Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. باب إباحة اكل الثوم وانه ينبغي لمن اراد خطاب الكبار تركه وكذا ما في معناه:
باب: لہسن کھانا درست ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2053 ترقیم شاملہ: -- 5358
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ ، وَاللَّفْظُ مِنْهُمَا قَرِيبٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، فِي رِوَايَةِ حَجَّاجِ بْنِ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ الْأَحْوَل، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَفْلَحَ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَيْهِ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّفْلِ وَأَبُو أَيُّوبَ فِي الْعِلْوِ، قَالَ: فَانْتَبَهَ أَبُو أَيُّوبَ لَيْلَةً، فَقَالَ: نَمْشِي فَوْقَ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَنَحَّوْا فَبَاتُوا فِي جَانِبٍ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " السُّفْلُ أَرْفَقُ "، فَقَالَ: لَا أَعْلُو سَقِيفَةً أَنْتَ تَحْتَهَا، فَتَحَوَّلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُلُوِّ، وَأَبُو أَيُّوبَ فِي السُّفْلِ، فَكَانَ يَصْنَعُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا، فَإِذَا جِيءَ بِهِ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابِعِهِ، فَيَتَتَبَّعُ مَوْضِعَ أَصَابِعِهِ، فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا فِيهِ ثُومٌ، فَلَمَّا رُدَّ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ لَمْ يَأْكُلْ فَفَزِعَ، وَصَعِدَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَحَرَامٌ هُوَ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ "، قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ أَوْ مَا كَرِهْتَ. قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى.
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام افلح نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں مہمان ٹھہرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے کے مکان میں رہے اور سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ اوپر کے درجے میں تھے۔ ایک دفعہ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ رات کو جاگے اور کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے اوپر چلا کرتے ہیں، پھر ہٹ کر رات کو ایک کونے میں ہو گئے۔ پھر اس کے بعد سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اوپر جانے کے لیے کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نیچے کا مکان آرام کا ہے (رہنے والوں کے لیے اور آنے والوں کے لیے اور اسی لیے رسول اللہ نیچے کے مکان میں رہتے تھے)۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا میں اس چھت پر نہیں رہ سکتا جس کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر کے درجے میں تشریف لے گئے اور ابوایوب رضی اللہ عنہ نیچے کے درجے میں آ گئے۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کرتے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھانا آتا (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کھاتے اور اس کے بعد بچا ہوا کھانا واپس جاتا) تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ (آدمی سے) پوچھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں کھانے کی کس جگہ پر لگی ہیں اور وہ وہیں سے (برکت کے لیے) کھاتے۔ ایک دن سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کھانا پکایا، جس میں لہسن تھا۔ جب کھانا واپس گیا تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں کہاں لگی تھیں؟ انہیں بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا نہیں کھایا۔ یہ سن کر سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ گھبرا گئے اور اوپر گئے اور پوچھا کہ کیا لہسن حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، لیکن میں اسے ناپسند کرتا ہوں۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپسند ہے، مجھے بھی ناپسند ہے۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (فرشتے) آتے تھے (اور فرشتوں کو لہسن کی بو سے تکلیف ہوتی اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ کھاتے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5358]
حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں ٹھہرے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نچلی منزل میں ٹھہرے اور ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اوپر کی منزل میں تھے، سو ابوایوب ایک رات بیدار ہوئے تو کہنے لگے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر (اوپر) پر چلیں تو وہ ایک طرف ہٹ گئے اور ایک طرف رات گزاری، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نچلی منزل میں آسانی ہے۔ انہوں نے عرض کیا: میں اس چھت پر نہیں چڑھ سکتا، جس کے نیچے آپ ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اوپر کی منزل میں منتقل ہو گئے اور ابوایوب نچلی منزل میں آ گئے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کرواتے تھے، جب کھانا ان کے پاس واپس آتا، وہ آپ کی انگلیوں کی جگہ کے بارے میں پوچھتے، اور آپ کی انگلیوں کی جگہ کی جستجو کرتے، انہوں نے ایک دن آپ کے لیے کھانا تیار کروایا، اس میں لہسن تھا، جب ان کے پاس واپس لایا گیا، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کی جگہ (جہاں سے آپ نے کھایا تھا) کے بارے میں پوچھا تو انہیں بتایا گیا، آپ نے کھایا نہیں ہے تو وہ گھبرا کر اوپر چڑھ کر آپ کے پاس گئے اور پوچھا: کیا وہ حرام ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، لیکن میں اسے ناپسند کرتا ہوں۔ انہوں نے عرض کیا، جسے آپ ناپسند کرتے ہیں یا ناپسند کیا ہے، میں بھی اسے ناپسند کرتا ہوں۔ ابوایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی لائی جاتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5358]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2053
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو أيوب الأنصاري، أبو أيوبصحابي
👤←👥أفلح مولى أبي أيوب الأنصاري، أبو يحيى، أبو عبد الرحمن، أبو كثير
Newأفلح مولى أبي أيوب الأنصاري ← أبو أيوب الأنصاري
ثقة
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← أفلح مولى أبي أيوب الأنصاري
ثقة
👤←👥ثابت بن يزيد الأحول، أبو زيد
Newثابت بن يزيد الأحول ← عاصم الأحول
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن الفضل السدوسي، أبو النعمان
Newمحمد بن الفضل السدوسي ← ثابت بن يزيد الأحول
ثقة ثبت تغير في آخر عمره
👤←👥أحمد بن سعيد الدارمي، أبو جعفر
Newأحمد بن سعيد الدارمي ← محمد بن الفضل السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥الحجاج بن الشاعر، أبو محمد
Newالحجاج بن الشاعر ← أحمد بن سعيد الدارمي
ثقة حافظ
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5358 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5358
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے صحابہ کرام کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت و محبت اور آپ کی تعظیم و توقیر کا اظہار ہوتا ہے کہ حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھانے میں آپ کی انگلیوں والی جگہ سے کھاتے اور آپ کا پس خوردہ کھاتے،
آپ کی پسند اور ناپسند کا لحاظ رکھتے اور آپ کے اوپر والی منزل میں رہنا گوارا نہیں کیا،
حالانکہ آپ کے لیے اور آپ کے پاس آنے والوں کے لیے آپ کا نچلی منزل میں رہنا سہولت اور آسانی کا باعث تھا،
لیکن آپ نے اپنے میزبان کے جذبات کا لحاظ رکھا اور اوپر کی منزل پر منتقل ہو گئے،
لیکن ہمارے ہاں ادب و احترام کو ایک تکلف خیال کیا جاتا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدبودار چیز سے اس لیے بھی پرہیز کرتے تھے کہ آپ کے پاس فرشتہ نے آنا ہوتا تھا اور معلوم ہوتا ہے،
لہسن کو اچھی طرح پکایا نہیں گیا تھا،
اس لیے اس کی بو باقی رہ گئی تھی،
اب اس سے سمجھا جا سکتا ہے۔
حقہ اور سگریٹ پی کر مسجد میں آنا اور بدبودار منہ سے اللہ تعالیٰ سے مناجات کرنا کتنا ناپسندیدہ کام ہے اور منہ میں نسوار رکھ کر نماز پڑھنا کس قدر بری حرکت ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5358]