Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب جواز استتباعه غيره إلى دار من يثق برضاه بذلك ويتحققه تحققا تاما واستحباب الاجتماع على الطعام:
باب: اگر مہمان کو یقین ہو کہ میزبان دوسرے کسی شخص کو ساتھ لے جانے سے ناراض نہ ہو گا تو ساتھ لے جا سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2038 ترقیم شاملہ: -- 5314
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو هِشَامٍ يَعْنِي المُغِيرَةَ بْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: بَيْنَا أَبُو بَكْرٍ قَاعِدٌ وَعُمَرُ مَعَهُ إِذْ أَتَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا أَقْعَدَكُمَا هَاهُنَا، قَالَا: أَخْرَجَنَا الْجُوعُ مِنْ بُيُوتِنَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ خَلَفِ بْنِ خَلِيفَةَ.
عبدالواحد بن زیاد نے کہا: ہمیں یزید نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابوحازم نے حدیث سنائی، کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ایک روز حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ تھے۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کو کس چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟ دونوں نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! ہمیں بھوک نے اپنے گھروں سے نکالا ہے۔ پھر خلف بن خلیفہ کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5314]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، اس دوران کہ ابوبکر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور فرمایا: تمہیں کس چیز نے یہاں بٹھایا ہے؟ دونوں نے کہا: ہمیں ہمارے گھروں سے بھوک نے نکالا ہے، اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ہے! پھر مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5314]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2038
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سلمان مولى عزة، أبو حازم
Newسلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥يزيد بن كيسان اليشكري، أبو إسماعيل، أبو منين
Newيزيد بن كيسان اليشكري ← سلمان مولى عزة
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الواحد بن زياد العبدي، أبو بشر
Newعبد الواحد بن زياد العبدي ← يزيد بن كيسان اليشكري
ثقة
👤←👥المغيرة بن سلمة المخزومي، أبو هشام
Newالمغيرة بن سلمة المخزومي ← عبد الواحد بن زياد العبدي
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن منصور الكوسج، أبو يعقوب
Newإسحاق بن منصور الكوسج ← المغيرة بن سلمة المخزومي
ثقة ثبت
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5314 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5314
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
اپنے جگری ساتھیوں کے ساتھ اپنی احتیاج و ضرورت یا بھوک کا اظہار اگر شکوہ و شکایت کے طور پر نہ ہو تو زہد و توکل کے منافی نہیں ہے اور بعض دفعہ آپ پر اور آپ کے ساتھیوں پر اسے حالات گزرتے تھے کہ بھوک سے تنگ آ کر گھروں سے باہر نکل آتے تھے،
تاکہ بھوک مٹانے کی کوئی صورت پیدا ہو۔
(2)
کھانے کی ضرورت پوری کرنے کے لیے انسان اپنے کسی ایسے ساتھی کے گھر دو تین ساتھیوں سمیت کیا جا سکتا ہے،
جس کے بارے میں یہ یقین اور اطمینان ہو کہ اس کو ہمارے آنے سے تکلیف اور گھٹن کی بجائے مسرت اور شادمانی حاصل ہو گی اور وہ شوق سے خوش ہو کر کھانے کی دعوت دے گا اور اس کی بیوی بھی ایسے قابل احترام اور قابل اعتماد ساتھیوں کو خاوند کی غیر موجودگی میں خوش آمدید کہہ سکتی ہے اور انہیں گھر میں بٹھا سکتی ہے اور یہ صحابی حضرت ابو الہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ تھے،
جو آپ کو دیکھ کر مسرت سے جھوم اٹھے اور آپ کو ساتھیوں سمیت اپنے باغ میں لے گئے،
اس کے کھجوروں کے باغ تھے اور بہت بکریوں کے مالک تھے،
اس لیے فورا کھجوروں کا خوشہ پیش کیا اور بکری ذبح کی اور آپ نے ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی نعمت قرار دے کر ساتھیوں کو شکر کی تلقین فرمائی اور اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے،
کھانے کے لیے کسی ایسے ساتھی کا انتخاب کرنا چاہیے جو گنجائش اور وسعت و فراخی رکھتا ہو اور اس کو بھی ساتھیوں کی آمد کو بار نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ مسرت و شادمانی کا اظہار کرتے ہوئے،
انہیں اچھا کھانا پیش کرنا چاہیے اور مہمانوں کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں یہ نعمت بخشی ہے کہ میزبان نے ہمیں عمدہ کھانا اور بہترین مشروب پیش کیا ہے اور ان نعمتوں کے بارے میں قیامت کے دن باز پرس بھی ہو گی کہ ان پر کیا شکر ادا کیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5314]