صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب الذكر المستحب عقب الوضوء:
باب: وضو کے بعد کیا پڑھنا چاہیے۔
ترقیم عبدالباقی: 234 ترقیم شاملہ: -- 553
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ . ح وَحَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: كَانَتْ عَلَيْنَا رِعَايَةُ الإِبِلِ، فَجَاءَتْ نَوْبَتِي، فَرَوَّحْتُهَا بِعَشِيٍّ، فَأَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا يُحَدِّثُ النَّاسَ، فَأَدْرَكْتُ مِنْ قَوْلِهِ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ، فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، مُقْبِلٌ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ، إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ "، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا أَجْوَدَ هَذِهِ؟ فَإِذَا قَائِلٌ بَيْنَ يَدَيَّ، يَقُولُ: الَّتِي قَبْلَهَا أَجْوَدُ، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا عُمَرُ ، قَالَ: إِنِّي قَدْ رَأَيْتُكَ جِئْتَ آنِفًا، قَالَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ، فَيُبْلِغُ، أَوْ فَيُسْبِغُ الْوَضُوءَ، ثُمَّ يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ، يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ،
عبدالرحمان بن مہدی نے کہا: ہمیں معاویہ بن صالح نے ربیعہ بن یزید کے حوالے سے ابوادریس خولانی سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اسی طرح (معاویہ نے) کہا: مجھے ابوعثمان نے جبیر بن نفیر سے، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمارے ذمے اونٹ چرانے کا کام تھا، میری باری آئی، تو میں شام کو انہیں چرا کر واپس لایا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ کھڑے ہو کر لوگوں کو کچھ ارشاد فرما رہے تھے، مجھے آپ کی یہ بات (سننے کو) ملی: ”جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر کھڑے ہو کر پوری یکسوئی اور توجہ کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھتا ہے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔“ میں نے کہا: ’کیا خوب بات ہے یہ!‘ تو میرے سامنے ایک شخص کہنے لگا: ’اس سے پہلے والی بات اس سے بھی زیادہ عمدہ ہے۔‘ میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے کہا: ’میں نے دیکھا ہے کہ تم ابھی آئے ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس سے پہلے) فرمایا تھا: ”تم میں سے جو شخص بھی وضو کرے اور اپنے وضو کو پورا کرے (یا اچھی طرح وضو کرے) پھر یہ کہے: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جس سے چاہے داخل ہو جائے۔“‘ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 553]
ترقیم فوادعبدالباقی: 234
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابوداود في ((سننه)) في الطهارة، باب: ما يقول الرجل اذا توضا (169) مطولا - وفي الصلاة، باب: كراهية الوسوسة وحديث النفس في الصلاة برقم (906) والنسائي في ((المجتبى)) 94/1-95 في الطهارة، باب: ثواب من احسن الوضوء ثم صلى ركعتين - انظر ((التحفه)) برقم (9914)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
151
| من توضأ فأحسن الوضوء ثم صلى ركعتين يقبل عليهما بقلبه ووجهه وجبت له الجنة |
سنن أبي داود |
169
| ما منكم من أحد يتوضأ فيحسن الوضوء ثم يقوم فيركع ركعتين يقبل عليهما بقلبه ووجهه إلا قد أوجب |
صحيح مسلم |
553
| ما من مسلم يتوضأ فيحسن وضوءه ثم يقوم فيصلي ركعتين مقبل عليهما بقلبه ووجهه إلا وجبت له الجنة ما منكم من أحد يتوضأ فيبلغ أو فيسبغ الوضوء ثم يقول أشهد أن |
سنن أبي داود |
906
| ما من أحد يتوضأ فيحسن الوضوء ويصلي ركعتين يقبل بقلبه ووجهه عليهما إلا وجبت له الجنة |
بلوغ المرام |
52
| ما منكم من احد يتوضا فيسبغ الوضوء |
عقبة بن عامر الجهني ← عمر بن الخطاب العدوي