صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب الذكر المستحب عقب الوضوء:
باب: وضو کے بعد کیا پڑھنا چاہیے۔
ترقیم عبدالباقی: 234 ترقیم شاملہ: -- 554
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، وَأَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرِ بْنِ مَالِكٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ تَوَضَّأَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ".
زید بن حباب نے معاویہ بن صالح سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد پچھلی روایت کے الفاظ ہیں، البتہ انہوں نے (اس طرح) کہا: ”جس نے وضو کیا اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 554]
یہی روایت امام صاحب رحمہ اللہ مذکورہ بالا روایت ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں۔ ہاں اس میں یہ الفاظ ہیں: ”جس نے وضو کرنے کے بعد کہا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ ٱللَّٰهِ وَرَسُولُهُ» ۔“ (یعنی: دعائیہ کلمات میں کچھ اضافہ ہے) [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 554]
ترقیم فوادعبدالباقی: 234
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (552)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 554 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 554
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
سنن ترمذی میں یہ اضافہ ہے:
«اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ،
وَاجْعَلْنِي مِنَ المُتَطَهِّرِينَ» امام نسائی کی کتاب (عمل الیوم واللیلة)
میں یہ اضافہ ہے:
«سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ،
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ،
وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ،
أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» (شرح صحیح مسلم للنووي ج: 1 ص: 123)
بہتر یہی ہے کہ ان تمام ادعیہ مبارک کا ورد کرے۔
فوائد ومسائل:
سنن ترمذی میں یہ اضافہ ہے:
«اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ،
وَاجْعَلْنِي مِنَ المُتَطَهِّرِينَ» امام نسائی کی کتاب (عمل الیوم واللیلة)
میں یہ اضافہ ہے:
«سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ،
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ،
وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ،
أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» (شرح صحیح مسلم للنووي ج: 1 ص: 123)
بہتر یہی ہے کہ ان تمام ادعیہ مبارک کا ورد کرے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 554]
جبير بن نفير الحضرمي ← عقبة بن عامر الجهني