صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب استحباب تحنيك المولود عند ولادته وحمله إلى صالح يحنكه وجواز تسميته يوم ولادته واستحباب التسمية بعبد الله وإبراهيم وسائر اسماء الانبياء عليهم السلام:
باب: بچہ کے منہ میں کچھ چبا کر ڈالنے کا اور دوسری چیزوں کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2144 ترقیم شاملہ: -- 5614
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ.
حماد بن مسعدہ نے کہا: ہمیں ابن عون نے محمد (ابن سیرین) سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی قصے کے ساتھ یزید کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5614]
امام صاحب کو یہی روایت، واقعہ سمیت ایک اور استاد نے سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5614]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2144
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥عبد الله بن عون المزني، أبو عون عبد الله بن عون المزني ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥حماد بن مسعدة التميمي، أبو سعيد حماد بن مسعدة التميمي ← عبد الله بن عون المزني | ثقة | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← حماد بن مسعدة التميمي | ثقة حافظ |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5614 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5614
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
هواسكن مماكان:
بیماری کی صورت میں جس حال میں تھا،
اس سے زیادہ پرسکون ہے۔
فوائد ومسائل:
اس طرح حضرت ام سلیم نے تعریض و توریہ سے کام لیا،
پھر بعد میں اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے خوب بن ٹھن کر ان کے سامنے آئیں اور انہوں نے تعلقات قائم کر لیے،
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے نتیجہ میں،
بچہ پیدا ہوا اور آپ نے اسے کھجوروں کی گھٹی دے کر اس کا نام عبداللہ رکھا،
اللہ تعالیٰ نے اس کو نو (9)
بیٹے دیے،
جو سب حافظ بنے اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے موت کی اطلاع دینے سے پہلے کہا،
اے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اگر کوئی کسی سے کوئی چیز عاریۃ لے اور بعد میں مالک اپنی عاریۃ دی ہوئی چیز کی واپسی کا مطالبہ کرے تو کیا اس کا مطالبہ کو رد کیا جا سکتا ہے؟ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا،
نہیں تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا،
اپنے بیٹے کا ثواب کماؤ،
اس پر حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے کہ تو نے مجھے ایسی صورت میں تعلقات پر آمادہ کیا،
پھر اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی،
آپ نے دعا دی۔
مفردات الحدیث:
هواسكن مماكان:
بیماری کی صورت میں جس حال میں تھا،
اس سے زیادہ پرسکون ہے۔
فوائد ومسائل:
اس طرح حضرت ام سلیم نے تعریض و توریہ سے کام لیا،
پھر بعد میں اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے خوب بن ٹھن کر ان کے سامنے آئیں اور انہوں نے تعلقات قائم کر لیے،
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے نتیجہ میں،
بچہ پیدا ہوا اور آپ نے اسے کھجوروں کی گھٹی دے کر اس کا نام عبداللہ رکھا،
اللہ تعالیٰ نے اس کو نو (9)
بیٹے دیے،
جو سب حافظ بنے اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے موت کی اطلاع دینے سے پہلے کہا،
اے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اگر کوئی کسی سے کوئی چیز عاریۃ لے اور بعد میں مالک اپنی عاریۃ دی ہوئی چیز کی واپسی کا مطالبہ کرے تو کیا اس کا مطالبہ کو رد کیا جا سکتا ہے؟ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا،
نہیں تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا،
اپنے بیٹے کا ثواب کماؤ،
اس پر حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے کہ تو نے مجھے ایسی صورت میں تعلقات پر آمادہ کیا،
پھر اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی،
آپ نے دعا دی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5614]
محمد بن سيرين الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري