صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
32. باب الطاعون والطيرة والكهانة ونحوها:
باب: طاعون، بدفالی اور کہانت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2218 ترقیم شاملہ: -- 5779
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، قال: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ، فَبَلَغَنِي أَنَّ الطَّاعُونَ قَدْ وَقَعَ بِالْكُوفَةِ، فَقَالَ لِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ وَغَيْرُهُ: إن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا كُنْتَ بِأَرْضٍ فَوَقَعَ بِهَا، فَلَا تَخْرُجْ مِنْهَا، وَإِذَا بَلَغَكَ أَنَّهُ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلْهَا "، قَالَ: قُلْتُ عَمَّنْ قَالُوا: عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ يُحَدِّثُ بِهِ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقَالُوا: غَائِبٌ، قَالَ: فَلَقِيتُ أَخَاهُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: شَهِدْتُ أُسَامَةَ يُحَدِّثُ سَعْدًا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ رِجْزٌ أَوْ عَذَابٌ أَوْ بَقِيَّةُ عَذَابٍ عُذِّبَ بِهِ أُنَاسٌ مِنْ قَبْلِكُمْ، فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا، وَإِذَا بَلَغَكُمْ أَنَّهُ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا "، قَالَ حَبِيبٌ: فَقُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ: آنْتَ سَمِعْتَ أُسَامَةَ يُحَدِّثُ سَعْدًا وَهُوَ لَا يُنْكِرُ، قَالَ: نَعَمْ.
ابن ابی عدی نے شعبہ سے انہوں نے حبیب (بن ابی ثابت اسدی) سے روایت کی، کہا: ہم مدینہ میں تھے تو مجھے خبر پہنچی کہ کوفہ میں طاعون پھیل گیا ہے تو عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ اور دوسرے لوگوں نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جب تم کسی سرزمین میں ہو اور وہاں طاعون پھیل جائے تو تم اس سرزمین سے مت نکلو اور جب تم کو یہ خبر پہنچے کہ وہ کسی سرزمین میں پھیل گیا ہے تو تم اس میں مت جاؤ۔“ کہا: میں نے پوچھا: (حدیث) کس سے روایت کی گئی؟ ان سب نے کہا: عامر بن سعد سے وہی یہ حدیث بیان کرتے تھے۔ کہا: تو میں ان کے ہاں پہنچا، ان کے (گھر کے) لوگوں نے کہا: وہ موجود نہیں، تو میں ان کے بھائی ابراہیم بن سعد سے ملا اور ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا: میں اسامہ رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا جب وہ (میرے والد) حضرت سعد رضی اللہ عنہما کو حدیث بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”یہ بیماری سزا اور عذاب ہے یا عذاب کا بقیہ حصہ ہے جس میں تم سے پہلے کے لوگوں کو مبتلا کیا گیا تھا۔ تو جب یہ کسی سرزمین میں پھیل جائے اور تم وہیں ہو تو وہاں سے باہر مت نکلو اور جب تمہیں خبر پہنچے کہ یہ کسی سرزمین میں ہے تو اس میں مت جاؤ۔“ حبیب نے کہا: میں نے ابراہیم (بن سعد) سے کہا: کیا آپ نے (خود) اسامہ رضی اللہ عنہما سے سنا تھا وہ حضرت سعد رضی اللہ عنہما کو یہ حدیث سنا رہے تھے اور وہ اس کا انکار نہیں کر رہے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5779]
حبیب بیان کرتے ہیں، ہم مدینہ میں تھے تو مجھے پتہ چلا کوفہ میں طاعون پڑ گیا ہے تو مجھے عطاء بن یسار اور دوسروں نے بتایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”جب تم کسی علاقہ میں ہو اور وہاں یہ پڑ جائے تو وہاں سے نہ نکلو اور جب تمہیں پتہ چل جائے کہ وہ کسی علاقہ میں ہے تو وہاں نہ جاؤ“ میں نے پوچھا، یہ روایت کس نے بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا یہ حدیث عامر بن سعد بیان کرتے ہیں، میں ان کے ہاں گیا تو بتایا گیا، وہ موجود نہیں ہے تو میں ان کے بھائی ابراہیم بن سعد کو ملا اور اس کے بارے میں اس سے پوچھا؟ اس نے کہا، میری موجودگی میں حضرت اسامہ ؓ نے حضرت سعد کو بتایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”یہ درد، رجز اور عذاب ہے، یا عذاب کا باقی حصہ ہے، جس سے تم سے پہلے لوگوں کو دکھ پہنچایا گیا، لہذا اگر یہ ایسے علاقہ میں ہو، جہاں تم موجود ہو تو وہاں سے نکلو نہیں اور جب تمہیں پتہ چلے کہ وہ کسی زمین (علاقہ) میں ہے تو وہاں نہ جاؤ“ حبیب کہتے ہیں، میں نے ابراہیم سے کہا، کیا آپ نے اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ کو سعد رضی اللہ تعالی عنہ کی یہ حدیث سناتے سنا ہے اور وہ انکار نہیں کر رہے تھے؟ اس نے کہا، ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5779]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2218
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
إبراهيم بن سعد الزهري ← أسامة بن زيد الكلبي