صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
10. باب تحريم التبختر في المشي مع إعجابه بثيابه:
باب: کپڑوں وغیرہ پر اترانا یا اکڑ کر چلنا حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2088 ترقیم شاملہ: -- 5465
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي قَدْ أَعْجَبَتْهُ جُمَّتُهُ وَبُرْدَاهُ إِذْ خُسِفَ بِهِ الْأَرْضُ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ".
ربیع بن مسلم نے محمد بن زیاد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ نے فرمایا: ”ایک شخص اپنے بالوں اور اپنی چادروں پر اتراتا ہوا چل رہا تھا کہ اچانک اس کو زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ قیامت تک زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5465]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی دوران کہ ایک آدمی چل رہا تھا اور اپنے کندھوں پر پڑنے والے بالوں اور اپنی دونوں چادروں پر اترا رہا تھا کہ اسے زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ قیامت تک زمین میں دھنستا رہے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5465]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2088
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5789
| بينما رجل يمشي في حلة تعجبه نفسه مرجل جمته إذ خسف الله به فهو يتجلجل إلى يوم القيامة |
صحيح مسلم |
5467
| بينما رجل يتبختر يمشي في برديه قد أعجبته نفسه فخسف الله به الأرض فهو يتجلجل فيها إلى يوم القيامة |
صحيح مسلم |
5465
| بينما رجل يمشي قد أعجبته جمته وبرداه إذ خسف به الأرض فهو يتجلجل في الأرض حتى تقوم الساعة |
صحيفة همام بن منبه |
65
| بينما رجل يتبختر في بردين وقد أعجبته نفسه خسف به الأرض فهو يتجلجل فيها إلى يوم القيامة |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5465 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5465
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
جمة:
سر سے کندھوں پر پڑنے والے بال۔
(2)
يتججل:
وہ مسلسل حرکت کے ساتھ دھنس رہا ہے۔
فوائد ومسائل:
بقول امام سہیلی رحمہ اللہ یہ دھنس جانے والا فارسی ایرانی جنگلی ھَیرَن ہے اور ایک انتہائی ضعیف روایت کے مطابق قارون ہے۔
مفردات الحدیث:
(1)
جمة:
سر سے کندھوں پر پڑنے والے بال۔
(2)
يتججل:
وہ مسلسل حرکت کے ساتھ دھنس رہا ہے۔
فوائد ومسائل:
بقول امام سہیلی رحمہ اللہ یہ دھنس جانے والا فارسی ایرانی جنگلی ھَیرَن ہے اور ایک انتہائی ضعیف روایت کے مطابق قارون ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5465]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5789
5789. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔۔۔ یا (کہا کہ) حضرت ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔۔۔۔۔ ایک آدمی جوڑا پہنے ہوئے اور اپنے بالوں میں کنگھی کر کے فخر وغرور سے چل رہا تھا کہ اچانک اللہ تعالیٰ نے اس کو زمین میں دھنسا دیا ”وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی چلا جائے گا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5789]
حدیث حاشیہ:
یہ قارون یا ہیزن فارس کا رہنے والا شخص تھا۔
یہ قارون یا ہیزن فارس کا رہنے والا شخص تھا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5789]
Sahih Muslim Hadith 5465 in Urdu
محمد بن زياد القرشي ← أبو هريرة الدوسي