یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب تحريم جر الثوب خيلاء وبيان حد ما يجوز إرخاؤه إليه وما يستحب:
باب: غرور سے (ٹخنوں سے نیچے) کپڑا لٹکانے کی حرمت کے بیان میں اور اس کا بیان کہ کہاں تک کپڑا لٹکانا مستحب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2086 ترقیم شاملہ: -- 5462
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قال: مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي إِزَارِي اسْتِرْخَاءٌ، فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ: " ارْفَعْ إِزَارَكَ، فَرَفَعْتُهُ ثُمَّ قَالَ: زِدْ، فَزِدْتُ فَمَا زِلْتُ أَتَحَرَّاهَا بَعْدُ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: إِلَى أَيْنَ؟، فَقَالَ: أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ ".
عبداللہ بن واقد نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے گزرا میری کمر کی چادر کسی حد تک لٹک رہی تھی تو آپ نے فرمایا: ”عبداللہ! اپنی چادر اوپر کر لو۔“ میں نے اپنی چادر اوپر کر لی۔ آپ نے فرمایا: ”اور زیادہ کر لو۔“ میں نے اور زیادہ اوپر کی، پھر میں اس کو اوپر کرتا رہا حتی کہ بعض لوگوں نے عرض کی کہاں تک (اوپر کرے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پنڈلیوں کے آدھے حصوں تک۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5462]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اور میری تہبند کچھ لٹکی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبداللہ! اوپر اٹھاؤ۔“ میں نے اسے اوپر کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”اور اٹھاؤ۔“ تو میں نے اور اوپر کر لی، اس کے بعد میں ہمیشہ اس کی کوشش کرتا رہا تو بعض لوگوں نے پوچھا، کہاں تک؟ تو کہا: ”آدھی پنڈلیوں تک۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5462]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2086
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5462 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5462
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
مردوں کے لیے بہتر یہ ہے۔
۔
۔
جبکہ عورتوں کے پاؤں کی پشت ڈھانپی ہوئی ہونی چاہیے۔
۔
۔
کہ ان کی تہبند شلوار،
پاجامہ وغیرہ آدھی پنڈلیوں تک ہو اور ٹخنوں سے اوپر رکھنا ضروری ہے۔
فوائد ومسائل:
مردوں کے لیے بہتر یہ ہے۔
۔
۔
جبکہ عورتوں کے پاؤں کی پشت ڈھانپی ہوئی ہونی چاہیے۔
۔
۔
کہ ان کی تہبند شلوار،
پاجامہ وغیرہ آدھی پنڈلیوں تک ہو اور ٹخنوں سے اوپر رکھنا ضروری ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5462]
Sahih Muslim Hadith 5462 in Urdu
عبد الله بن واقد العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي