صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
24. باب استحباب تواضع الآكل وصفة قعوده:
باب: کیونکر بیٹھ کر کھانا چاہیے۔
ترقیم عبدالباقی: 2044 ترقیم شاملہ: -- 5332
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُهُ وَهُوَ مُحْتَفِزٌ يَأْكُلُ مِنْهُ أَكْلًا ذَرِيعًا "، وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ أَكْلًا حَثِيثًا.
زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے سفیان بن عیینہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے مصعب بن سلیم سے انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی: کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوریں پیش کی گئیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بیٹھے ہوئے ان کو تقسیم فرمانے لگے جیسے آپ ابھی اٹھنے لگے ہوں (بیٹھنے کی وہی کیفیت جو پچھلی حدیث میں بیان ہوئی دوسرے لفظوں میں بتائی گئی ہے) اور آپ اس میں سے جلدی جلدی چند دانے کھا رہے تھے۔ زہیر کی روایت میں ذَریعًا کے بجائے حَثِیثًا کا لفظ ہے یعنی بغیر کسی اہتمام کے جلدی جلدی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5332]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوریں لائی گئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اکڑوں بیٹھ کر تقسیم کرنے لگے، ان سے جلدی جلدی کھا رہے تھے، زہیر کی روایت میں «ذَرِيْعًا» کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5332]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2044
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5332 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5332
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
محتفز:
اس آدمی کو کہتے ہیں،
جو جلدی میں ہو،
اس لیے اطمینان اور سکون کے ساتھ نہ کھائے،
بلکہ غیر مطمئن ہوکر بیٹھ کر چند لقمے لگا کر اپنے کسی دوسرے اور اہم کام میں مشغول ہوجائے،
اس لیے آپ نے ٹیک لگا کر یا سہارا کے ساتھ کھانا پسند نہیں کیا،
لیکن چوکڑی مارنا یا آلتی پالتی مارنا ناجائز نہیں ہے،
بہتر ہے کہ انسان گھٹنوں کے بل اپنے پاؤں کی پشت پر بیٹھے یا دایاں پاؤں کھڑا کرکے بائیں پاؤں پر بیٹھے۔
مفردات الحدیث:
محتفز:
اس آدمی کو کہتے ہیں،
جو جلدی میں ہو،
اس لیے اطمینان اور سکون کے ساتھ نہ کھائے،
بلکہ غیر مطمئن ہوکر بیٹھ کر چند لقمے لگا کر اپنے کسی دوسرے اور اہم کام میں مشغول ہوجائے،
اس لیے آپ نے ٹیک لگا کر یا سہارا کے ساتھ کھانا پسند نہیں کیا،
لیکن چوکڑی مارنا یا آلتی پالتی مارنا ناجائز نہیں ہے،
بہتر ہے کہ انسان گھٹنوں کے بل اپنے پاؤں کی پشت پر بیٹھے یا دایاں پاؤں کھڑا کرکے بائیں پاؤں پر بیٹھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5332]
Sahih Muslim Hadith 5332 in Urdu
مصعب بن سليم الزهري ← أنس بن مالك الأنصاري