صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
35. باب النهي عن التزوير في اللباس وغيره والتشبع بما لم يعط:
باب: فریب کا لباس پہننے کی اور جو نہ ہو اس کا ذکر کرنے کہنے کی ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 2129 ترقیم شاملہ: -- 5583
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً، قالت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقُولُ إِنَّ زَوْجِي أَعْطَانِي مَا لَمْ يُعْطِنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! (اگر) میں یہ کہوں: مجھے (یہ سب) میرے خاوند نے دیا ہے جو اس نے نہیں دیا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو (کھانا) نہیں ملا، خود کو اس سے سیر ظاہر کرنے والا، جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5583]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں، جو چیز خاوند نے نہیں دی، وہ دینے کا اظہار کر سکتی ہوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چیز میسر نہیں، اس سے سیری کا اظہار کرنے والا، وہ جھوٹے کپڑے پہننے والے کی طرح ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5583]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2129
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5583 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5583
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ:
بھوکا،
سیر ہونے والے کی مشابہت اختیار کرے،
جوخوبی موجود نہیں ہے،
اس سے متصف ہونے کا اظہار کرے،
جھوٹی زیبائش کے لیے،
کنگلا بہت کچھ ہونے کا دعوی کرے،
عورت اپنی سوکن کو جلانے کے لیے جو کچھ خاوند نے نہیں دیا ہے،
اس کے دینے کا اظہار کرے۔
(2)
كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ:
(1)
نیک اور پارسا لوگوں کا لباس پہن کر اپنے زہد اور ورع کا اظہار کرنا۔
(2)
جھوٹ بولنے کو شعار بنانا جس طرح پسندیدہ اخلاق کو ظاھر الثوب کہہ دیا جاتا ہے۔
(3)
جھوٹی گواہی دینے کے لیے بن ٹھن کرجانا،
تاکہ اسے متاثر ہوکر اس کی گواہی قبول کرلی جائے۔
(4)
دوہری آستین بنانا،
اصل مقصد سرتاپا جھوٹا ہونا ہے کہ ایسا آدمی مجسم جھوٹ ہے۔
مفردات الحدیث:
(1)
الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ:
بھوکا،
سیر ہونے والے کی مشابہت اختیار کرے،
جوخوبی موجود نہیں ہے،
اس سے متصف ہونے کا اظہار کرے،
جھوٹی زیبائش کے لیے،
کنگلا بہت کچھ ہونے کا دعوی کرے،
عورت اپنی سوکن کو جلانے کے لیے جو کچھ خاوند نے نہیں دیا ہے،
اس کے دینے کا اظہار کرے۔
(2)
كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ:
(1)
نیک اور پارسا لوگوں کا لباس پہن کر اپنے زہد اور ورع کا اظہار کرنا۔
(2)
جھوٹ بولنے کو شعار بنانا جس طرح پسندیدہ اخلاق کو ظاھر الثوب کہہ دیا جاتا ہے۔
(3)
جھوٹی گواہی دینے کے لیے بن ٹھن کرجانا،
تاکہ اسے متاثر ہوکر اس کی گواہی قبول کرلی جائے۔
(4)
دوہری آستین بنانا،
اصل مقصد سرتاپا جھوٹا ہونا ہے کہ ایسا آدمی مجسم جھوٹ ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5583]
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق