علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب كراهة ما زاد على الحاجة من الفراش واللباس:
باب: حاجت سے زیادہ بچھونے اور لباس بنانا مکروہ ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2084 ترقیم شاملہ: -- 5452
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ: عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَهُ فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ، وَفِرَاشٌ لِامْرَأَتِهِ، وَالثَّالِثُ لِلضَّيْفِ، وَالرَّابِعُ لِلشَّيْطَانِ ".
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ایک بستر مرد کے لیے ہے ایک اس کی بیوی کے لیے تیسرا بستر مہمان کے لیے اور چوتھا بستر شیطان کے لیے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5452]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”ایک بستر خاوند کے لیے اور ایک بستر اس کی بیوی کے لیے اور تیسرا مہمان کے لیے اور چوتھا شیطان کے لیے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5452]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2084
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
3387
| فراش للرجل وفراش لأهله والثالث للضيف والرابع للشيطان |
صحيح مسلم |
5452
| فراش للرجل وفراش لامرأته والثالث للضيف والرابع للشيطان |
سنن أبي داود |
4142
| فراش للرجل وفراش للمرأة وفراش للضيف والرابع للشيطان |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5452 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5452
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
ظروف اور حالات کے مطابق بستر بنانا صحیح ہے،
لیکن محض فخر و مباہات اور اپنی دولت مندی کے اظہار کے لیے بستروں کی بھرمار کرنا،
حالانکہ کبھی ان کی ضرورت پیش نہیں آ سکتی،
یہ اسراف اور تبذیر ہے،
جس پر شیطان خوش ہوتا ہے اور آمادہ کرتا ہے اور بقول بعض ایسے بستروں پر شیطان ہی رات گزارتا ہے اور قیلولہ کرتا ہے،
جیسا کہ اس انسان کے گھر میں رات گزارتا ہے،
جو رات کو گھر داخل ہوتے وقت اللہ کو یاد نہیں کرتا اور اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے،
حالات کے پیش نظر خاوند بیوی الگ الگ بھی سو سکتے ہیں،
ہر حالت میں اکٹھے سونا لازم نہیں ہے،
حالات اجازت دیں تو پھر اکٹھے سونا افضل ہے،
جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
ظروف اور حالات کے مطابق بستر بنانا صحیح ہے،
لیکن محض فخر و مباہات اور اپنی دولت مندی کے اظہار کے لیے بستروں کی بھرمار کرنا،
حالانکہ کبھی ان کی ضرورت پیش نہیں آ سکتی،
یہ اسراف اور تبذیر ہے،
جس پر شیطان خوش ہوتا ہے اور آمادہ کرتا ہے اور بقول بعض ایسے بستروں پر شیطان ہی رات گزارتا ہے اور قیلولہ کرتا ہے،
جیسا کہ اس انسان کے گھر میں رات گزارتا ہے،
جو رات کو گھر داخل ہوتے وقت اللہ کو یاد نہیں کرتا اور اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے،
حالات کے پیش نظر خاوند بیوی الگ الگ بھی سو سکتے ہیں،
ہر حالت میں اکٹھے سونا لازم نہیں ہے،
حالات اجازت دیں تو پھر اکٹھے سونا افضل ہے،
جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5452]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3387
فرش اور بچھونے کا بیان۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بچھونا مرد کے لیے ہو، ایک بیوی کے لیے ہو اور تیسرا مہمان کے لیے اور (اگر چوتھا ہو گا تو) چوتھا شیطان کے لیے ہو گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3387]
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بچھونا مرد کے لیے ہو، ایک بیوی کے لیے ہو اور تیسرا مہمان کے لیے اور (اگر چوتھا ہو گا تو) چوتھا شیطان کے لیے ہو گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3387]
اردو حاشہ:
(1) رخصتی کے موقع پر دیا جانے والا سامان مناسب ہونا چاہیے بشرطیکہ دینے کی استطاعت ہو‘ فالتو سامان جو ان کے استعمال میں بھی نہ آئے‘ نہیں دینا چاہیے۔ غلو کسی بھی چیز میں نقصان دہ ہے۔ مروجہ رسم جہیز بہت سی معاشرتی خرابیوں کا سبب بنتی ہے۔ انسان مقروض ہوجاتا ہے‘ رشتے نہیں ہوتے‘ غریب لوگ بے بس ہوجاتے ہیں‘ عورتیں گھروں میں بیٹھی بوڑھی ہوجاتی ہیں‘ بعد میں دنگا فساد بھی ہوتا ہے۔
(2) ”شیطان کے لیے“ یعنی جو چیز استعمال میں نہیں آتی‘ وہ رکھنا حرام ہے۔ شیطانی کام ہے۔ اگر بچے ہوں یا دوسرے افراد بھی ہوں تو ان کے لیے خواہ بس بستر ہوں‘ جائز ہیں کیونکہ وہ تو استعمال ہوتہے ہیں۔ ”چوتھے“ سے مراد غیر ضروری ہیں جو استعمال نہیں ہوتے۔ واللہ أعلم۔
(3) ممکن ہے اس باب کا مقصود یہ ہو کہ گھر میں ایک سے زائد بستر رکھے جا سکتے ہیں بشرطیکہ وہ گھریلو افراد یا مہمانوں کے استعمال کے لیے ہوں‘ ورنہ ناجائز ہیں۔
(1) رخصتی کے موقع پر دیا جانے والا سامان مناسب ہونا چاہیے بشرطیکہ دینے کی استطاعت ہو‘ فالتو سامان جو ان کے استعمال میں بھی نہ آئے‘ نہیں دینا چاہیے۔ غلو کسی بھی چیز میں نقصان دہ ہے۔ مروجہ رسم جہیز بہت سی معاشرتی خرابیوں کا سبب بنتی ہے۔ انسان مقروض ہوجاتا ہے‘ رشتے نہیں ہوتے‘ غریب لوگ بے بس ہوجاتے ہیں‘ عورتیں گھروں میں بیٹھی بوڑھی ہوجاتی ہیں‘ بعد میں دنگا فساد بھی ہوتا ہے۔
(2) ”شیطان کے لیے“ یعنی جو چیز استعمال میں نہیں آتی‘ وہ رکھنا حرام ہے۔ شیطانی کام ہے۔ اگر بچے ہوں یا دوسرے افراد بھی ہوں تو ان کے لیے خواہ بس بستر ہوں‘ جائز ہیں کیونکہ وہ تو استعمال ہوتہے ہیں۔ ”چوتھے“ سے مراد غیر ضروری ہیں جو استعمال نہیں ہوتے۔ واللہ أعلم۔
(3) ممکن ہے اس باب کا مقصود یہ ہو کہ گھر میں ایک سے زائد بستر رکھے جا سکتے ہیں بشرطیکہ وہ گھریلو افراد یا مہمانوں کے استعمال کے لیے ہوں‘ ورنہ ناجائز ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3387]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4142
بستر اور بچھونے کا بیان۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بستروں اور بچھونوں کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”ایک بستر تو آدمی کو چاہیئے، ایک اس کی بیوی کو چاہیئے اور ایک مہمان کے لیے اور چوتھا بستر شیطان کے لیے ہوتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4142]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بستروں اور بچھونوں کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”ایک بستر تو آدمی کو چاہیئے، ایک اس کی بیوی کو چاہیئے اور ایک مہمان کے لیے اور چوتھا بستر شیطان کے لیے ہوتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4142]
فوائد ومسائل:
گھر کے افراد اور مہمانوں کی آمد کے لحاظ سے بستروں کا اہتمام کرنا حق ہے۔
اس سے زیادہ اسراف، فخرومباہات اور زینت محض ہے جو باعث وبال ہے۔
گھر کے افراد اور مہمانوں کی آمد کے لحاظ سے بستروں کا اہتمام کرنا حق ہے۔
اس سے زیادہ اسراف، فخرومباہات اور زینت محض ہے جو باعث وبال ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4142]
Sahih Muslim Hadith 5452 in Urdu
عبد الله بن هرمز الليثي ← جابر بن عبد الله الأنصاري