علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب التواضع في اللباس والاقتصار على الغليظ منه واليسير في اللباس والفراش وغيرهما وجواز لبس الثوب الشعر وما فيه اعلام:
باب: لباس میں تواضع اختیار کرنے اور سادہ اور موٹا کپڑا پہننے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2080 ترقیم شاملہ: -- 5442
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قال: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا يُصْنَعُ بِالْيَمَنِ وَكِسَاءً مِنَ الَّتِي يُسَمُّونَهَا الْمُلَبَّدَةَ، قَالَ: " فَأَقْسَمَتْ بِاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ فِي هَذَيْنِ الثَّوْبَيْنِ ".
سلیمان بن مغیرہ نے کہا: ہمیں حمید نے ابوبردہ سے حدیث سنائی، کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ایک موٹا تہبند جو یمن میں بنایا جاتا ہے اور ایک اوپر کی چادر (موٹی سخت اور پیوند لگے ہونے کی وجہ سے) جسے مُلبَدہ کہا جاتا ہے نکال کر دکھائی، کہا: انہوں نے اللہ کی قسم کھائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی دو کپڑوں میں داعی اجل کو لبیک کہا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5442]
حضرت ابو بردہ بیان کرتے ہیں، میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ہاں گیا تو انہوں نے یمن میں بنائی جانے والی ایک موٹی تہبند اور ایک کمبل نکالا جس کو مُلَبَّدَه [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5442]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2080
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5818
| قبض روح النبي في هذين |
صحيح مسلم |
5443
| في هذا قبض رسول الله |
صحيح مسلم |
5442
| قبض في هذين الثوبين |
سنن أبي داود |
4036
| قبض في هذين الثوبين |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5442 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5442
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
ملبدة:
مختلف ٹکڑوں کو ملاکربنائی گئی یا پیوند لگی لوئی۔
مفردات الحدیث:
ملبدة:
مختلف ٹکڑوں کو ملاکربنائی گئی یا پیوند لگی لوئی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5442]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4036
موٹے کپڑے پہنے کا بیان۔
ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا تو انہوں نے یمن کا بنا ہوا ایک موٹا تہبند اور ایک کمبل جسے «ملبدة» کہا جاتا تھا نکال کر دکھایا پھر وہ قسم کھا کر کہنے لگیں کہ انہیں دونوں کپڑوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4036]
ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا تو انہوں نے یمن کا بنا ہوا ایک موٹا تہبند اور ایک کمبل جسے «ملبدة» کہا جاتا تھا نکال کر دکھایا پھر وہ قسم کھا کر کہنے لگیں کہ انہیں دونوں کپڑوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4036]
فوائد ومسائل:
موٹے لباس سے طبعیت میں قوت وصلابت اور مردانہ صفات اجاگر ہوتی ہیں، چنانچہ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ اپنے عمال کو موٹا لباس پہننےکا پابند کیا کرتے تھے، جبکہ باریک اور ملائم لباس سے طبعیت میں نزاکت بڑھتی ہے، تاہم حسب احوال ومصالح اونی، سوتی، موٹا یا باریک لباس پہننا مباح ہے۔
موٹے لباس سے طبعیت میں قوت وصلابت اور مردانہ صفات اجاگر ہوتی ہیں، چنانچہ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ اپنے عمال کو موٹا لباس پہننےکا پابند کیا کرتے تھے، جبکہ باریک اور ملائم لباس سے طبعیت میں نزاکت بڑھتی ہے، تاہم حسب احوال ومصالح اونی، سوتی، موٹا یا باریک لباس پہننا مباح ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4036]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5818
5818. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں ایک موٹی کملی اور ایک موٹی چادر دکھائی اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح ان دونوں کپڑوں میں قبض ہوئی تھی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5818]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
موٹی چادر یمن کی بنی ہوئی تھی اور کمبل بھی اسی قسم کا تھا جسے تم مُلَبدہ کہتے ہو۔
(صحیح البخاري، فرض الخمس، حدیث: 3108) (2)
دراصل لِبدہ کپڑے کے اس ٹکڑے کو کہتے ہیں جو پیوند لگانے کے طور پر استعمال ہوتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کمبل پیوند شدہ تھا یا اس کی بُنتی اس طرح کی تھی کہ چار خانے بنے ہوتے تھے اور وہ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے پیوند لگے ہوئے ہوں، بہرحال اس طرح کے کپڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر استعمال تھے، لہذا انہیں اوڑھنے یا پہننے میں کوئی حرج نہیں۔
واللہ أعلم
(1)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
موٹی چادر یمن کی بنی ہوئی تھی اور کمبل بھی اسی قسم کا تھا جسے تم مُلَبدہ کہتے ہو۔
(صحیح البخاري، فرض الخمس، حدیث: 3108) (2)
دراصل لِبدہ کپڑے کے اس ٹکڑے کو کہتے ہیں جو پیوند لگانے کے طور پر استعمال ہوتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کمبل پیوند شدہ تھا یا اس کی بُنتی اس طرح کی تھی کہ چار خانے بنے ہوتے تھے اور وہ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے پیوند لگے ہوئے ہوں، بہرحال اس طرح کے کپڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر استعمال تھے، لہذا انہیں اوڑھنے یا پہننے میں کوئی حرج نہیں۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5818]
Sahih Muslim Hadith 5442 in Urdu
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق