صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
16. باب الطب والمرض والرقى:
باب: علاج، بیماری اور منتر کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2187 ترقیم شاملہ: -- 5701
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قال: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَيْنُ حَقٌّ ".
ہمام بن منبہ نے کہا: یہ احادیث جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں، انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں، ان میں سے ایک یہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نظر حق (ثابت شدہ بات) ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5701]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمام بن منبہ رحمہ اللہ کو بہت سی احادیث سنائیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْعَيْنُ حَقٌّ» ”نظرِ بد کا لگنا ثابت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5701]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2187
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5740
| العين حق ونهى عن الوشم |
صحيح مسلم |
5701
| العين حق |
سنن أبي داود |
3879
| العين حق |
سنن ابن ماجه |
3507
| العين حق |
صحيفة همام بن منبه |
131
| العين حق |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5701 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5701
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
بقول امام مازری،
جمہور علماء کے نزدیک نظربد کا لگنا ثابت ہے کہ بعض انسانوں کی آنکھوں میں اللہ نے ایسا شعلہ اور زہر رکھا ہے کہ ان کے نظر بھر کر دیکھنے سے متعلقہ چیز کو اللہ کے اذن سے تکلیف پہنچ جاتی ہے،
اللہ تعالیٰ نے بعض اشیاء میں خواص اور تاثیرات رکھی ہیں،
جو اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہیں،
ان اشیاء کا اپنا اس میں داخل نہیں ہے۔
فوائد ومسائل:
بقول امام مازری،
جمہور علماء کے نزدیک نظربد کا لگنا ثابت ہے کہ بعض انسانوں کی آنکھوں میں اللہ نے ایسا شعلہ اور زہر رکھا ہے کہ ان کے نظر بھر کر دیکھنے سے متعلقہ چیز کو اللہ کے اذن سے تکلیف پہنچ جاتی ہے،
اللہ تعالیٰ نے بعض اشیاء میں خواص اور تاثیرات رکھی ہیں،
جو اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہیں،
ان اشیاء کا اپنا اس میں داخل نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5701]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5740
5740. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”نظر لگ جانا برحق ہے“ اور آپ نے جسم میں سرمہ بھرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5740]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے ان لوگوں کا رد ہوا جو نظر بد کا انکار کرتے ہیں اللہ نے انسانی نظر میں بڑی تاثیر رکھی ہے جیسا کہ مشاہدات سے ثابت ہو رہا ہے علم مسمر یزم کی بنیاد بھی صرف انسانی نظر کی تاثیر پر ہے۔
اس حدیث سے ان لوگوں کا رد ہوا جو نظر بد کا انکار کرتے ہیں اللہ نے انسانی نظر میں بڑی تاثیر رکھی ہے جیسا کہ مشاہدات سے ثابت ہو رہا ہے علم مسمر یزم کی بنیاد بھی صرف انسانی نظر کی تاثیر پر ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5740]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5740
5740. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”نظر لگ جانا برحق ہے“ اور آپ نے جسم میں سرمہ بھرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5740]
حدیث حاشیہ:
(1)
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ایک انسان اپنے ارادے، خواہش اور توجہ کے ذریعے سے دوسروں پر بہت جلد اثر انداز ہو سکتا ہے۔
نظر لگنے کی صورت میں بھی کسی کی خوبی دیکھ کر بعض نفوس میں جو جذبۂ حسد پیدا ہو جاتا ہے اگر وہ شدید ہو تو اس کی وجہ سے دوسرے انسان پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
عموماً دوسرے کی خوبیاں آنکھ سے دیکھی جاتی ہیں اور دیکھتے ہی فوراً حسد کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اس بنا پر اسے نظر لگنے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اگر کسی انسان پر نظر بد کے اثرات شدید ہوں تو اس کا علاج یہ بتایا گیا ہے کہ جس شخص کی نظر لگی ہو وہ وضو کرے اور تہ بند وغیرہ کا وہ حصہ جو کمر کے ساتھ لگا ہوتا ہے اسے دھوئے پھر اس مستعمل پانی کو متاثرہ شخص پر پھینکا جائے۔
(فتح الباری: 10/251) (2)
اس حدیث سے ان لوگوں کی تردید ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ نظر لگنے کی کوئی حقیقت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے انسانی نظر میں بہت تاثیر رکھی ہے، مسمریزم کی بنیاد بھی انسانی نظر کی تاثیر پر ہے۔
(1)
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ایک انسان اپنے ارادے، خواہش اور توجہ کے ذریعے سے دوسروں پر بہت جلد اثر انداز ہو سکتا ہے۔
نظر لگنے کی صورت میں بھی کسی کی خوبی دیکھ کر بعض نفوس میں جو جذبۂ حسد پیدا ہو جاتا ہے اگر وہ شدید ہو تو اس کی وجہ سے دوسرے انسان پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
عموماً دوسرے کی خوبیاں آنکھ سے دیکھی جاتی ہیں اور دیکھتے ہی فوراً حسد کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اس بنا پر اسے نظر لگنے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اگر کسی انسان پر نظر بد کے اثرات شدید ہوں تو اس کا علاج یہ بتایا گیا ہے کہ جس شخص کی نظر لگی ہو وہ وضو کرے اور تہ بند وغیرہ کا وہ حصہ جو کمر کے ساتھ لگا ہوتا ہے اسے دھوئے پھر اس مستعمل پانی کو متاثرہ شخص پر پھینکا جائے۔
(فتح الباری: 10/251) (2)
اس حدیث سے ان لوگوں کی تردید ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ نظر لگنے کی کوئی حقیقت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے انسانی نظر میں بہت تاثیر رکھی ہے، مسمریزم کی بنیاد بھی انسانی نظر کی تاثیر پر ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5740]
حافظ زبير على زئي رحمه الله،صحیح بخاری 5740
نظر کا لگ جانا برحق ہے
جیسا کہ ہمارے ہاں مشہور ہے کہ فلاں کو فلاں کی نظر لگ گئی، اس کی کیا حقیقت ہے؟
الجواب:
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«الْعَیْنُ حَقٌّ»
”نظر (کا لگنا) حق ہے۔“
[الصحیفۃ الصحیحۃ تصنیف همام بن منبه: 131، صحيح بخاري: 5740، صحيح مسلم: 2187 [5701] ، مصنف عبد الرزاق: 18/11 ح 29778، مسند احمد: 319/2 ح 8245]
اور اس کی سند صحیح ہے۔
اس کا ایک دوسرا طریق ابن ماجہ میں بھی ہے: [سنن ابن ماجه: 3507]
اور اس کی سند بھی صحیح ہے، اور اسے احمد نے بھی روایت کیا ہے: [مسند احمد: 487/2]
❀ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«الْعَیْنُ حَقٌّ»
”نظر (لگنا) حق ہے۔“ [صحيح مسلم: 2188 [5702] ]
❀ سیدنا حابس التمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«وَالْعَیْنُ حَقٌّ»
”اور نظر برحق ہے۔“
[سنن الترمذي: 2061]
اور اس کی سند حسن ہے۔ [مسند احمد: 67/4]
حية بن حابس صدوق اور ثقہ ہیں، جیسا کہ ابن حبان اور ابن خزیمہ نے ان کی توثیق کی ہے، یہ بات ظاہر ہوتی ہے: [اتحاف المهرة: 97/4]
اور ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے روایت کیا ہے، اور وہ ان کے نزدیک صرف ثقہ سے ہی روایت کرتے ہیں۔
❀ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بنو جعفر (طیار رضی اللہ عنہ کے بچوں) کو نظر لگ جاتی ہے تو کیا میں ان کو دم کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نَعَمْ، وَلَوْ كَانَ شَيْءٌ يَسْبِقُ الْقَدَرَ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ» ”جی ہاں! اور اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت لے جاتی تو وہ نظر ہوتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي: 348/9]
اور اس کی سند صحیح ہے۔
[سنن الترمذي: 2059] اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ ”حسن صحیح“ ہے، اور اس حدیث کا ایک شاہد صحیح مسلم میں بھی موجود ہے: [صحيح مسلم: 2198 [5726] ]
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھے) حکم دیا کہ نظر کا دم کرو۔ [صحيح بخاري: 5738، صحيح مسلم: 2195 [5720۔5722] ]
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر کے (علاج کے) لیے دم کی اجازت دی ہے۔ [صحيح مسلم: 2196 [5724] ]
❀ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑکی کے بارے میں فرمایا:
«اسْتَرْقُوا لَهَا، فَإِنَّ بِهَا النَّظْرَةَ»
”اسے دم کراؤ کیونکہ اسے نظر لگی ہے۔“ [صحيح بخاري: 5739، صحيح مسلم: 2197 [5725] ]
❀ سیدنا جابر بن عبد اللہ الانصاری رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ ایک حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر لگ جانے پر دم کی اجازت دی ہے۔ دیکھئے: [صحيح مسلم: 2198 [5726] ]
❀ سیدنا بریدہ بن الحصیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دم صرف نظر یا ڈسے جانے کی بنا پر ہے۔ [صحيح مسلم: 220 [527] ]
❀ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«لاَ رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ»
”دم صرف نظر اور ڈسے ہوئے (کے علاج) کے لیے ہے۔“ [سنن أبي داود: 3884]
اور اس کی سند صحیح ہے، اور اسے بخاری نے موقوفاً بھی روایت کیا ہے: [صحيح بخاري: 5705]
اور اس کی سند بھی صحیح ہے، اور مرفوع و موقوف دونوں صحیح ہیں والحمد للہ۔
❀ سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے والد سہل بن حنیف (رضی اللہ عنہ) نے غسل کیا تو عامر بن ربیعہ (رضی اللہ عنہ) نے انھیں دیکھ لیا اور کہا: میں نے کسی کنواری کو بھی اتنی خوبصورت جلد والی نہیں دیکھا۔ سہل بن حنیف (رضی اللہ عنہ) شدید بیمار ہو گئے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: تم اپنے بھائیوں کو کیوں قتل کرنا چاہتے ہو؟ تم نے برکت کی دعا کیوں نہیں کی؟ «إِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ» ”بے شک نظر حق ہے۔“ [موطأ امام مالك: 938/2 ح 1810]
اور اس کی سند صحیح ہے، اور اسے ابن حبان نے صحیح کہا ہے: [الموارد: 1424]
ان روایات سے معلوم ہوا کہ نظر لگنے کا برحق ہونا متواتر احادیث سے ثابت ہے۔
سورۂ یوسف کی آیت نمبر (67) ﴿وَقَالَ يَا بَنِيَّ لَا تَدْخُلُوا مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ وَادْخُلُوا مِنْ أَبْوَابٍ مُتَفَرِّقَةٍ﴾ سے بھی نظر کا برحق ہونا اشارتاً ثابت ہے۔
➊ نظر کا ایک علاج یہ بھی ہے کہ نظر لگانے والے کے وضو (یا غسل) کے بچے ہوئے پانی سے اسے نہلایا جائے جسے نظر لگی ہے۔ دیکھئے: [موطأ امام مالك: 938/2 ح 1810]
اور اس کی سند صحیح ہے۔
➋ نظر بد سے بچنے اور اس کے علاج کے لیے درج ذیل مسنون دعا پڑھنی چاہیے:
«أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَّهَامَّةٍ وَّمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَّامَّةٍ»
”اللہ کے پورے کلمات کے ساتھ اس کی پناہ چاہتا ہوں ہر ایک شیطان اور ہر نقصان پہنچانے والی نظر بد سے۔“ [صحيح بخاري: 3371]
اصل مضمون کے لیے دیکھیے ماہنامہ الحدیث شمارہ 36 صفحہ 21 اور فتاویٰ علمیہ ”توحید و سنت کے مسائل“ بعنوان ”نظر کا لگ جانا برحق ہے“۔
جیسا کہ ہمارے ہاں مشہور ہے کہ فلاں کو فلاں کی نظر لگ گئی، اس کی کیا حقیقت ہے؟
الجواب:
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«الْعَیْنُ حَقٌّ»
”نظر (کا لگنا) حق ہے۔“
[الصحیفۃ الصحیحۃ تصنیف همام بن منبه: 131، صحيح بخاري: 5740، صحيح مسلم: 2187 [5701] ، مصنف عبد الرزاق: 18/11 ح 29778، مسند احمد: 319/2 ح 8245]
اور اس کی سند صحیح ہے۔
اس کا ایک دوسرا طریق ابن ماجہ میں بھی ہے: [سنن ابن ماجه: 3507]
اور اس کی سند بھی صحیح ہے، اور اسے احمد نے بھی روایت کیا ہے: [مسند احمد: 487/2]
❀ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«الْعَیْنُ حَقٌّ»
”نظر (لگنا) حق ہے۔“ [صحيح مسلم: 2188 [5702] ]
❀ سیدنا حابس التمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«وَالْعَیْنُ حَقٌّ»
”اور نظر برحق ہے۔“
[سنن الترمذي: 2061]
اور اس کی سند حسن ہے۔ [مسند احمد: 67/4]
حية بن حابس صدوق اور ثقہ ہیں، جیسا کہ ابن حبان اور ابن خزیمہ نے ان کی توثیق کی ہے، یہ بات ظاہر ہوتی ہے: [اتحاف المهرة: 97/4]
اور ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے روایت کیا ہے، اور وہ ان کے نزدیک صرف ثقہ سے ہی روایت کرتے ہیں۔
❀ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بنو جعفر (طیار رضی اللہ عنہ کے بچوں) کو نظر لگ جاتی ہے تو کیا میں ان کو دم کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نَعَمْ، وَلَوْ كَانَ شَيْءٌ يَسْبِقُ الْقَدَرَ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ» ”جی ہاں! اور اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت لے جاتی تو وہ نظر ہوتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي: 348/9]
اور اس کی سند صحیح ہے۔
[سنن الترمذي: 2059] اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ ”حسن صحیح“ ہے، اور اس حدیث کا ایک شاہد صحیح مسلم میں بھی موجود ہے: [صحيح مسلم: 2198 [5726] ]
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھے) حکم دیا کہ نظر کا دم کرو۔ [صحيح بخاري: 5738، صحيح مسلم: 2195 [5720۔5722] ]
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر کے (علاج کے) لیے دم کی اجازت دی ہے۔ [صحيح مسلم: 2196 [5724] ]
❀ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑکی کے بارے میں فرمایا:
«اسْتَرْقُوا لَهَا، فَإِنَّ بِهَا النَّظْرَةَ»
”اسے دم کراؤ کیونکہ اسے نظر لگی ہے۔“ [صحيح بخاري: 5739، صحيح مسلم: 2197 [5725] ]
❀ سیدنا جابر بن عبد اللہ الانصاری رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ ایک حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر لگ جانے پر دم کی اجازت دی ہے۔ دیکھئے: [صحيح مسلم: 2198 [5726] ]
❀ سیدنا بریدہ بن الحصیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دم صرف نظر یا ڈسے جانے کی بنا پر ہے۔ [صحيح مسلم: 220 [527] ]
❀ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«لاَ رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ»
”دم صرف نظر اور ڈسے ہوئے (کے علاج) کے لیے ہے۔“ [سنن أبي داود: 3884]
اور اس کی سند صحیح ہے، اور اسے بخاری نے موقوفاً بھی روایت کیا ہے: [صحيح بخاري: 5705]
اور اس کی سند بھی صحیح ہے، اور مرفوع و موقوف دونوں صحیح ہیں والحمد للہ۔
❀ سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے والد سہل بن حنیف (رضی اللہ عنہ) نے غسل کیا تو عامر بن ربیعہ (رضی اللہ عنہ) نے انھیں دیکھ لیا اور کہا: میں نے کسی کنواری کو بھی اتنی خوبصورت جلد والی نہیں دیکھا۔ سہل بن حنیف (رضی اللہ عنہ) شدید بیمار ہو گئے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: تم اپنے بھائیوں کو کیوں قتل کرنا چاہتے ہو؟ تم نے برکت کی دعا کیوں نہیں کی؟ «إِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ» ”بے شک نظر حق ہے۔“ [موطأ امام مالك: 938/2 ح 1810]
اور اس کی سند صحیح ہے، اور اسے ابن حبان نے صحیح کہا ہے: [الموارد: 1424]
ان روایات سے معلوم ہوا کہ نظر لگنے کا برحق ہونا متواتر احادیث سے ثابت ہے۔
سورۂ یوسف کی آیت نمبر (67) ﴿وَقَالَ يَا بَنِيَّ لَا تَدْخُلُوا مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ وَادْخُلُوا مِنْ أَبْوَابٍ مُتَفَرِّقَةٍ﴾ سے بھی نظر کا برحق ہونا اشارتاً ثابت ہے۔
➊ نظر کا ایک علاج یہ بھی ہے کہ نظر لگانے والے کے وضو (یا غسل) کے بچے ہوئے پانی سے اسے نہلایا جائے جسے نظر لگی ہے۔ دیکھئے: [موطأ امام مالك: 938/2 ح 1810]
اور اس کی سند صحیح ہے۔
➋ نظر بد سے بچنے اور اس کے علاج کے لیے درج ذیل مسنون دعا پڑھنی چاہیے:
«أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَّهَامَّةٍ وَّمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَّامَّةٍ»
”اللہ کے پورے کلمات کے ساتھ اس کی پناہ چاہتا ہوں ہر ایک شیطان اور ہر نقصان پہنچانے والی نظر بد سے۔“ [صحيح بخاري: 3371]
اصل مضمون کے لیے دیکھیے ماہنامہ الحدیث شمارہ 36 صفحہ 21 اور فتاویٰ علمیہ ”توحید و سنت کے مسائل“ بعنوان ”نظر کا لگ جانا برحق ہے“۔
[ماہنامہ الحدیث حضرو، حدیث/صفحہ نمبر: 21]
Sahih Muslim Hadith 5701 in Urdu
همام بن منبه اليماني ← أبو هريرة الدوسي