صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب من جر ثوبه من الخيلاء:
باب: جو تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹتا ہوا چلے اس کی سزا کا بیان۔
حدیث نمبر: 5789
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي فِي حُلَّةٍ تُعْجِبُهُ نَفْسُهُ مُرَجِّلٌ جُمَّتَهُ إِذْ خَسَفَ اللَّهُ بِهِ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی یا (یہ بیان کیا کہ) ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(بنی اسرائیل میں) ایک شخص ایک جوڑا پہن کر کبر و غرور میں سر مست، سر کے بالوں میں کنگھی کئے ہوئے اکڑ کر اتراتا جا رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک اس میں تڑپتا رہے گا یا دھنستا رہے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5789]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥محمد بن زياد القرشي، أبو الحارث محمد بن زياد القرشي ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← محمد بن زياد القرشي | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥آدم بن أبي إياس، أبو الحسن آدم بن أبي إياس ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5789
| بينما رجل يمشي في حلة تعجبه نفسه مرجل جمته إذ خسف الله به فهو يتجلجل إلى يوم القيامة |
صحيح مسلم |
5467
| بينما رجل يتبختر يمشي في برديه قد أعجبته نفسه فخسف الله به الأرض فهو يتجلجل فيها إلى يوم القيامة |
صحيح مسلم |
5465
| بينما رجل يمشي قد أعجبته جمته وبرداه إذ خسف به الأرض فهو يتجلجل في الأرض حتى تقوم الساعة |
صحيفة همام بن منبه |
65
| بينما رجل يتبختر في بردين وقد أعجبته نفسه خسف به الأرض فهو يتجلجل فيها إلى يوم القيامة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5789 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5789
حدیث حاشیہ:
یہ قارون یا ہیزن فارس کا رہنے والا شخص تھا۔
یہ قارون یا ہیزن فارس کا رہنے والا شخص تھا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5789]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5465
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دوران کہ ایک آدمی چل رہا تھا اور اپنے کندھوں پر پڑنے والے بالوں اور اپنی دونوں چادروں پر اترا رہا تھا تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ قیامت تک زمین میں دھنستا رہے گا۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5465]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
جمة:
سر سے کندھوں پر پڑنے والے بال۔
(2)
يتججل:
وہ مسلسل حرکت کے ساتھ دھنس رہا ہے۔
فوائد ومسائل:
بقول امام سہیلی رحمہ اللہ یہ دھنس جانے والا فارسی ایرانی جنگلی ھَیرَن ہے اور ایک انتہائی ضعیف روایت کے مطابق قارون ہے۔
مفردات الحدیث:
(1)
جمة:
سر سے کندھوں پر پڑنے والے بال۔
(2)
يتججل:
وہ مسلسل حرکت کے ساتھ دھنس رہا ہے۔
فوائد ومسائل:
بقول امام سہیلی رحمہ اللہ یہ دھنس جانے والا فارسی ایرانی جنگلی ھَیرَن ہے اور ایک انتہائی ضعیف روایت کے مطابق قارون ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5465]
محمد بن زياد القرشي ← أبو هريرة الدوسي