علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
14. باب في طرح الخواتم:
باب: انگوٹھیاں پھینکنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2093 ترقیم شاملہ: -- 5485
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابوعاصم نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5485]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی حدیث نقل کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5485]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2093
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد | ثقة | |
👤←👥الضحاك بن مخلد النبيل، أبو عاصم الضحاك بن مخلد النبيل ← ابن جريج المكي | ثقة ثبت | |
👤←👥عقبة بن مكرم العمي، أبو عبد الملك عقبة بن مكرم العمي ← الضحاك بن مخلد النبيل | ثقة |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5485 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5485
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت انس رضی اللہ عنہ کے اکثر شاگرد سونے کی انگوٹھی پھینکنے کا ذکر کرتے ہیں،
لیکن امام زھری نے چاندی کی انگوٹھی پھینکنے کا تذکرہ کیا ہے۔
اس لیے اکثر علماء کے نزدیک یہ راوی یعنی امام زہری کا وہم ہے کہ انہوں نے سونے کی جگہ چاندی کہہ دیا اور بعض حضرات نے اس کی تاویل کی ہے کہ لوگوں نے بھی آپ کے انداز میں انگوٹھیاں بنوا لیں،
جس سے امتیاز ختم ہو گیا اور اصل مقصد فوت ہو گیا،
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی پھینک دی اور پھر دوبارہ انگوٹھی بنوائی جس میں محمد رسول اللہ تھا اور لوگوں کو اس نقش سے منع کر دیا،
تاکہ خطوط پر مہر لگانے کا مقصد حاصل ہو سکے۔
فوائد ومسائل:
حضرت انس رضی اللہ عنہ کے اکثر شاگرد سونے کی انگوٹھی پھینکنے کا ذکر کرتے ہیں،
لیکن امام زھری نے چاندی کی انگوٹھی پھینکنے کا تذکرہ کیا ہے۔
اس لیے اکثر علماء کے نزدیک یہ راوی یعنی امام زہری کا وہم ہے کہ انہوں نے سونے کی جگہ چاندی کہہ دیا اور بعض حضرات نے اس کی تاویل کی ہے کہ لوگوں نے بھی آپ کے انداز میں انگوٹھیاں بنوا لیں،
جس سے امتیاز ختم ہو گیا اور اصل مقصد فوت ہو گیا،
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی پھینک دی اور پھر دوبارہ انگوٹھی بنوائی جس میں محمد رسول اللہ تھا اور لوگوں کو اس نقش سے منع کر دیا،
تاکہ خطوط پر مہر لگانے کا مقصد حاصل ہو سکے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5485]
Sahih Muslim Hadith 5485 in Urdu
الضحاك بن مخلد النبيل ← ابن جريج المكي