🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب آداب الطعام والشراب واحكامهما:
باب: کھانے، پینے اور سونے کے آداب کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2021 ترقیم شاملہ: -- 5268
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا أَكَلَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِمَالِهِ، فَقَالَ: " كُلْ بِيَمِينِكَ "، قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ: " لَا اسْتَطَعْتَ مَا مَنَعَهُ إِلَّا الْكِبْرُ "، قَالَ: فَمَا رَفَعَهَا إِلَى فِيهِ.
سیدنا ایاس بن سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے بائیں ہاتھ سے کھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دائیں ہاتھ سے کھا۔ وہ بولا کہ میرے سے نہیں ہو سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کرے تجھ سے نہ ہو سکے۔ اس نے ایسا غرور کی راہ سے کیا تھا۔ راوی کہتا ہے کہ وہ ساری زندگی اس ہاتھ کو منہ تک نہ اٹھا سکا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5268]
حضرت ایاس بن سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا شروع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «كُلْ بِيَمِينِكَ» اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔ اس نے کہا: یہ میرے بس میں نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا اسْتَطَعْتَ» تیرے بس میں نہ رہے۔ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ اس نے محض تکبر کی بنا پر کہا تھا، اس لیے بعد میں اس کو اپنے منہ تک نہ اٹھا سکا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5268]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2021
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سلمة بن الأكوع الأسلمي، أبو مسلم، أبو إياس، أبو عامرصحابي
👤←👥إياس بن سلمة الأسلمي، أبو بكر، أبو سلمة
Newإياس بن سلمة الأسلمي ← سلمة بن الأكوع الأسلمي
ثقة
👤←👥عكرمة بن عمار العجلي، أبو عمار
Newعكرمة بن عمار العجلي ← إياس بن سلمة الأسلمي
صدوق يغلط
👤←👥زيد بن الحباب التميمي، أبو الحسين
Newزيد بن الحباب التميمي ← عكرمة بن عمار العجلي
صدوق حسن الحديث
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← زيد بن الحباب التميمي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5268 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5268
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بُسر بن راعی اشجعی کو بائیں ہاتھ سے کھاتے دیکھ کر فرمایا،
اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ،
لیکن چونکہ آپ نے قرائن سے محسوس کر لیا کہ اس کا یہ کہنا یہ میرے بس میں نہیں یہ محض بہانہ سازی ہے،
اس لیے دعا فرمائی کہ تو اس ہاتھ سے کام نہ لے سکے،
اس سے معلوم ہوا اگر کوئی خلاف شریعت بات سے ٹوکے اور شریعت کے مطابق کام کرنے کی تلقین کرے تو اس کو تکبر سے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے،
یا اس ہدایت کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے،
کہیں ایسا نہ ہو،
اللہ تعالیٰ فورا مواخذہ کر لے اور اپنی کسی نعمت سے محروم کر دے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5268]

Sahih Muslim Hadith 5268 in Urdu