صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
32. باب الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا:
باب: طاعون، بدفالی اور کہانت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2218 ترقیم شاملہ: -- 5772
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، وأبي النضر مولى عمر بن عبيد الله، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَسْأَلُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْد مَاذَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّاعُونِ؟ فَقَالَ أُسَامَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " الطَّاعُونُ رِجْزٌ أَوْ عَذَابٌ أُرْسِلَ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ "، وقَالَ أَبُو النَّضْرِ: لَا يُخْرِجُكُمْ إِلَّا فِرَارٌ مِنْهُ.
امام مالک نے محمد بن منکدر اور عمر بن عبیداللہ کے آزاد کردہ غلام ابونضر سے، انہوں نے عامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے سنا کہ وہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھ رہے تھے۔ آپ نے طاعون کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا؟ اسامہ رضی اللہ عنہما نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طاعون (اللہ کی بھیجی ہوئی) آفت یا عذاب ہے جو بنی اسرائیل پر بھیجا گیا یا (فرمایا) تم سے پہلے لوگوں پر بھیجا گیا جب تم سنو کہ وہ کسی سرزمین میں ہے تو اس سرزمین پر نہ جاؤ اور اگر وہ ایسی سرزمین میں واقع ہو جائے جس میں تم لوگ (موجود) ہو تو تم اس سے بھاگ کر وہاں سے نکلو۔“ ابونضر نے (یہ جملہ) کہا: ”تمہیں اس (طاعون) سے فرار کے علاوہ کوئی اور بات (اس سرزمین سے) نہ نکال رہی ہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5772]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ سے دریافت کیا، آپ نے طاعون کے بارے میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے؟ تو حضرت اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طاعون ایک قسم کا رجز یا عذاب ہے، جو بنی اسرائیل یا تم سے پہلے لوگوں پر بھیجا گیا، اس لیے جب تم کسی زمین میں اس کے موجود ہونے کے بارے میں سن لو تو وہاں نہ جاؤ، اور جب ایسی زمین میں پایا جائے، جہاں تم ہو تو اس سے ڈر کر نہ نکلوئ‘ ابو نضر کہتے ہیں، ”تمہیں اس سے فرار ہی نہ نکالے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5772]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2218
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2218 ترقیم شاملہ: -- 5773
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قالا: أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ ، وَنَسَبَهُ ابْنُ قَعْنَبٍ فَقَالَ: ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الطَّاعُونُ آيَةُ الرِّجْزِ ابْتَلَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ نَاسًا مِنْ عِبَادِهِ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَفِرُّوا مِنْهُ ". هَذَا حَدِيثُ الْقَعْنَبِيِّ وَقُتَيْبَةَ نَحْوُهُ.
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب اور قتیبہ بن سعید نے کہا: ہمیں مغیرہ بن عبدالرحمن قرشی نے ابونضر سے حدیث بیان کی، انہوں نے عامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طاعون عذاب کی علامت ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں کچھ لوگوں کو طاعون میں مبتلا کیا، جب تم طاعون کے بارے میں سنو تو وہاں مت جاؤ اور جب اس سرزمین میں طاعون واقع ہو جائے جہاں تم ہو تو وہاں سے مت بھاگو۔“ یہ قعنبی کی حدیث ہے، قتیبہ نے بھی اس طرح بیان کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5773]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طاعون، عذاب کی علامت ہے، اللہ عزوجل نے اپنے کچھ بندوں کو اس میں مبتلا کیا، سو جب تم اس کے بارے میں سنو تو وہاں نہ جاؤ، اور جب کسی ایسی جگہ واقع ہو جائے، جہاں تم ہو تو اس سے مت بھاگو۔“ یہ قعنبی کی روایت ہے اور قتیبہ کی بھی اس جیسی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5773]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2218
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2218 ترقیم شاملہ: -- 5774
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حدثنا أبى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أُسَامَةَ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رِجْزٌ سُلِّطَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَوْ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا فِرَارًا مِنْهُ، وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا ".
سفیان نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے عامر بن سعد سے، انہوں نے اسامہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ طاعون ایک عذاب ہے جو تم سے پہلے لوگوں پر مسلط کیا گیا تھا، یا (فرمایا:) بنی اسرائیل پر مسلط کیا گیا تھا، اگر یہ کسی علاقے میں ہو تو تم اس سے بھاگ کر وہاں سے نہ نکلنا اور اگر کسی (دوسری) سرزمین میں (طاعون) موجود ہو تو تم اس میں داخل نہ ہونا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5774]
حضرت اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ طاعون ایک عذاب ہے، جو تم سے پہلے لوگوں یا بنی اسرائیل پر مسلط کیا گیا، سو جب یہ کسی علاقہ میں ہو تو وہاں سے اس سے بھاگ کر نہ نکلو اور جب کسی جگہ ہو تو وہاں نہ جاؤ۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5774]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2218
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2218 ترقیم شاملہ: -- 5775
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ الطَّاعُونِ، فَقَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَا أُخْبِرُكَ عَنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ عَذَابٌ أَوْ رِجْزٌ أَرْسَلَهُ اللَّهُ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ نَاسٍ كَانُوا قَبْلَكُمْ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا عَلَيْهِ، وَإِذَا دَخَلَهَا عَلَيْكُمْ فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا فِرَارًا ".
ابن جریج نے کہا: مجھے عمرو بن دینار نے بتایا کہ عامر بن سعد نے انہیں خبر دی کہ کسی شخص نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما سے طاعون کے بارے میں سوال کیا تو (وہاں موجود) حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے کہا: میں تمہیں اس کے بارے میں بتاتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک عذاب یا سزا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر بھیجا تھا، یا (فرمایا:) ان لوگوں پر جو تم سے پہلے تھے، لہٰذا تم جب کسی سرزمین میں اس کے (پھیلنے کے) متعلق سنو تو اس میں اس کے ہوتے ہوئے داخل نہ ہونا اور جب یہ تم پر وارد ہو جائے تو اس سے بھاگ کر وہاں سے نہ نکلنا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5775]
حضرت عامر بن سعد بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ سے طاعون کے بارے میں دریافت کیا تو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہما کہنے لگے، اس کے بارے میں میں تمہیں بتاتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک عذاب اور دکھ ہے، جو اللہ نے بنی اسرائیل کے ایک گروہ یا تم سے پہلے کچھ لوگوں پر بھیجا، سو جب تم کسی زمین میں اس کا پایا جانا سنو تو وہاں نہ جاؤ اور جب یہ تمہارے علاقہ میں پڑ جائے تو اس سے بھاگتے ہوئے نہ نکلو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5775]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2218
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2218 ترقیم شاملہ: -- 5776
وحدثنا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِإِسْنَادِ ابْنِ جُرَيْجٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ.
حماد بن زید اور سفیان بن عیینہ دونوں نے عمرو بن دینار سے ابن جریج کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5776]
یہی روایت امام صاحب کو تین اور اساتذہ نے سنائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5776]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2218
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2218 ترقیم شاملہ: -- 5777
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ أَوِ السَّقَمَ رِجْزٌ عُذِّبَ بِهِ بَعْضُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ، ثُمَّ بَقِيَ بَعْدُ بِالْأَرْضِ فَيَذْهَبُ الْمَرَّةَ وَيَأْتِي الْأُخْرَى، فَمَنْ سَمِعَ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا يَقْدَمَنَّ عَلَيْهِ، وَمَنْ وَقَعَ بِأَرْضٍ وَهُوَ بِهَا فَلَا يُخْرِجَنَّهُ الْفِرَارُ مِنْهُ ".
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے عامر بن سعد سے خبر دی، انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بیماری (طاعون ایک) عذاب ہے جو تم سے پہلے ایک امت کو ہوا تھا۔ پھر وہ زمین میں رہ گیا۔ کبھی چلا جاتا ہے، کبھی پھر آتا ہے۔ لہٰذا جو کوئی کسی ملک میں سنے کہ وہاں طاعون ہے، تو وہ وہاں نہ جائے اور جب اس کے ملک میں طاعون نمودار ہو تو وہاں سے بھاگے بھی نہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5777]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ درد یا بیماری ایک عذاب ہے، جس سے تم سے پہلی بعض امتوں کو دکھ پہنچایا گیا، پھر بعد میں زمین میں رہ گیا، سو کبھی آ جاتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے تو جس نے کسی زمین میں اس کا پایا جانا سن لیا تو وہ وہاں نہ جائے اور جو ایسی زمین میں رہتا ہو، جہاں یہ وباء ہے تو اس سے فرار اختیار کرتے ہوئے بالکل نہ نکلے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5777]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2218
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2218 ترقیم شاملہ: -- 5778
وحدثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّبِإِسْنَادِ يُونُسَ نَحْوَ حَدِيثِهِ.
معمر نے زہری سے یونس کی سند کے ساتھ اسی (یونس) کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5778]
یہی روایت امام صاحب کو ایک اور استاد نے سنائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5778]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2218
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2218 ترقیم شاملہ: -- 5779
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، قال: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ، فَبَلَغَنِي أَنَّ الطَّاعُونَ قَدْ وَقَعَ بِالْكُوفَةِ، فَقَالَ لِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ وَغَيْرُهُ: إن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا كُنْتَ بِأَرْضٍ فَوَقَعَ بِهَا، فَلَا تَخْرُجْ مِنْهَا، وَإِذَا بَلَغَكَ أَنَّهُ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلْهَا "، قَالَ: قُلْتُ عَمَّنْ قَالُوا: عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ يُحَدِّثُ بِهِ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقَالُوا: غَائِبٌ، قَالَ: فَلَقِيتُ أَخَاهُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: شَهِدْتُ أُسَامَةَ يُحَدِّثُ سَعْدًا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ رِجْزٌ أَوْ عَذَابٌ أَوْ بَقِيَّةُ عَذَابٍ عُذِّبَ بِهِ أُنَاسٌ مِنْ قَبْلِكُمْ، فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا، وَإِذَا بَلَغَكُمْ أَنَّهُ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا "، قَالَ حَبِيبٌ: فَقُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ: آنْتَ سَمِعْتَ أُسَامَةَ يُحَدِّثُ سَعْدًا وَهُوَ لَا يُنْكِرُ، قَالَ: نَعَمْ.
ابن ابی عدی نے شعبہ سے انہوں نے حبیب (بن ابی ثابت اسدی) سے روایت کی، کہا: ہم مدینہ میں تھے تو مجھے خبر پہنچی کہ کوفہ میں طاعون پھیل گیا ہے تو عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ اور دوسرے لوگوں نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جب تم کسی سرزمین میں ہو اور وہاں طاعون پھیل جائے تو تم اس سرزمین سے مت نکلو اور جب تم کو یہ خبر پہنچے کہ وہ کسی سرزمین میں پھیل گیا ہے تو تم اس میں مت جاؤ۔“ کہا: میں نے پوچھا: (حدیث) کس سے روایت کی گئی؟ ان سب نے کہا: عامر بن سعد سے وہی یہ حدیث بیان کرتے تھے۔ کہا: تو میں ان کے ہاں پہنچا، ان کے (گھر کے) لوگوں نے کہا: وہ موجود نہیں، تو میں ان کے بھائی ابراہیم بن سعد سے ملا اور ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا: میں اسامہ رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا جب وہ (میرے والد) حضرت سعد رضی اللہ عنہما کو حدیث بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”یہ بیماری سزا اور عذاب ہے یا عذاب کا بقیہ حصہ ہے جس میں تم سے پہلے کے لوگوں کو مبتلا کیا گیا تھا۔ تو جب یہ کسی سرزمین میں پھیل جائے اور تم وہیں ہو تو وہاں سے باہر مت نکلو اور جب تمہیں خبر پہنچے کہ یہ کسی سرزمین میں ہے تو اس میں مت جاؤ۔“ حبیب نے کہا: میں نے ابراہیم (بن سعد) سے کہا: کیا آپ نے (خود) اسامہ رضی اللہ عنہما سے سنا تھا وہ حضرت سعد رضی اللہ عنہما کو یہ حدیث سنا رہے تھے اور وہ اس کا انکار نہیں کر رہے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5779]
حبیب بیان کرتے ہیں، ہم مدینہ میں تھے تو مجھے پتہ چلا کوفہ میں طاعون پڑ گیا ہے تو مجھے عطاء بن یسار اور دوسروں نے بتایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”جب تم کسی علاقہ میں ہو اور وہاں یہ پڑ جائے تو وہاں سے نہ نکلو اور جب تمہیں پتہ چل جائے کہ وہ کسی علاقہ میں ہے تو وہاں نہ جاؤ“ میں نے پوچھا، یہ روایت کس نے بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا یہ حدیث عامر بن سعد بیان کرتے ہیں، میں ان کے ہاں گیا تو بتایا گیا، وہ موجود نہیں ہے تو میں ان کے بھائی ابراہیم بن سعد کو ملا اور اس کے بارے میں اس سے پوچھا؟ اس نے کہا، میری موجودگی میں حضرت اسامہ ؓ نے حضرت سعد کو بتایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”یہ درد، رجز اور عذاب ہے، یا عذاب کا باقی حصہ ہے، جس سے تم سے پہلے لوگوں کو دکھ پہنچایا گیا، لہذا اگر یہ ایسے علاقہ میں ہو، جہاں تم موجود ہو تو وہاں سے نکلو نہیں اور جب تمہیں پتہ چلے کہ وہ کسی زمین (علاقہ) میں ہے تو وہاں نہ جاؤ“ حبیب کہتے ہیں، میں نے ابراہیم سے کہا، کیا آپ نے اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ کو سعد رضی اللہ تعالی عنہ کی یہ حدیث سناتے سنا ہے اور وہ انکار نہیں کر رہے تھے؟ اس نے کہا، ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5779]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2218
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2218 ترقیم شاملہ: -- 5780
وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ،
عبیداللہ بن معاذ کے والد نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث سنائی مگر انہوں نے حدیث کے آغاز میں عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5780]
یہی روایت امام صاحب کو ایک اور استاد نے سنائی، لیکن عطاء بن یسار والا ابتدائی واقعہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5780]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2218
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2218 ترقیم شاملہ: -- 5781
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالُوا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ،
سفیان نے حبیب سے، انہوں نے ابراہیم بن سعد سے، انہوں نے حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہما، حضرت حزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (آگے شعبہ کی حدیث کے ہم معنی ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5781]
امام صاحب یہی روایت، ابراہیم بن سعد، سعد بن مالک، خزیمہ بن ثابت اور اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہما سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5781]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2218
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة