🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب تحريم النظر في بيت غيره:
باب: غیر کے گھر میں جھانکنا حرام ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2157 ترقیم شاملہ: -- 5641
حَدَّثَنَا يَحْيي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَي، وَأَبِي كَامِلٍ، قَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ أَوْ مَشَاقِصَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْتِلُهُ لِيَطْعُنَهُ ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے میں جھانک کر دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چوڑے پھل کا ایک تیر یا کئی تیر لے کر اٹھے جیسے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ خاموشی سے اس کی آنکھوں میں وہ تیر چبھونے کے امکان کا جائزہ لے رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5641]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی کمرہ کے اندر سے جھانکا تو آپ اسی کی طرف تیر لے کر لپکے، گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو تیر مارنے کے لیے حیلہ یا تدبیر کر رہے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5641]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2157
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥عبيد الله بن أبي بكر الأنصاري، أبو معاذ
Newعبيد الله بن أبي بكر الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← عبيد الله بن أبي بكر الأنصاري
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة ثبت
👤←👥الفضيل بن الحسين الجحدري، أبو كامل
Newالفضيل بن الحسين الجحدري ← قتيبة بن سعيد الثقفي
ثقة حافظ
👤←👥يحيى بن يحيى النيسابوري، أبو زكريا
Newيحيى بن يحيى النيسابوري ← الفضيل بن الحسين الجحدري
ثقة ثبت إمام
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6242
رجلا اطلع من بعض حجر النبي فقام إليه النبي بمشقص أو بمشاقص فكأني أنظر إليه يختل الرجل ليطعنه
صحيح البخاري
6889
رجلا اطلع في بيت النبي فسدد إليه مشقصا
صحيح البخاري
6900
رجلا اطلع من حجر في بعض حجر النبي فقام إليه بمشقص وجعل يختله ليطعنه
صحيح مسلم
5641
رجلا اطلع من بعض حجر النبي فقام إليه بمشقص أو مشاقص فكأني أنظر إلى رسول الله يختله ليطعنه
جامع الترمذي
2708
كان في بيته فاطلع عليه رجل فأهوى إليه بمشقص فتأخر الرجل
سنن أبي داود
5171
قام إليه رسول الله بمشقص قال فكأني أنظر إلى رسول الله يختله ليطعنه
سنن النسائى الصغرى
4862
أما إنك لو ثبت لفقأت عينك
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5641 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5641
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
مشقص ج مشاقص:
چوڑا تیر۔
(2)
يختل:
حیلہ اور چارہ کرنا،
جستجو کرنا کہ اس کی غفلت سے فائدہ اٹھا کراس کو نشانہ بنایا جائے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5641]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4862
دیت کے سلسلے میں عمرو بن حزم کی حدیث کا ذکر اور اس کے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر آیا تو دراز میں آنکھ لگا کر جھانکنے لگا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ دیکھا تو لوہا یا لکڑی لے کر اس کی آنکھ پھوڑنے کا ارادہ کیا، جب اس کی نظر پڑی تو اس نے اپنی آنکھ ہٹا لی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اگر تم اپنی آنکھ یہیں رکھتے تو میں تمہاری آنکھ پھوڑ دیتا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4862]
اردو حاشہ:
(1) پھوڑ دیتا اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ اگر کوئی اس طرح چھپ کر کسی کے گھر دیکھے تو حاکم وقت کو اطلاع کیے بغیر ہی اس کی آنکھ پھوڑی جا سکتی ہے۔ کوئی دیت یا تاوان واجب الاداء نہیں ہو گا۔ امام شافعی اور امام احمد رحہم اللہ  کا یہی خیال ہے مگر امام مالک اور امام ابوحنیفہ رحہم اللہ  اس کے قائل نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ آپ نے یہ کلمات زجراً فرمائے تھے۔ آپ کی نیت اس کی آنکھ پھوڑنے کی نہیں تھی۔ راجح یہی ہے کہ ایسے شخص کی آنکھ پھوڑنا جائز ہے اور پھوڑنے والے پر کوئی تاوان بھی نہیں ہوگا کیونکہ حدیث سے اسی موقف کی تائید ہوتی ہے۔ بے جا تاویلات سے گریز کرنا چاہیے۔
(2) یہ حدیث اور آئندہ حدیث سابقہ باب سے اس طرح متعلق ہیں کہ ایسی حالت میں اگر آنکھ پھوڑ دی جائے تو کوئی دیت نہیں دینا پڑے گی۔ یا پھر امام صاحب نیا باب قائم کرنا بھول گئے ہیں یا یہ دونوں احادیث آئندہ باب سے متعلق ہیں جیسا کہ سنن نسائی میں کئی مقامات پر ہوا ہے۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4862]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5171
گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنے کا بیان۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ایک کمرے سے جھانکا تو آپ تیر کا ایک یا کئی پھل لے کر اس کی طرف بڑھے، گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کی آپ اس کی طرف اس طرح بڑھ رہے ہیں کہ وہ جان نہ پائے تاکہ اسے گھونپ دیں۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5171]
فوائد ومسائل:
کسی کے گھر میں بغیر اجازت کے جھانکنا حرام اور انتہائی بد اخلاقی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ انسان کسی کے دروازے پر دستک دے تو اس کا ادب یہ ہے کہ ایک جانب کھڑا ہوجیسے کہ اگلی حدیث 5174 میں آرہا ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5171]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6242
6242. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی گھر میں جھانکا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک لمبے نیزے کا پھل لیے ہوئے اس کی طرف اٹھے۔ گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ اس کی طرف چپکے چپکے تشریف لے گئے تاکہ بے خبری میں اسے مار دیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6242]
حدیث حاشیہ:
گویا آپ وہ پھل انہیں چبھو دیں گے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6242]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6242
6242. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی گھر میں جھانکا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک لمبے نیزے کا پھل لیے ہوئے اس کی طرف اٹھے۔ گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ اس کی طرف چپکے چپکے تشریف لے گئے تاکہ بے خبری میں اسے مار دیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6242]
حدیث حاشیہ:
(1)
کسی کے گھر میں اجازت کے بغیر جھانکنا حرام اور انتہائی بری حرکت ہے کیونکہ اجازت لینے کا حکم نظر ہی کی وجہ سے ہوتا ہے، اگر بلا اجازت تاک جھانک کرنا ہے تو اجازت لینے کے کیا معنی؟ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
جب نظر اندر چلی گئی تو پھر اجازت کیسی۔
(سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 5173)
یہی وجہ ہے کہ انسان کسی کے دروازے پر دستک دے تو ایک جانب کھڑا ہو کر دے جیسا کہ ایک حدیث میں اس کی صراحت ہے۔
(سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 5174) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی کسی کے گھر میں جھانکتا ہے تو گھر والا اسے سزا دے سکتا ہے جیسا کہ ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جس نے کسی کے گھر میں اجازت کے بغیر جھانکا، اہل خانہ نے اس کی آنکھ پھوڑ دی تو اس کا کوئی تاوان نہیں بلکہ یہ ضائع ہے۔
(صحیح مسلم، الأدب، حدیث: 5642(2158)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6242]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6889
6889. ایک روایت کے مطابق ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر جھانک رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف تیر کا پھل سیدھا کیا۔ (یحییٰ نےکہا:) میں نے(حمید سے) پوچھا: یہ حدیث تم سےکس نے بیان کی ہے؟ تو انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک ؓ نے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6889]
حدیث حاشیہ:
(1)
حقوق کی دو قسمیں ہیں:
٭مالی حقوق۔
٭بدنی حقوق۔
مالی حقوق کے متعلق اجازت ہے کہ انسان انھیں حاکم وقت کے نوٹس میں لائے بغیر وصول کر سکتا ہے لیکن بدنی حقوق قصاص وغیرہ کا از خود نوٹس نہیں لینا چاہیے کیونکہ یہ حکومت کا کام ہے، البتہ شریعت نے اس قدر اجازت دی ہے کہ اگر کوئی انسان کسی کے گھر میں اجازت کے بغیر جھانکتا ہے تو اگر گھر کا مالک اس کی آنکھ پھوڑ دے تو اس پر کوئی تاوان نہیں ہوگا جیسا کہ حدیث میں ہے:
اگر کوئی آدمی کسی دوسرے کے گھر میں اجازت کے بغیر جھانکتا ہے اور گھر والا اس کی آنکھ پھوڑ دیتا ہے تو اس پر کوئی قصاص یا دیت نہیں ہے۔
(سنن النسائي، القسامة، حدیث: 4864)
اس سے زیادہ کی شرعاً اجازت نہیں۔
(2)
بعض حضرات کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ جائز تھا کسی امتی کے لیے ایسا کرنا درست نہیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال واقوال ہر امتی کے لیے اس وقت تک حجت ہیں جب تک شرعی دلیل سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تخصیص ثابت نہ ہو۔
کسی شرعی دلیل سے یہ امر ثابت نہیں کہ مذکورہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے۔
بہرحال مالی حقوق از خود وصول کیے جا سکتے ہیں لیکن حدود و قصاص کے سلسلے میں حکومت کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6889]