے تھے۔
(3)
وَلَا يَكْتَوُونَ:
اپنے آپ کو داغ دینا،
لوہا گرم کر کے جسم کو داغنا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 525]
الحكم بن عبد الله الثقفي ← عمران بن حصين الأزدي