🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب بيان انه يستحب لمن رئي خاليا بامراة وكانت زوجة او محرما له ان يقول هذه فلانة. ليدفع ظن السوء به:
باب: جو شخص کسی عورت کے ساتھ خلوت میں ہو اور دوسرے شخص کو دیکھے تو اس سے کہہ دے کہ میری بی بی یا محرم ہے تاکہ اس کو بدگمانی نہ ہو۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2174 ترقیم شاملہ: -- 5678
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مَعَ إِحْدَى نِسَائِهِ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ فَدَعَاهُ، فَجَاءَ، فَقَالَ: " يَا فُلَانُ هَذِهِ زَوْجَتِي فُلَانَةُ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ كُنْتُ أَظُنُّ بِهِ فَلَمْ أَكُنْ أَظُنُّ بِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ ".
ثابت بنانی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (گھر سے باہر) اپنی ایک اہلیہ کے ساتھ تھے، آپ کے پاس سے ایک شخص گزرا تو آپ نے اسے بلایا، جب وہ آیا تو آپ نے فرمایا: اے فلاں! یہ میری فلاں بیوی ہے۔ اس شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کسی کے بارے میں گمان کرتا بھی تو آپ کے بارے میں تو نہیں کر سکتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5678]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کے ساتھ کھڑے تھے کہ آپ کے پاس سے ایک آدمی گزرا، آپ نے اس کو آواز دی تو وہ آ گیا، پھر آپ نے فرمایا: اے فلاں! یہ میری فلاں (صفیہ) بیوی ہے۔ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کسی کے بارے میں تو میں گمان کر سکتا تھا، آپ کے بارے میں تو میں گمان نہیں کر سکتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان، انسان میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5678]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2174
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسلمة الحارثي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
5678
الشيطان يجري من الإنسان مجرى الدم
سنن أبي داود
4719
الشيطان يجري من ابن آدم مجرى الدم
مشكوة المصابيح
68
إن الشيطان يجري من الانسان مجرى الدم
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5678 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5678
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں،
اپنی بیوی کو گھر چھوڑنے جا رہے تھے کہ آپ کے پاس سے دو انصاری گزرے،
انہوں نے تیز رفتاری اختیار کی،
تاکہ آپ ان کی وجہ سے بات چیت کرنے میں حجاب محسوس نہ کریں،
یا وہ شرم و حیا کی بنا پر تیزی سے واپس لوٹے،
لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال کیا،
شیطان انسان میں خون کی طرح گردش کرتا ہے،
کہیں ان کے دل میں کوئی بدگمانی ہی پیدا نہ کر دے،
اس لیے آپ نے فرمایا،
سکون و اطمینان سے چلو،
یہ میری بیوی ہے،
اس طرح آپ نے بدگمانی پیدا ہونے کا فوری طور پر ازالہ کر دیا،
کیونکہ آپ کے بارے میں بدگمانی بقول امام شافعی کفر ہے،
اس لیے خیرخواہی اور ہمدردی کا تقاضا یہ تھا،
ان کو اس سے بچایا جاتا،
دوسرے انسانوں کے بارے میں بدگمانی کفر تو نہیں ہے،
لیکن گناہ کا باعث ضرور ہے اور اس طرح کسی کے بارے میں انسان کے دل میں کراہت اور نفرت پیدا ہو سکتی ہے اور یہ چیز چغلی اور غیبت کا باعث بھی بن سکتی ہے،
اس لیے کسی کو بدگمانی کا موقعہ نہیں دینا چاہیے اور ایسی کوئی حرکت نہیں کرنی چاہیے،
جس سے بدظنی پیدا ہوتی ہو اور کبھی کوئی ایسی صورت پیش آ جائے تو حقیقت حال سے آگاہ کر دینا چاہیے،
تاکہ دوسروں کے دل میں بدگمانی پیدا نہ ہو اور وہ گناہ گار نہ بنیں،
اس روایت میں ایک آدمی کا تذکرہ ہے،
حالانکہ وہ دو تھے تو یہاں رجل جنس کے لیے ہے کہ گزرنے والے مرد تھے،
ایک یا دو کا تعین مقصود نہیں،
یا ایک دوسرے کے کچھ پیچھے تھا،
اگلے کو آزاد دی تو پچھلا بھی پہنچ گیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5678]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 68
ہم زاد
«. . . ‏‏‏‏وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الانسان مجْرى الدَّم» . . .»
. . . سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کی رگوں میں اس طرح جاری ہے جس طرح خون تمام رگوں میں جاری ہے۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/0: 68]

تخریج:
[صحیح مسلم 5678]

فقہ الحدیث:
➊ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ انسان کے جسم میں جن داخل ہو سکتا ہے اور اسے طرح طرح کے وسوسوں میں مبتلا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
➋ یہ روایت صحیح بخاری میں موجود نہیں ہے۔
بخاری [2038] اور مسلم [5679] نے اس مفہوم کی روایت سیدہ صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا سے بیان کر رکھی ہے۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 68]

حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 68
انسان کے جسم میں جن داخل ہونا
«. . . ‏‏‏‏وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الانسان مجْرى الدَّم» . . .»
. . . سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کی رگوں میں اس طرح جاری ہے جس طرح خون تمام رگوں میں جاری ہے۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 68]
تخریج:
[صحیح مسلم 5678]

فقہ الحدیث:
➊ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ انسان کے جسم میں جن داخل ہو سکتا ہے اور اسے طرح طرح کے وسوسوں میں مبتلا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
➋ یہ روایت صحیح بخاری میں موجود نہیں ہے۔
بخاری [2038] اور مسلم [5679] نے اس مفہوم کی روایت سیدہ صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا سے بیان کر رکھی ہے۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 68]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4719
کفار اور مشرکین کی اولاد کے انجام کا بیان۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان ابن آدم (انسان) کے بدن میں اسی طرح دوڑتا ہے جس طرح خون رگوں میں گردش کرتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4719]
فوائد ومسائل:
انسان کے جسم میں شیطان کی گردش کا نتیجہ اوہام، وساوس اور اللہ تعالی کی نافرمانی کی صورت میں سامنے آتا ہے، اس کے فتنوں سے بچنے کا واحد ذریعہ ایمان اور عمل صالح کے ساتھ ساتھ کثرت ذکر کرے، ورنہ اس کے حملوں سے بچنا بہت مشکل ہے اور سب عزوجل کی تقدیر اور مشیت سے ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4719]

Sahih Muslim Hadith 5678 in Urdu