صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب تحريم الخلوة بالاجنبية والدخول عليها:
باب: اجنبی عورت سے تنہائی کرنا اور اس کے پاس جانا حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2173 ترقیم شاملہ: -- 5677
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ، فَرَآهُمْ فَكَرِهَ ذَلِكَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: لَمْ أَرَ إِلَّا خَيْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ "، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: " لَا يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا عَلَى مُغِيبَةٍ إِلَّا وَمَعَهُ رَجُلٌ أَوِ اثْنَانِ ".
عبدالرحمن بن جبیر نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے انہیں حدیث سنائی کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے گھر گئے، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آگئے، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا اس وقت ان کے نکاح میں تھیں۔ انہوں نے ان لوگوں کو دیکھا تو انہیں ناگوار گزرا۔ انہوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی، ساتھ ہی کہا: میں نے خیر کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے (بھی) انہیں (حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو) اس سے بری قرار دیا ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”آج کے بعد کوئی شخص کسی ایسی عورت کے پاس نہ جائے جس کا خاوند گھر پر نہ ہو، الا یہ کہ اس کے ساتھ ایک یا دو لوگ ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5677]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ سیدتنا اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور سیدتنا اسماء رضی اللہ عنہا ان دنوں ان کی بیوی تھیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھ کر کراہت محسوس کی اور اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور کہا: میں نے خیر ہی دیکھی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے اس کو اس (برائی) سے بری رکھا ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا: ”آج کے دن کے بعد کوئی آدمی ایسی عورت کے پاس نہ جائے جس کا خاوند گھر میں موجود نہ ہو، الا یہ کہ اس کے ساتھ ایک یا دو آدمی ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5677]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2173
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5677 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5677
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
مغيبة:
جس کا خاوند گھر میں نہ ہو،
سفر پر ہویا گھر سے باہر کام کاج کے لیے گیا ہو۔
فوائد ومسائل:
حضرت اسماء بنت عمیس،
ایک جلیل القدر صحابیہ ہیں،
جو حضرت جعفر بن ابی طالب کی بیوی تھیں،
جنگ موتہ میں ان کی شہادت کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے شادی کر لی اور ان کی وفات کے بعد حضرت علی سے شادی کر لی،
حضرت ابوبکر نے اپنی غیر حاضری میں بنو ہاشم کے لوگوں کی آمد کو طبعی غیرت و حمیت کی بنا پر پسند نہیں کیا،
اگرچہ قابل اعتراض صورت نہیں دیکھی تھی،
اس لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طبعی غیرت کا لحاظ رکھتے ہوئے فرمایا،
اجنبی عورت کے پاس،
تنہائی میں اتنے افراد جائیں،
جن کے بارے میں شک و شبہ نہ ہو سکتا ہو،
دو تین کی قید کا اصل مقصد یہی ہے،
وگرنہ بنو ہاشم کے لوگ بھی چند تھے،
کیونکہ ان کو نضرف سے تعبیر کیا گیا ہے کہ نضرف کا اطلاق کم از کم تین پر ہوتا ہے،
اس کے باوجود حضرت ابوبکر نے غیرت محسوس کی۔
مفردات الحدیث:
مغيبة:
جس کا خاوند گھر میں نہ ہو،
سفر پر ہویا گھر سے باہر کام کاج کے لیے گیا ہو۔
فوائد ومسائل:
حضرت اسماء بنت عمیس،
ایک جلیل القدر صحابیہ ہیں،
جو حضرت جعفر بن ابی طالب کی بیوی تھیں،
جنگ موتہ میں ان کی شہادت کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے شادی کر لی اور ان کی وفات کے بعد حضرت علی سے شادی کر لی،
حضرت ابوبکر نے اپنی غیر حاضری میں بنو ہاشم کے لوگوں کی آمد کو طبعی غیرت و حمیت کی بنا پر پسند نہیں کیا،
اگرچہ قابل اعتراض صورت نہیں دیکھی تھی،
اس لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طبعی غیرت کا لحاظ رکھتے ہوئے فرمایا،
اجنبی عورت کے پاس،
تنہائی میں اتنے افراد جائیں،
جن کے بارے میں شک و شبہ نہ ہو سکتا ہو،
دو تین کی قید کا اصل مقصد یہی ہے،
وگرنہ بنو ہاشم کے لوگ بھی چند تھے،
کیونکہ ان کو نضرف سے تعبیر کیا گیا ہے کہ نضرف کا اطلاق کم از کم تین پر ہوتا ہے،
اس کے باوجود حضرت ابوبکر نے غیرت محسوس کی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5677]
Sahih Muslim Hadith 5677 in Urdu
عبد الرحمن بن جبير المؤذن ← عبد الله بن عمرو السهمي