Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب ما يفعل الضيف إذا تبعه غير من دعاه صاحب الطعام واستحباب إذن صاحب الطعام للتابع.
باب: اگر مہمان کے ساتھ کوئی طفیلی ہو جائے تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2037 ترقیم شاملہ: -- 5312
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ،" أَنَّ جَارًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارِسِيًّا كَانَ طَيِّبَ الْمَرَقِ، فَصَنَعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَ يَدْعُوهُ، فَقَالَ: وَهَذِهِ لِعَائِشَةَ، فَقَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، فَعَادَ يَدْعُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذِهِ قَالَ: لَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، ثُمَّ عَادَ يَدْعُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذِهِ قَالَ: نَعَمْ فِي الثَّالِثَةِ، فَقَامَا يَتَدَافَعَانِ حَتَّى أَتَيَا مَنْزِلَهُ".
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فارس سے تعلق رکھنے والا پڑوسی شوربا اچھا بناتا تھا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے شوربا تیار کیا، پھر آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ان کو بھی دعوت ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں (مجھے بھی تمہاری دعوت قبول نہیں) وہ دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو بھی؟ اس نے کہا: نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نہیں۔ وہ پھر دعوت دینے کے لیے آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو بھی؟ تو تیسری بار اس نے کہا: ہاں۔ پھر آپ دونوں ایک دوسرے کے پیچھے چل پڑے یہاں تک کہ اس کے گھر آ گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5312]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فارسی پڑوسی شوربا بہت اچھا تیار کرتا تھا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے شوربہ تیار کیا، پھر وہ آپ کو بلانے آیا، تو آپ نے فرمایا: اور یہ؟ یعنی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، اس نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی نہیں اس نے دوبارہ آپ کو دعوت دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور یہ؟ اس نے کہا: نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے آ کر آپ کو سہ بارہ دعوت دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور یہ؟ اس نے تیسری دفعہ کہا: جی ہاں، تو آپ دونوں ایک دوسرے کے پیچھے تیزی سے چل پڑے حتیٰ کہ اس کے گھر پہنچ گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5312]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2037
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة متقن
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة ثبت
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5312 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5312
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
عام طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعوت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ساتھ نہیں لے جاتے تھے،
بلکہ مردوں میں سے مخصوص ساتھیوں کے ساتھ جاتے تھے،
جیسا کہ اوپر کی حدیث میں انصاری نے آپ کو پانچ ساتھیوں کی صورت میں بلایا،
لیکن یہ پڑوسی تھا،
اس لیے اس کو حضور کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی دعوت دینی چاہیے تھی،
کیونکہ حسن معاشرت کا یہی تقاضا تھا اور یہ بھی ممکن ہے،
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی کھانے کی ضرورت لاحق ہو اور گھر میں کھانا نہ ہو،
اس لیے آپ نے اکیلے کھانا مناسب خیال نہ کیا اور فارسی یہ سمجھتا ہو کہ کھانا ایک کے لیے ہے،
اگر ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی بلا لیا تو آپ سیر نہ ہو سکیں اور وہ چاہتا تھا کہ آپ سیر ہو کر کھا لیں،
جب آپ نے اصرار کیا اور پڑوسی کے ساتھ ایسی بے تکلفی ہو سکتی ہے تو وہ مان گیا،
کیونکہ وہ سمجھ گیا،
آپ کسی وجہ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کو چھوڑنا گوارا نہیں کر رہے تو چلو دونوں کا گزارہ ہو جائے گا،
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس سے استدلال کیا ہے کہ دعوت میں جس شخص کو بلایا جا رہا ہے،
اس کے خصوصی احباب کو بھی بلانا چاہیے،
جیسا کہ انصاری نے کیا تھا،
لیکن فارسی نے اس کی خلاف ورزی کی،
اس لیے آپ نے دعوت قبول کرنے سے انکار فرمایا اور اکیلے یہ عمدہ شوربہ کھانا پسند نہ فرمایا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5312]