صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
10. باب نظر الفجاة:
باب: جو نظر دفعتاً پڑ جائے۔
ترقیم عبدالباقی: 2159 ترقیم شاملہ: -- 5645
وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا، عَنْ يُونُسَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
عبدالاعلیٰ اور سفیان دونوں نے یونس سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5645]
امام صاحب کو ایک اور استاد نے یہی روایت سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5645]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2159
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥يونس بن عبيد العبدي، أبو عبد الله، أبو عبيد | ثقة ثبت فاضل ورع | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← يونس بن عبيد العبدي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب إسحاق بن راهويه المروزي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي، أبو محمد عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي ← إسحاق بن راهويه المروزي | ثقة | |
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب إسحاق بن راهويه المروزي ← عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي | ثقة حافظ إمام |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5645 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5645
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
اگر غیر ارادی طور پر کسی ایسی چیز پر نظر پڑ جائے،
جسے دیکھنا جائز نہیں ہے،
سو پہلی نظر پر کوئی گرفت یا گناہ نہیں ہے،
لیکن اسے،
اسی وقت نظر ہٹا لینی چاہیے،
اگر وہ نظر جمائے رکھے گا تو اس کو پہلی نظر قرار دینا مشکل ہے،
کیونکہ اس نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کہ اسے پھیر لو،
کی مخالفت کی ہے،
جبکہ اللہ کا یہ حکم ہے،
مومنوں کو فرما دیجئے کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور یہی حکم عورتوں کو ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
اگر غیر ارادی طور پر کسی ایسی چیز پر نظر پڑ جائے،
جسے دیکھنا جائز نہیں ہے،
سو پہلی نظر پر کوئی گرفت یا گناہ نہیں ہے،
لیکن اسے،
اسی وقت نظر ہٹا لینی چاہیے،
اگر وہ نظر جمائے رکھے گا تو اس کو پہلی نظر قرار دینا مشکل ہے،
کیونکہ اس نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کہ اسے پھیر لو،
کی مخالفت کی ہے،
جبکہ اللہ کا یہ حکم ہے،
مومنوں کو فرما دیجئے کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور یہی حکم عورتوں کو ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5645]
سفيان الثوري ← يونس بن عبيد العبدي