Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب إكرام الضيف وفضل إيثاره:
باب: مہمان کی خاطرداری کرنا چاہئے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2054 ترقیم شاملہ: -- 5359
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي مَجْهُودٌ، فَأَرْسَلَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدِي إِلَّا مَاءٌ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أُخْرَى، فَقَالَتْ: مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى قُلْنَ كُلُّهُنَّ مِثْلَ ذَلِكَ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدِي إِلَّا مَاءٌ، فَقَالَ: " مَنْ يُضِيفُ هَذَا اللَّيْلَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ؟ "، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟، قَالَتْ: لَا إِلَّا قُوتُ صِبْيَانِي، قَالَ: فَعَلِّلِيهِمْ بِشَيْءٍ، فَإِذَا دَخَلَ ضَيْفُنَا فَأَطْفِئْ السِّرَاجَ وَأَرِيهِ أَنَّا نَأْكُلُ، فَإِذَا أَهْوَى لِيَأْكُلَ فَقُومِي إِلَى السِّرَاجِ حَتَّى تُطْفِئِيهِ، قَالَ: فَقَعَدُوا وَأَكَلَ الضَّيْفُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " قَدْ عَجِبَ اللَّهُ مِنْ صَنِيعِكُمَا بِضَيْفِكُمَا اللَّيْلَةَ ".
جریر بن عبدالحمید نے فضیل بن غزوان سے، انہوں نے ابوحازم اشجعی سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے (کھانے پینے کی) بڑی تکلیف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ مطہرہ کے پاس کہلا بھیجا، وہ بولیں کہ قسم اس کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے کہ میرے پاس تو پانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری زوجہ کے پاس بھیجا تو انہوں نے بھی ایسا ہی کہا، یہاں تک کہ سب ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے یہی جواب آیا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج کی رات کون اس کی مہمانی کرتا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے۔ تب ایک انصاری اٹھا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! میں کرتا ہوں۔ پھر وہ اس کو اپنے ٹھکانے پر لے گیا اور اپنی بیوی سے کہا کہ تیرے پاس کچھ ہے؟ وہ بولی کہ کچھ نہیں البتہ میرے بچوں کا کھانا ہے۔ انصاری نے کہا کہ بچوں سے کچھ بہانہ کر دے اور جب ہمارا مہمان اندر آئے اور دیکھنا جب ہم کھانے لگیں تو چراغ بجھا دینا۔ پس جب وہ کھانے لگا تو وہ اٹھی اور چراغ بجھا دیا (راوی) کہتا ہے وہ بیٹھے اور مہمان کھاتا رہا۔ اس نے ایسا ہی کیا اور میاں بیوی بھوکے بیٹھے رہے اور مہمان نے کھانا کھایا۔ جب صبح ہوئی تو وہ انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس سے تعجب کیا جو تم نے رات کو اپنے مہمان کے ساتھ کیا (یعنی خوش ہوا)۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5359]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا: میں بھوکا ہوں تو آپ نے اپنی کسی بیوی کے پاس پیغام بھیجا، اس نے کہا: اس ذات کی قسم، جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے، میرے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں، پھر آپ نے دوسری کی طرف پیغام بھیجا تو اس نے بھی یہ بات کہی، حتی کہ ان سب نے یہی جواب دیا، نہیں، اس ذات کی قسم، جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے، میرے پاس صرف پانی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آج رات اس کی مہمان نوازی کرے گا، اللہ اس پر رحم فرمائے گا۔ تو ایک انصاری آدمی کھڑا ہوا اور کہا: میں، اے اللہ کے رسول! وہ اس کو لے کر اپنے گھر چلا گیا اور اپنی بیوی سے کہا: کیا تیرے پاس کچھ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، سوائے میرے بچوں کی خوراک کے، اس نے کہا: انہیں کسی چیز سے بہلا دے اور جب ہمارا مہمان اندر آئے تو چراغ گل کر دینا اور اسے یوں دکھانا کہ ہم کھا رہے ہیں تو جب وہ کھانے کے لیے بڑھے تو اٹھ کر چراغ بجھا دینا، سو وہ سب بیٹھ گئے اور مہمان نے کھانا کھا لیا، جب صبح ہوئی، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات تم نے اپنے مہمان کے ساتھ جو سلوک کیا، اللہ تعالیٰ اس پر بہت خوش ہوا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5359]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2054
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سلمان مولى عزة، أبو حازم
Newسلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥الفضيل بن غزوان الضبي، أبو الفضل
Newالفضيل بن غزوان الضبي ← سلمان مولى عزة
ثقة
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← الفضيل بن غزوان الضبي
ثقة
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4889
ألا رجل يضيفه هذه الليلة يرحمه الله فقام رجل من
صحيح مسلم
5359
عجب الله من صنيعكما بضيفكما الليلة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5359 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5359
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ضرورت مند اور محتاج کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی سے پیش آنا چاہیے،
اگر انسان خود یہ کام نہ کر سکتا ہو تو پھر دوسروں کو اس کی ترغیب دے،
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنے گھروں سے اس کو کھانا مہیا کرنے کی کوشش فرمائی،
یہ نہ ہو سکا تو پھر دوسروں کو ترغیب دی،
پھر حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ جو ایک مالدار صحابی تھے،
وہ اس کو ساتھ لے گئے،
لیکن اتفاقا اس رات ان کے گھر میں مہمان کے لیے وافر کھانا نہ تھا،
اس لیے انہوں نے ایک تدبیر کے ذریعہ اسے کھانا کھلایا اور اسے یہ محسوس نہ ہونے دیا کہ ان کے پاس کھانا کم ہے،
اس سے سب سیر نہیں ہو سکتے،
تاکہ وہ کھانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کرے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5359]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4889
4889. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول! میں فاقہ زدہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ازواج مطہرات کے پاس بھیج دیا لیکن ان کے پاس کھانے کی کوئی چیز نہ تھی۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی شخص ایسا ہے جو آج رات اس مہمان کی میزبانی کرے، اللہ اس پر رحم کرے گا؟ یہ سن کر ایک انصاری صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کی: اللہ کے رسول! یہ آج میرے مہمان ہیں۔ پھر وہ انہیں اپنے ساتھ گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان ہیں۔ ان سے کوئی چیز بچا اور چھپا کر نہ رکھنا۔ وہ کہنے لگی: میرے پاس تو صرف بچوں کی خوراک پڑی ہے۔ انصاری صحابی نے کہا: جب بچے کھانا مانگنے لگیں تو انہیں (بہلا پھسلا کر) سلا دینا اور چراغ بھی گل کر دینا۔ آج رات ہم بھوکے ہی رہ لیں گے۔ بیوی نے ایسا ہی کیا۔ پھر وہ شخص صبح کے وقت آپ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:4889]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں تعجب اور ضحک دو صفتوں کا اللہ کے لئے ذکر ہے جو بر حق ہے ان کی کیفیت میں بحث کرنا بدعت ہے اور ظاہر پر ایمان لانا واجب ہے۔
صفات الہیہ کو بغیر تاویل کے تسلیم کرنا ضروری ہے۔
سلف صالحین کا یہی طریقہ ہے۔
ایمان کے سلامتی اسی میں ہے کہ صرف مسلک سلف کا اتباع کیا جائے اور بس۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4889]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4889
4889. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول! میں فاقہ زدہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ازواج مطہرات کے پاس بھیج دیا لیکن ان کے پاس کھانے کی کوئی چیز نہ تھی۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی شخص ایسا ہے جو آج رات اس مہمان کی میزبانی کرے، اللہ اس پر رحم کرے گا؟ یہ سن کر ایک انصاری صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کی: اللہ کے رسول! یہ آج میرے مہمان ہیں۔ پھر وہ انہیں اپنے ساتھ گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان ہیں۔ ان سے کوئی چیز بچا اور چھپا کر نہ رکھنا۔ وہ کہنے لگی: میرے پاس تو صرف بچوں کی خوراک پڑی ہے۔ انصاری صحابی نے کہا: جب بچے کھانا مانگنے لگیں تو انہیں (بہلا پھسلا کر) سلا دینا اور چراغ بھی گل کر دینا۔ آج رات ہم بھوکے ہی رہ لیں گے۔ بیوی نے ایسا ہی کیا۔ پھر وہ شخص صبح کے وقت آپ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:4889]
حدیث حاشیہ:
انصار کی مہاجرین کے بارے میں ایثار اور ہمدردی لازوال، باکمال اور بے مثال تھی۔
اس کے متعلق درج ذیل خوبصورت واقعہ بھی درج کیا جاتا ہے:
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ طیبہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان بھائی چارا کرا دیا۔
حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت دولت مند تھے۔
انھوں نے حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا:
انصار کو معلوم ہے کہ میں ان سے سب سے زیادہ مال دار ہوں، اب میں اپنا آدھا مال اپنے اور آپ کے درمیان بانٹ دینا چاہتا ہوں اور میری دو بیویاں ہیں، ان میں سے جو آپ کو پسند ہو میں اسے طلاق دے دوں گا۔
اس کی عدت گزر جانے کے بعد آپ اس سے نکاح کرلیں۔
(صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3781)
کیا اس قسم کا ایثار دنیا کی تاریخ میں ملتاہے؟!
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4889]