صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
29. باب التداوي بالحبة السوداء:
باب: سیاہ دانے (کلونجی) سے علاج کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2215 ترقیم شاملہ: -- 5766
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أن أبا هريرة أخبرهما، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ، وَالسَّامُ الْمَوْتُ، وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ الشُّونِيزُ ".
عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور سعید بن مسیب نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، ”شونیز سام (موت) کے علاوہ ہر بیماری سے شفا ہے۔“ ”سام: موت ہے اور حبہ سوداء (سے مراد) شونیز (زیر سیاہ) ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5766]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ” «الحَبَّةُ السَّوْدَاءُ» ہر بیماری میں شفا بخش ہے، سوائے «السَّامِ» کے۔“ «السَّامُ» موت کو کہتے ہیں اور «الحَبَّةُ السَّوْدَاءُ» کلونجی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5766]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2215
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥عقيل بن خالد الأيلي، أبو خالد عقيل بن خالد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← عقيل بن خالد الأيلي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥محمد بن رمح التجيبي، أبو عبد الله محمد بن رمح التجيبي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5688
| الحبة السوداء شفاء من كل داء إلا السام |
صحيح مسلم |
5768
| الحبة السوداء منه شفاء إلا السام |
صحيح مسلم |
5766
| الحبة السوداء شفاء من كل داء إلا السام |
جامع الترمذي |
2041
| الحبة السوداء فيها شفاء من كل داء |
سنن ابن ماجه |
3447
| الحبة السوداء شفاء من كل داء إلا السام |
مسندالحميدي |
1138
| يعني الشونيز |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5766 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5766
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
الحبة السوداء:
جس کو فارسی میں شونیز،
اردو میں کلونجی اور انگریزی میں blackcumin کہتے ہیں،
جو ایک قسم کے سیاہ دانے ہیں،
جو اندر سے سفید ہوتے ہیں اور بعض نے اس کو کالی جیری کا نام دیا ہے اور بقول ڈاکٹر خالد غزنوی،
کلونجی کا پودا جھاڑیوں کی مانند تقریباً آدھ میٹر اونچا ہوتا ہے،
جس کو نیلے رنگ کے پھول لگتے ہیں۔
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلونجی کو ہر مرض کی دوا قرار دیا ہے اور یہ مبنی بر حقیقت بات ہے،
جیسے جیسے تحقیقات بڑھتی جاتی ہیں،
اس کے فوائد معلوم ہوتے جاتے ہیں اور آئندہ معلوم نہیں،
یہ کن کن بیماریوں میں اس کی افادیت کا ظہور ہو گا،
اس کے فوائد کی تفصیل کے لیے دیکھئے،
(طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور جدید سائنس،
ص 246 تا 254)
اور عود ہندی کے فوائد اس کتاب کے ص 225 تا 237 دیکھئے۔
مفردات الحدیث:
الحبة السوداء:
جس کو فارسی میں شونیز،
اردو میں کلونجی اور انگریزی میں blackcumin کہتے ہیں،
جو ایک قسم کے سیاہ دانے ہیں،
جو اندر سے سفید ہوتے ہیں اور بعض نے اس کو کالی جیری کا نام دیا ہے اور بقول ڈاکٹر خالد غزنوی،
کلونجی کا پودا جھاڑیوں کی مانند تقریباً آدھ میٹر اونچا ہوتا ہے،
جس کو نیلے رنگ کے پھول لگتے ہیں۔
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلونجی کو ہر مرض کی دوا قرار دیا ہے اور یہ مبنی بر حقیقت بات ہے،
جیسے جیسے تحقیقات بڑھتی جاتی ہیں،
اس کے فوائد معلوم ہوتے جاتے ہیں اور آئندہ معلوم نہیں،
یہ کن کن بیماریوں میں اس کی افادیت کا ظہور ہو گا،
اس کے فوائد کی تفصیل کے لیے دیکھئے،
(طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور جدید سائنس،
ص 246 تا 254)
اور عود ہندی کے فوائد اس کتاب کے ص 225 تا 237 دیکھئے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5766]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1138
1138- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کایہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم پراس سیاہ دانے کو استعمال کرنا لازم ہے کیونکہ اس میں ”سام“ کے علاوہ ہر بیماری کی شفا ہے۔“ (راوی کہتے ہیں:) ”سام“ سے مراد موت ہے اور سیاہ دانے سے مراد کلونجی ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1138]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کلونجی میں شفاء ہے، اس کی شفا میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے، مریضوں کو یہ کھلانی چاہیے، اسی طرح آب زمزم اور شہد بھی شفاء ہے، ان کا استعمال بھی گھروں میں عام ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کلونجی میں شفاء ہے، اس کی شفا میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے، مریضوں کو یہ کھلانی چاہیے، اسی طرح آب زمزم اور شہد بھی شفاء ہے، ان کا استعمال بھی گھروں میں عام ہونا چاہیے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1136]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5688
5688. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے ”کلونجی میں ہر بیماری سے شفا ہے سوائے سام کے۔“ ابن شہاب نے کہا: سام، موت کو کہتے ہیں اور حبہ سوداء کلونجی کا نام ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5688]
حدیث حاشیہ:
فی الواقع موت وقت مقررہ پر آ کر رہتی ہے خواہ کوئی انسان کچھ تدبیر کرے لاکھ دوائیاں استعمال کرے کتنا ہی سرمایہ دار کثیر الوسائل ہو مگر ان میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو موت کو ٹال سکے سچ ہے۔
﴿کُل نفس ذَائقةُ المَوتِ﴾
فی الواقع موت وقت مقررہ پر آ کر رہتی ہے خواہ کوئی انسان کچھ تدبیر کرے لاکھ دوائیاں استعمال کرے کتنا ہی سرمایہ دار کثیر الوسائل ہو مگر ان میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو موت کو ٹال سکے سچ ہے۔
﴿کُل نفس ذَائقةُ المَوتِ﴾
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5688]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5688
5688. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے ”کلونجی میں ہر بیماری سے شفا ہے سوائے سام کے۔“ ابن شہاب نے کہا: سام، موت کو کہتے ہیں اور حبہ سوداء کلونجی کا نام ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5688]
حدیث حاشیہ:
موت کا وقت مقرر ہے، وہ آ کر رہتی ہے، خواہ کتنی ہی دوا استعمال کر لی جائے۔
اس کا دنیا میں کوئی علاج نہیں ہے۔
کلونجی اپنے عموم کے اعتبار سے ہر بیماری کا علاج ہے، اگرچہ کچھ حضرات کا خیال ہے کہ اس عموم سے خصوص مراد ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک جڑی بوٹی میں تمام خصوصیات جمع نہیں ہو سکتیں جو علاج میں تمام بیماریوں کے لیے شفا کا باعث ہو، لیکن ہمارا تجربہ ہے کہ یہ اپنے عموم پر ہے اور ہر مرض کے لیے اس میں شفا ہے۔
ہم اسے ہر بیماری کے لیے استعمال کرتے ہیں، ابھی تک ہمیں اس میں ناکامی نہیں ہوئی۔
اگر اس کے ساتھ شہد ملا لیا جائے تو سونے پر سہاگا ہے۔
چند سال قبل دارالسلام نے شہد میں کلونجی ملا کر ایک مرکب تیار کیا تھا جو بہت فائدہ مند اور کامیاب تھا۔
اگر پانی کے ساتھ رات سوتے وقت اس کے چند دانے استعمال کر لیے جائیں تو إن شاء اللہ ہر بیماری سے شفا ہو گی۔
اسے مفرد اور مرکب دونوں طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ شاید حضرت غالب بن ابجر رضی اللہ عنہ زکام میں مبتلا تھے، اس لیے ابن ابی عتیق نے دوا کو ناک میں ٹپکانے کی تجویز دی۔
(فتح الباري: 179/10)
موت کا وقت مقرر ہے، وہ آ کر رہتی ہے، خواہ کتنی ہی دوا استعمال کر لی جائے۔
اس کا دنیا میں کوئی علاج نہیں ہے۔
کلونجی اپنے عموم کے اعتبار سے ہر بیماری کا علاج ہے، اگرچہ کچھ حضرات کا خیال ہے کہ اس عموم سے خصوص مراد ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک جڑی بوٹی میں تمام خصوصیات جمع نہیں ہو سکتیں جو علاج میں تمام بیماریوں کے لیے شفا کا باعث ہو، لیکن ہمارا تجربہ ہے کہ یہ اپنے عموم پر ہے اور ہر مرض کے لیے اس میں شفا ہے۔
ہم اسے ہر بیماری کے لیے استعمال کرتے ہیں، ابھی تک ہمیں اس میں ناکامی نہیں ہوئی۔
اگر اس کے ساتھ شہد ملا لیا جائے تو سونے پر سہاگا ہے۔
چند سال قبل دارالسلام نے شہد میں کلونجی ملا کر ایک مرکب تیار کیا تھا جو بہت فائدہ مند اور کامیاب تھا۔
اگر پانی کے ساتھ رات سوتے وقت اس کے چند دانے استعمال کر لیے جائیں تو إن شاء اللہ ہر بیماری سے شفا ہو گی۔
اسے مفرد اور مرکب دونوں طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ شاید حضرت غالب بن ابجر رضی اللہ عنہ زکام میں مبتلا تھے، اس لیے ابن ابی عتیق نے دوا کو ناک میں ٹپکانے کی تجویز دی۔
(فتح الباري: 179/10)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5688]
Sahih Muslim Hadith 5766 in Urdu
سعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي