صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
32. باب إكرام الضيف وفضل إيثاره:
باب: مہمان کی خاطرداری کرنا چاہئے۔
ترقیم عبدالباقی: 2054 ترقیم شاملہ: -- 5360
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ بَاتَ بِهِ ضَيْفٌ، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ إِلَّا قُوتُهُ وَقُوتُ صِبْيَانِهِ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: " نَوِّمِي الصِّبْيَةَ وَأَطْفِئْ السِّرَاجَ وَقَرِّبِي لِلضَّيْفِ مَا عِنْدَكِ، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ سورة الحشر آية 9 ".
وکیع نے فضیل بن غزوان سے، انہوں نے ابوحازم سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انصار میں سے ایک آدمی کے پاس ایک مہمان نے رات گزاری، ان کے پاس صرف اپنا اور بچوں کا کھانا تھا، اس نے اپنی بیوی سے کہا، بچوں کو سلا دو اور چراغ بجھا دو اور جو کھانا تمہارے پاس ہے وہ مہمان کے قریب کر دو، تب یہ آیت نازل ہوئی: ”وَیُؤْثِرُونَ عَلَیٰ أَنفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ“ وہ (دوسروں کو) خود پر ترجیح دیتے ہیں چاہے انہیں سخت احتیاج لاحق ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5360]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، ایک آدمی ایک انصاری کا رات کو مہمان بنا اور اس کے پاس اپنے اور بچوں کی خوراک کے سوا کچھ نہ تھا تو اس نے اپنی بیوی کو کہا، بچوں کو سلا دے اور چراغ گل کر دے اور جو کچھ تیرے پاس ہے، وہ مہمان کو پیش کر دے، اسی سلسلہ میں یہ آیت اتاری ”وہ اپنے نفسوں پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ خود فاقہ سے ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5360]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2054
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5360 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5360
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ انصاری صحابی کے پاس اپنے اور اپنے بچوں کے لیے بقدر گزارہ کھانا موجود تھا،
لیکن اتنا نہ تھا کہ سب اس سے سیر ہو سکتے،
اس لیے انہوں نے مہمان کے لیے ایثار کرتے ہوئے ایک تدبیر اور حیلہ سوچا کہ پتہ نہیں،
وہ کب کا بھوکا ہے اور اسے کتنا کھانا درکار ہو،
اس لیے اگر بچ گیا تو بچوں کو کھلا دیں گے،
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے شدید بھوک میں مبتلا نہ تھے،
وگرنہ ان کو بہلا کر سلانا ممکن نہ ہوتا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ انصاری صحابی کے پاس اپنے اور اپنے بچوں کے لیے بقدر گزارہ کھانا موجود تھا،
لیکن اتنا نہ تھا کہ سب اس سے سیر ہو سکتے،
اس لیے انہوں نے مہمان کے لیے ایثار کرتے ہوئے ایک تدبیر اور حیلہ سوچا کہ پتہ نہیں،
وہ کب کا بھوکا ہے اور اسے کتنا کھانا درکار ہو،
اس لیے اگر بچ گیا تو بچوں کو کھلا دیں گے،
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے شدید بھوک میں مبتلا نہ تھے،
وگرنہ ان کو بہلا کر سلانا ممکن نہ ہوتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5360]
سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي