🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب النهي عن لبس الرجل الثوب المعصفر:
باب: کسم کا رنگ مرد کے لیے درست نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2077 ترقیم شاملہ: -- 5434
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَي ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ ابْنَ مَعْدَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ، قال: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ ثَوْبَيْنِ مُعَصْفَرَيْنِ، فَقَالَ: " إِنَّ هَذِهِ مِنْ ثِيَابِ الْكُفَّارِ فَلَا تَلْبَسْهَا ".
معاذ بن ہشام نے ہمیں بیان کیا، کہا: مجھے میرے والد نے یحییٰ (بن ابی کثیر) سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے محمد بن ابراہیم بن حارث نے حدیث سنائی کہ ابن معدان نے انہیں بتایا کہ انہیں جبیر بن نفیر نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گیروے رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا: یہ کافروں کے کپڑے ہیں تم انہیں مت پہنو۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5434]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زرد رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کافروں کے کپڑے ہیں، اس لیے ان کو مت پہنو۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5434]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2077
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥جبير بن نفير الحضرمي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newجبير بن نفير الحضرمي ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة
👤←👥خالد بن معدان الكلاعي، أبو عبد الله
Newخالد بن معدان الكلاعي ← جبير بن نفير الحضرمي
ثقة
👤←👥محمد بن إبراهيم القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن إبراهيم القرشي ← خالد بن معدان الكلاعي
ثقة
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← محمد بن إبراهيم القرشي
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر
Newهشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة ثبت وقد رمي بالقدر
👤←👥معاذ بن هشام الدستوائي، أبو عبد الله
Newمعاذ بن هشام الدستوائي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← معاذ بن هشام الدستوائي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
5436
بل أحرقهما
صحيح مسلم
5434
هذه من ثياب الكفار فلا تلبسها
سنن أبي داود
4066
ألا كسوتها بعض أهلك فإنه لا بأس به للنساء
سنن أبي داود
4068
ما صنعت بثوبك فقلت أحرقته أفلا كسوته بعض أهلك
سنن ابن ماجه
3603
ألا كسوتها بعض أهلك فإنه لا بأس بذلك للنساء
سنن النسائى الصغرى
5318
هذه ثياب الكفار فلا تلبسها
سنن النسائى الصغرى
5319
اذهب فاطرحهما عنك قال أين يا رسول الله قال في النار
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5434 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5434
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
عصفر:
ایک سرخی مائل زردرنگ کی بوٹی ہے،
جس سے عرب کپڑے رنگتے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5434]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5318
زرد رنگ کا کپڑا پہننا منع ہے۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا، وہ دو کپڑے زرد رنگ کے پہنے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: یہ کفار کا لباس ہے، اسے مت پہنو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5318]
اردو حاشہ:
معصفر سے مراد وہ کپڑا ہے جسے عصفر یعنی کسنبے سے رنگا گیا ہو۔ یہ زرد سرخ سا رنگ ہوتا ہے دیکھنے میں عجیب سا لگتا ہے۔ مردوں کی مردانگی کے خلاف ہے۔ باوقار نہیں اس لیے آپ نے اس سے منع فرمایا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس رنگ کے کپڑے پہننا مذکور ہے۔ ممکن ہے ان کو نہی کا علم نہ ہو۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5318]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5319
زرد رنگ کا کپڑا پہننا منع ہے۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وہ پیلے رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے تھے، یہ دیکھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہوئے اور فرمایا: جاؤ اور اسے اپنے جسم سے اتار دو۔‏‏‏‏ وہ بولے: کہاں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: آگ میں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5319]
اردو حاشہ:
آگ میں اور عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے واقعتا ان کو تنور میں جلا ڈالا۔ رضي الله عنه وأضاه. اگرچہ ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غصے میں فرمایا ہو اور آپ کا مقصد یہ نہ ہو کیونکہ ایسا کپڑا عورت استعمال کر سکتی ہے لہٰذا وہ گھر کی عورتوں کو دیا جا سکتا ہے۔ شاید اس کی وضع ایسی ہو کہ وہ عورتوں کےاستعمال میں نہ آسکتا ہو۔ ورنہ مال ضائع کرنا درست نہیں جیسے آپ نے سونے کی انگوٹھی کے بارے میں فرمایا کہ میرا مقصد اسے ضائع کرنے کا نہیں تھا۔ دیکھی: (حدیث: 5292) لیکن دونوں واقعات میں صحابی کی نیت نیک تھی اور آپ کے ظاہر الفاظ ضائع کرنے کا تاثر دیتے تھے اس لیے ان کا یہ کام موجب اجر و ثواب اور باعث فضیلت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کے مدنظر اپنے مالی نقصان کی پرواہ نہ کی۔ؓ
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5319]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4068
لال رنگ کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا، اس وقت میں گلابی کسم سے رنگا ہوا کپڑا پہنے تھا آپ نے (ناگواری کے انداز میں) فرمایا: یہ کیا ہے؟ تو میں نے جا کر اسے جلا دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تم نے اپنے کپڑے کے ساتھ کیا کیا؟ تو میں نے عرض کیا: میں نے اسے جلا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی کسی گھر والی کو کیوں نہیں پہنا دیا؟۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ثور نے خالد سے مورد (گلابی رنگ میں رنگا ہوا کپڑا) اور طاؤس نے «معصفر» (کسم میں رنگا ہوا کپڑا) روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4068]
فوائد ومسائل:
زعفرانی اور عصفرکا رنگ عورتوں کی زینت کا حصہ ہے، اس لئے مردوں کو جائز نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4068]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3603
مردوں کے لیے پیلے کپڑے پہننے کی کراہت کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم اذاخر ۱؎ کے موڑ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے، آپ میری طرف متوجہ ہوئے، میں باریک چادر پہنے ہوئے تھا جو کسم کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں آپ کی اس ناگواری کو بھانپ گیا، چنانچہ میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا، وہ اس وقت اپنا تنور گرم کر رہے تھے، میں نے اسے اس میں ڈال دیا، دوسری صبح میں آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ! چادر کیا ہوئی؟ میں نے آپ کو ساری بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3603]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
عصفر کا رنگا ہوا کپڑا عورتوں کے لئے جائز ہے۔

(2)
مردوں کو ایسا کپڑا پہننا منع ہے جو عورتوں کا لبا س سمجھا جاتا ہو۔

(3)
جب نرم الفاظ میں تنبیہ کرنے سے بات مانی جائے تو سخت انداز سے تنبیہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

(4)
صحابہ کرام ؓ کے دل میں صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و محبت اس قدر تھی کہ اشارتاً کہی ہوئی بات پر بھی وہ پوری مستعدی سے عمل کرتے تھے۔

(5)
جب کسی کو عالم کی بات سمجھنے میں غلطی لگ گئی ہو تو عالم کو چاہیے کہ وضاحت کردے کہ بات کا صحیح مطلب یہ تھا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3603]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5436
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو (کنبے) زرد رنگ میں رنگے ہوئے کپڑے پہنے دیکھا تو فرمایا: کیا تیری ماں نے تجھے یہ کپڑے پہننے کا حکم دیا ہے؟ میں نے عرض کیا، میں انہیں دھو دیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ ان کو جلا دو۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5436]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
عورتوں کے لیے کپڑوں کو زرد کنبا رنگ دینا جائز ہے،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تیری ماں نے اسے پہننے کا حکم دیا ہے،
لیکن مردوں کے لیے جائز نہیں ہے،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے روکتے ہوئے،
ان کو جلانے کا حکم دیا،
لیکن بقول امام نووی صحابہ و تابعین کی اکثریت نے اس کو جائز قرار دیا ہے،
جس سے معلوم ہوتا ہے،
زرد رنگ گہرا اور شوخ ہو جس سے عورتوں سے مشابہت پیدا ہوتی ہو تو جائز نہیں،
اگر ہلکا پیلا رنگ ہو تو جائز ہے،
کیونکہ بعض روایات سے زرد رنگ کا کپڑا پہننا جائز معلوم ہوتا ہے،
اس صورت میں جائز نہیں جب کافروں سے مشابہت پیدا ہوتی ہو،
یا جب بعد میں رنگا گیا ہو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5436]