صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
20. باب جواز استتباعه غيره إلى دار من يثق برضاه بذلك ويتحققه تحققا تاما واستحباب الاجتماع على الطعام:
باب: اگر مہمان کو یقین ہو کہ میزبان دوسرے کسی شخص کو ساتھ لے جانے سے ناراض نہ ہو گا تو ساتھ لے جا سکتا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2040 ترقیم شاملہ: -- 5322
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: رَأَى أَبُو طَلْحَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي الْمَسْجِدِ يَتَقَلَّبُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ، فَأَتَى أُمَّ سُلَيْمٍ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي الْمَسْجِدِ يَتَقَلَّبُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ وَأَظُنُّهُ جَائِعًا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ: ثُمَّ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ وَأُمُّ سُلَيْمٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ فَأَهْدَيْنَاهُ لِجِيرَانِنَا.
عمرو بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں لیٹے ہوئے دیکھا آپ پیٹھ اور پیٹ کے بل کروٹیں لے رہے تھے۔ پھر وہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں لیٹے ہوئے دیکھا ہے آپ پیٹھ سے پیٹ کے بل کروٹیں لے رہے تھے اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھوکے ہیں اور (ساری) حدیث بیان کی اور اس میں یہ کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوطلحہ، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کھانا کھایا اور کچھ کھانا بچ گیا جو ہم نے اپنے پڑوسیوں کو ہدیہ کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5322]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں لیٹے ہوئے اس حال میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ پوٹ ہو رہے ہیں تو وہ ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں اس حال میں لیٹے دیکھا کہ آپ پشت اور پیٹ کو بار بار اوپر نیچے کر رہے ہیں اور میں سجھتا ہوں آپ بھوکے ہیں اور مذکورہ بالا حدیث بیان کی اور اس میں یہ بھی ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوطلحہ، ام سلیم، انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے کھایا اور کچھ کھانا بچ گیا تو وہ ہم نے بطور تحفہ پڑوسیوں کو دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5322]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2040
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
عمرو بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري